آج کے ذرائع ابلاغ کے دور میں جھوٹ کو سچ بنانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آدھا واقعہ لیا جائے، اس میں قیاس آرائی ملائی جائے، اور پھر اسے مسلسل اس انداز میں دہرایا جائے کہ وہ حقیقت محسوس ہونے لگے۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کے بارے میں بھارتی میڈیا کے بعض حلقے یہی کھیل کھیل رہے ہیں۔ کبھی مالی ڈپازٹس کو سفارتی ناراضی کا ثبوت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، کبھی داخلی سیاسی حالات کو ابوظہبی کی مبینہ بے چینی سے جوڑ دیا جاتا ہے، اور کبھی سوشل میڈیا کی غیر مصدقہ ویڈیوز کو اس طرح اچھالا جاتا ہے جیسے دونوں ممالک کے تعلقات ٹوٹنے کے کنارے پر ہوں۔ مگر جب سرکاری بیانات، معاشی اعدادوشمار اور حالیہ سفارتی روابط کو سامنے رکھا جائے تو یہ شور محض سیاسی پروپیگنڈا دکھائی دیتا ہے، حقیقت نہیں۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے واضح طور پر کہا کہ یو اے ای کے مالی معاملات سے متعلق پھیلائی جانے والی تبصرہ آرائی گمراہ کن اور بے بنیاد ہے۔ یہ کوئی معمولی وضاحت نہیں تھی بلکہ ایک باضابطہ تردید تھی، جس کا مقصد اسی من گھڑت تاثر کو رد کرنا تھا کہ گویا یو اے ای نے پاکستان سے فاصلے بڑھا لیے ہیں۔ اسی طرح وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے بھی دوٹوک انداز میں کہا کہ یو اے ای کی طرف سے کسی ناراضی کے آثار موجود نہیں۔ جب ایک طرف دونوں ملکوں کے ذمہ دار عہدیدار تعلقات کی مضبوطی کی بات کر رہے ہوں اور دوسری طرف بھارتی ذرائع ابلاغ انہی تعلقات میں دراڑ تلاش کرنے پر تلے ہوں، تو سمجھنا مشکل نہیں رہتا کہ اصل مقصد خبر دینا نہیں بلکہ ایک مخصوص تاثر قائم کرنا ہے۔
بھارتی بیانیے کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ ثبوت سے زیادہ تاثر پر کھڑا ہے۔ اگر پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات واقعی سنگین کشیدگی کا شکار ہوتے، تو اس کا اثر سب سے پہلے تجارت، افرادی قوت، سرمایہ کاری اور سفارتی رابطوں پر پڑتا۔ مگر اعدادوشمار الٹ تصویر دکھاتے ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دوطرفہ تجارت ۱۰ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، اور مالی سال ۲۰۲۳۔۲۴ میں یہ حجم ۱۰.۹ ارب ڈالر سے اوپر رپورٹ ہوا۔ پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا، خدمات کے شعبے میں لین دین بڑھا، اور تجارتی خسارے میں بھی کمی دیکھی گئی۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب بھارتی میڈیا یہ تاثر دینے میں مصروف ہے کہ پاکستان خلیج میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو تعلقات تجارت، بندرگاہی تعاون، توانائی، خوراک، بینکاری اور خدماتی شعبے میں مسلسل آگے بڑھ رہے ہوں، انہیں چند ٹی وی مباحثوں یا بے بنیاد خبروں سے کمزور ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح ترسیلاتِ زر کا پہلو بھی بھارتی دعووں کی نفی کرتا ہے۔ یو اے ای پاکستان کے لیے صرف سفارتی شراکت دار نہیں بلکہ ایک اہم معاشی ستون بھی ہے۔ ۲۰۲۴ میں یو اے ای سے پاکستان آنے والی ترسیلاتِ زر ۶.۷ ارب ڈالر تک پہنچیں، جبکہ اس سے اگلے عرصے کے لیے مزید اضافے کی توقع ظاہر کی گئی۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد بھی دکھاتے ہیں کہ یو اے ای سے آنے والی رقوم میں نمایاں سالانہ اضافہ ہوا۔ اگر یو اے ای واقعی پاکستان سے ناراض ہوتا، اگر وہاں پاکستانیوں کے لیے ماحول بگڑ چکا ہوتا، اور اگر بڑے پیمانے پر منظم سطح پر رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہوتیں، تو ترسیلاتِ زر میں یہ استحکام اور اضافہ دکھائی نہ دیتا۔ معاشی اعدادوشمار جذباتی نعروں سے زیادہ قابلِ اعتبار ہوتے ہیں، اور یہی اعداد بھارت کے بیانیے کی کمزوری ظاہر کر رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا نے ایک اور خطرناک حربہ یہ اپنایا کہ یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے بارے میں خوف اور غیر یقینی کا ماحول پیدا کیا جائے۔ کبھی اجتماعی بے دخلی کا تاثر دیا جاتا ہے، کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستانی وہاں محفوظ نہیں رہے، اور کبھی ویزا معاملات کو اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے جیسے دروازے بند ہو چکے ہوں۔ مگر زمینی حقیقت اس سے مختلف ہے۔ یو اے ای میں پاکستانی برادری کا حجم تقریباً ۱۷ لاکھ بتایا جاتا ہے، اور یہ وہاں کی دوسری بڑی غیر ملکی آبادیوں میں شمار ہوتی ہے۔ وہ تعمیرات، تجارت، ٹرانسپورٹ، خدمات، صحت، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسی بڑی اور گہری انسانی موجودگی کو نظرانداز کر کے یہ کہنا کہ پاکستانی اب وہاں ناپسندیدہ ہیں، نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ حقائق کے خلاف بھی ہے۔
یہ بات درست ہے کہ ہر ملک اپنی امیگریشن پالیسی، دستاویزی جانچ اور قانونی تقاضوں میں وقتاً فوقتاً سختی یا نرمی کرتا ہے۔ یو اے ای بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ مگر انتظامی جانچ کو سیاسی دشمنی قرار دینا بدنیتی ہے۔ یو اے ای کی سرکاری معلوماتی ویب گاہوں پر ویزا اور رہائشی نظام بدستور واضح اور فعال ہے، اور پاکستانی حکام بھی بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستانیوں کے لیے ریاستی سطح پر کوئی ایسا اقدام موجود نہیں جو اس تعلق کو دشمنی میں بدلتا ہو۔ اس کے باوجود بھارتی میڈیا کے بعض حلقے ہر انفرادی یا محدود نوعیت کے مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پورے دوطرفہ تعلق کی شکل دے دیتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت ختم اور پروپیگنڈا شروع ہوتا ہے۔
اگر کوئی ملک دوسرے ملک سے واقعی ناراض ہو، تو اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور مشترکہ بیانات میں اس ناراضی کے آثار ضرور ملتے ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے حالیہ روابط میں اس کے برعکس سرمایہ کاری، توانائی، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، بندرگاہی تعاون اور عوامی روابط کو مرکزیت حاصل رہی ہے۔ سرکاری سطح پر جاری ہونے والے بیانات میں یہی نکات نمایاں رہے ہیں۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تناظر میں بھی یو اے ای کی دلچسپی سرمایہ کاری کے مواقع سے جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تعلقات واقعی کشیدہ ہوتے تو کیا دونوں ممالک اپنے روابط کا محور اقتصادی منصوبوں، ترقیاتی شعبوں اور باہمی سرمایہ کاری کو بناتے؟ ظاہر ہے نہیں۔ سفارتی ناراضی کی زبان اور ہوتی ہے، جبکہ یہاں تعاون کی زبان مسلسل سنائی دے رہی ہے۔
اصل میں بھارتی میڈیا کے ایک طبقے کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کو کسی بھی صورت میں علاقائی سطح پر معمول کے تعلقات کا حامل ملک دکھانا نہیں چاہتا۔ اسے ہر خبر میں تنہائی چاہیے، ہر رابطے میں دراڑ چاہیے، اور ہر معمول کے واقعے میں بحران چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات کے معاملے میں بھی حقیقت سے زیادہ خواہش بولتی نظر آتی ہے۔ مگر ریاستی روابط خواہشات سے نہیں ٹوٹتے۔ وہ مفادات، باہمی اعتماد، معاشی ضرورت، جغرافیائی اہمیت اور عوامی روابط کی بنیاد پر قائم رہتے ہیں۔ پاکستان اور یو اے ای کے تعلقات انہی ستونوں پر کھڑے ہیں، اسی لیے بھارتی پروپیگنڈا جتنا بھی شور مچا لے، وہ ان تعلقات کی اصل ساخت کو بدل نہیں سکتا۔
آخری بات یہ ہے کہ پاکستان کو اس جھوٹے بیانیے کا جواب صرف ردِعمل سے نہیں بلکہ ریکارڈ، اعدادوشمار اور مستقل سفارتی اعتماد سے دینا چاہیے۔ جب تجارت بڑھ رہی ہو، ترسیلاتِ زر مضبوط ہوں، لاکھوں پاکستانی یو اے ای کی معیشت کا حصہ ہوں، اور اعلیٰ سطحی روابط میں سرمایہ کاری اور تعاون زیرِ بحث ہو، تو “تعلقات میں ٹوٹ پھوٹ” کا دعویٰ محض سیاسی افسانہ بن جاتا ہے۔ بھارت کا یہ من گھڑت پروپیگنڈا اسی لیے ناکام ہے کہ اس کے سامنے حقیقت کا بوجھ کہیں زیادہ بھاری ہے۔ جھوٹ کی عمر ہمیشہ مختصر ہوتی ہے، خاص طور پر وہاں جہاں دستاویزی شواہد زندہ ہوں، ریاستی مؤقف واضح ہو، اور باہمی مفادات روزمرہ کی سطح پر سانس لے رہے ہوں۔
Author
-
View all postsانیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل: