Nigah

پاکستان کی بڑی سفارتی جیت

[post-views]

پاکستان کی حالیہ سفارتی پیش رفت کو اگر گزشتہ چند برسوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسلام آباد نے ایک ایسے لمحے میں غیر معمولی سیاسی اور سفارتی وزن دکھایا ہے جب خطہ شدید بے یقینی، عسکری تناؤ اور بڑے تصادم کے خطرات سے دوچار تھا۔ امریکی ماہرِ جنوبی ایشیا مائیکل کگلمین کا یہ کہنا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں کی اپنی سب سے بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے، محض ایک رسمی تعریف نہیں بلکہ ایک بڑی تبدیلی کے اعتراف کے مترادف ہے۔ اس بیان کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ کسی پاکستانی عہدیدار یا مقامی تجزیہ کار کی طرف سے نہیں بلکہ ایک ایسے غیر ملکی مبصر کی جانب سے آیا ہے جو جنوبی ایشیا کی سیاست، طاقت کے توازن اور خطے کی نزاکتوں کو قریب سے دیکھتا رہا ہے۔ جب ایک بیرونی ماہر یہ کہتا ہے کہ پاکستان نے ناقدین اور شکوک رکھنے والوں کو غلط ثابت کر دیا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان نے صرف ایک سفارتی رابطہ نہیں کیا بلکہ اپنی ریاستی صلاحیت، سیاسی سنجیدگی اور علاقائی افادیت کو بھی ثابت کیا ہے۔

یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ ایک طویل عرصے سے پاکستان کے بارے میں یہ تاثر پھیلایا جاتا رہا کہ وہ پیچیدہ اور اعلیٰ سطحی عالمی امور میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ کبھی داخلی سیاسی عدم استحکام کا حوالہ دیا گیا، کبھی معاشی دباؤ کو اس کے مؤثر خارجہ کردار میں رکاوٹ قرار دیا گیا، اور کبھی یہ کہا گیا کہ پاکستان کی سفارت کاری ردعمل تک محدود ہو چکی ہے۔ مگر ایسے وقت میں جب ایک بڑی طاقت کے سربراہ نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی درخواست قبول کرتے ہوئے دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی، یہ واضح ہو گیا کہ پاکستان اب بھی ایسا ملک ہے جس کی بات سنی جاتی ہے، جس کی مداخلت کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، اور جو صرف اپنے دفاعی یا جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی سفارتی فعالیت کے سبب بھی اہم ہے۔ یہ محض ایک فون کال، ایک پیغام یا ایک رسمی اپیل کا نتیجہ نہیں ہو سکتا؛ اس کے پیچھے اعتماد، روابط، وقت کی درست سمجھ اور حالات کے حساس ادراک کی پوری صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

اس پیش رفت کا سب سے اہم پہلو وہ ہے جس کی نشاندہی خود مائیکل کگلمین نے کی، یعنی ایران میں ایک ممکنہ تباہی کو ٹالنے میں مدد۔ مشرقِ وسطیٰ اور اس سے ملحقہ خطہ پہلے ہی کئی بحرانوں کی زد میں رہا ہے۔ اگر ایران کے حوالے سے کشیدگی مزید بڑھتی، تو اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہ رہتے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا تھا۔ توانائی کی منڈیاں ہل جاتیں، سمندری راستے غیر محفوظ ہوتے، عالمی طاقتیں مزید تقسیم ہو جاتیں اور پڑوسی ممالک پر سیاسی، معاشی اور سکیورٹی دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا۔ پاکستان ایسے تمام ممکنہ نتائج سے بخوبی آگاہ ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ اس کی سرحد، مذہبی و ثقافتی روابط، علاقائی سیاست میں مشترک مفادات اور خطے میں عدم استحکام کے براہِ راست اثرات اسے مجبور کرتے ہیں کہ وہ محض تماشائی نہ رہے۔ اسی لیے اگر پاکستان نے بروقت مداخلت کر کے تناؤ میں کمی کی راہ نکالی، تو یہ نہ صرف اس کی سفارتی مہارت بلکہ اس کے ذمہ دار علاقائی کردار کا بھی ثبوت ہے۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اکثر یہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ یا تو ردعمل پر مبنی رہتی ہے یا عالمی معاملات میں اپنی آواز پوری قوت سے بلند نہیں کر پاتی۔ مگر حالیہ پیش رفت نے اس تصور کو کمزور کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اگر سیاسی قیادت واضح مقصد، بروقت حکمتِ عملی اور موزوں سفارتی زبان کے ساتھ آگے بڑھے تو پاکستان نہ صرف اپنی بات منوا سکتا ہے بلکہ کشیدہ حالات میں مصالحت کار یا سہولت کار کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ملک کی اصل سفارتی قدر سامنے آتی ہے۔ بڑی سفارت کاری صرف بڑے بیانات سے نہیں بنتی؛ یہ اس صلاحیت سے بنتی ہے کہ آپ مختلف طاقت مراکز سے بیک وقت بات کر سکیں، اپنے علاقائی مفادات کو عالمی تشویش کے ساتھ جوڑ سکیں اور ایسے لمحے میں ایک قابلِ قبول راستہ پیش کر سکیں جب باقی سب فریق تصادم کی نفسیات میں گرفتار ہوں۔

وزیرِاعظم شہباز شریف کے لیے بھی یہ موقع سیاسی اور سفارتی دونوں حوالوں سے اہم ہے۔ داخلی سطح پر ان کی حکومت کو معیشت، سیاست اور عوامی توقعات جیسے مشکل چیلنجز کا سامنا رہا ہے، لیکن خارجہ محاذ پر اس نوعیت کی کامیابی یہ تاثر پیدا کرتی ہے کہ حکومت صرف داخلی بحرانوں سے نمٹنے میں مصروف نہیں بلکہ علاقائی امن و استحکام میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم اس کامیابی کو محض شخصی فتح بنا کر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ یہ ریاستی اداروں، سفارتی مشینری، پالیسی مشاورت، بین الاقوامی روابط اور قومی مفاد کے ایک نسبتاً ہم آہنگ اظہار کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اس کامیابی کو مستقل سفارتی سرمایہ بنانا ہے تو اسے ادارہ جاتی بنیادوں پر آگے بڑھایا جانا چاہیے، تاکہ یہ ایک وقتی واقعہ نہ رہے بلکہ پاکستان کی نئی خارجہ شناخت کا حصہ بن جائے۔

پاکستان کے ناقدین کے لیے یہ لمحہ یقیناً غیر متوقع ہوگا۔ ایک عرصے سے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی افادیت محدود ہو چکی ہے اور بڑے فیصلوں میں اس کا کردار کمزور پڑ گیا ہے۔ لیکن حالیہ پیش رفت نے ثابت کیا کہ بین الاقوامی سیاست میں کسی ملک کی اہمیت صرف اس کی معیشت یا عسکری طاقت سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کی سفارتی رسائی، علاقائی واقفیت اور بحرانوں کے دوران قابلِ اعتماد رابطہ بننے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ پاکستان نے شاید پہلی بار نہیں، مگر ایک طویل وقفے کے بعد بھرپور انداز میں یاد دلایا ہے کہ وہ ایک ایسا ملک ہے جسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔ جب حالات بگڑتے ہیں، جب رابطے منقطع ہونے لگتے ہیں، اور جب کسی کو ایسے فریق کی ضرورت ہوتی ہے جو تناؤ کم کرنے میں مدد دے سکے، تو پاکستان اب بھی ایک مفید اور معتبر کردار ادا کر سکتا ہے۔

تاہم یہ کامیابی جتنی خوش آئند ہے، اتنی ہی ذمہ داری بھی اپنے ساتھ لاتی ہے۔ سفارتی فتح کا اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اگر پاکستان واقعی اس لمحے کو اپنی بڑی کامیابی میں بدلنا چاہتا ہے تو اسے محض تعریفوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس موقع کو ایک وسیع تر سفارتی حکمتِ عملی میں ڈھالنا ہوگا۔ ایران، خلیج، امریکہ، چین، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے ساتھ تعلقات میں توازن، اعتماد اور باقاعدہ مکالمے کے دروازے مزید مضبوط کرنا ہوں گے۔ پاکستان کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عالمی برادری اسی ملک کو سنجیدگی سے لیتی ہے جو اندرونی استحکام، معاشی سنبھال اور پالیسی کے تسلسل کا مظاہرہ کرے۔ اگر داخلی انتشار غالب آ جائے تو خارجی کامیابیاں دیرپا نہیں رہتیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ایک امریکی ماہر کھل کر یہ اعتراف کر رہا ہے کہ پاکستان نے اپنے ناقدین کو غلط ثابت کیا اور ایک ممکنہ تباہی کو روکنے میں مدد دی، تو یہ معمولی واقعہ نہیں۔ یہ پاکستان کے لیے ایک یاد دہانی بھی ہے اور ایک موقع بھی کہ وہ اپنے سفارتی امکانات کو دوبارہ دریافت کرے۔ اس واقعے نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان صرف بحرانوں کا شکار ملک نہیں، بلکہ بحرانوں کے حل میں شریک ملک بھی بن سکتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کامیابی کو قومی خود اعتمادی، بہتر خارجہ پالیسی اور خطے میں امن کے مستقل وژن میں تبدیل کیا جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ صرف ایک وقتی سفارتی کامیابی نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کے بین الاقوامی کردار کی نئی تعریف بن سکتی ہے۔

Author

  • ڈاکٹر اکرام احمد

    اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔