غزہ میں اسرائیلی جارحیت نے دنیا کے سامنے صرف اسرائیل کا چہرہ بے نقاب نہیں کیا بلکہ ان ریاستوں کو بھی واضح کر دیا ہے جو اس طاقت، اسلحے، سفارتی خاموشی اور نظریاتی حمایت کے ذریعے اسرائیل کو مضبوط بناتی ہیں۔ بھارت اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نئی دہلی خود کو اکثر ایک متوازن عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر اسرائیل کے ساتھ اس کے دفاعی، سیاسی، نظریاتی اور ثقافتی تعلقات اس دعوے کو کمزور کرتے ہیں۔ جب ایک ریاست اسرائیل سے بڑے پیمانے پر اسلحہ خریدتی ہے، اس کی سکیورٹی حکمتِ عملی سے متاثر ہوتی ہے، اور اس کے سابق فوجیوں کو اپنے سیاحتی علاقوں میں سماجی پناہ دیتی ہے، تو وہ غزہ کی تباہی سے خود کو الگ نہیں کر سکتی۔
بھارت اور اسرائیل کا دفاعی تعلق معمولی نہیں۔ بھارت اسرائیل کے بڑے اسلحہ خریداروں میں شامل ہے۔ میزائل، ڈرون، نگرانی کے آلات، سرحدی ٹیکنالوجی اور جدید سکیورٹی نظام دونوں ممالک کے درمیان مسلسل منتقل ہوتے رہے ہیں۔ ان سودوں کو بھارت قومی سلامتی کے نام پر پیش کرتا ہے، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی اسلحہ صنعت فلسطینی سرزمین سے الگ نہیں۔ اسرائیلی ٹیکنالوجی کو اکثر “جنگ آزمودہ” بنا کر فروخت کیا جاتا ہے، اور ناقدین کے مطابق اس جنگ آزمائی کا میدان غزہ، مغربی کنارہ اور فلسطینی آبادی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطینیوں پر استعمال ہونے والی طاقت بعد میں تجارتی مال بن جاتی ہے، جسے بھارت جیسے ممالک خریدتے ہیں۔
یہی مقام ہے جہاں کشمیر کا سوال سامنے آتا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے کارکن، انسانی حقوق کے حلقے اور کئی دانشور یہ کہتے ہیں کہ بھارت اسرائیلی ماڈل سے متاثر ہے۔ دونوں خطوں کی تاریخ الگ ہے، مگر کنٹرول کے طریقوں میں مماثلت دیکھی جاتی ہے۔ فلسطین میں محاصرہ، چیک پوسٹیں، ڈرون نگرانی، گھروں کی مسماری، آبادیاتی تبدیلیوں کا خوف اور فوجی کارروائیاں ہیں۔ کشمیر میں بھی نگرانی، انٹرنیٹ بندش، میڈیا پر پابندیاں، نقل و حرکت کی رکاوٹیں، پیلٹ گنز، ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات، گھروں کی مسماری اور آرٹیکل 370 کے بعد قانونی و آبادیاتی تبدیلیوں کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے بہت سے ناقدین اسے “اسرائیلی ماڈل” کی بھارتی شکل قرار دیتے ہیں۔
بھارت اور اسرائیل کو صرف دفاعی مفاد نہیں جوڑتا؛ انہیں ایک مشترک نظریاتی سوچ بھی قریب لاتی ہے۔ نریندر مودی کا بھارت اور بنیامین نیتن یاہو کا اسرائیل دونوں اکثریتی قوم پرستی کی سیاست کرتے ہیں۔ دونوں اپنے آپ کو ایک قدیم تہذیب کا محافظ دکھاتے ہیں۔ دونوں اپنے معاشروں میں مسلمانوں کو شک، خطرے اور سلامتی کے مسئلے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اسرائیل فلسطینیوں کو دہشت گردی، آبادیاتی خطرے اور قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دکھاتا ہے۔ بھارت میں مسلمان، کشمیری اور اختلافی آوازیں اسی طرح وفاداری کے امتحان اور سکیورٹی شبہے کا شکار بنتی ہیں۔ یہ مشترک اسلاموفوبک سوچ دونوں ریاستوں کے تعلق کو معمول کی خارجہ پالیسی سے کہیں آگے لے جاتی ہے۔
اس گٹھ جوڑ کا ایک سماجی پہلو بھی ہے جو بھارت کے سیاحتی علاقوں میں نظر آتا ہے۔ ہر سال ہزاروں نہیں بلکہ دسیوں ہزار اسرائیلی بھارت آتے ہیں، جن میں بڑی تعداد ان نوجوانوں کی ہوتی ہے جو لازمی فوجی سروس مکمل کر کے “بگ ٹرپ” پر نکلتے ہیں۔ کاسول، دھرم کوٹ، گوا، پشکر اور وارانسی جیسے مقامات اسرائیلی سیاحوں، خاص طور پر سابق فوجیوں، کے لیے معروف ہیں۔ یہ سفر بظاہر روحانی سکون، تفریح اور آزادی کی تلاش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر غزہ کے پس منظر میں اس کا سیاسی مطلب بدل جاتا ہے۔
دھرم کوٹ کو اکثر “منی اسرائیل” کہا جاتا ہے۔ وہاں عبرانی زبان کے بورڈ، اسرائیلی طرز کے کیفے، اسرائیلی کھانے، اسٹیکرز اور ثقافتی علامتیں عام دکھائی دیتی ہیں۔ پشکر میں دکاندار بنیادی عبرانی بولتے ہیں، وارانسی میں مینو اسرائیلی ذوق کے مطابق بدلتے ہیں، گوا میں پارٹی سرکٹس اسرائیلی نوجوانوں کو کھینچتے ہیں، اور کاسول اسرائیلی بیک پیکر ثقافت سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ عام سیاحت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ جب غزہ میں فلسطینی بچے ملبے تلے دب رہے ہوں، تو اسرائیلی فوجی سماج کے لیے بھارت کا یہ آرام دہ ماحول کیا پیغام دیتا ہے؟
مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی غیر ملکی بھارت کیوں آتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیلی عسکری شناخت کو معمول بنا دیا گیا ہے۔ ایک نوجوان جو اسرائیلی فوجی نظام کا حصہ رہ چکا ہے، وہ بھارت آ کر روحانیت، موسیقی، منشیات، پہاڑوں اور ساحلوں میں گم ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف فلسطینی نوجوان محاصرے، ڈرون، بمباری اور بے دخلی کے سائے میں زندہ رہتا ہے۔ ایک کو دنیا “ٹریولر” کہتی ہے، دوسرے کو “سکیورٹی تھریٹ”۔ یہی عالمی ناانصافی ہے، اور بھارت اس ناانصافی کا میزبان بھی ہے اور خریدار بھی۔
بھارت کی غزہ میں شراکت صرف خاموشی نہیں۔ یہ شراکت اسلحے کی خریداری میں ہے، اسرائیلی ٹیکنالوجی پر انحصار میں ہے، کشمیر میں سخت گیر سکیورٹی پالیسیوں میں ہے، اور اس سماجی ماحول میں ہے جہاں اسرائیلی سابق فوجی بغیر کسی اخلاقی سوال کے خوش آمدید کہے جاتے ہیں۔ جو ریاست اسرائیل کی فوجی صنعت کو سرمایہ دیتی ہے، اس کے طریقۂ کار سے سیکھتی ہے، اور اس کی فوجی ثقافت کو اپنے اندر جگہ دیتی ہے، وہ خود کو غیر جانبدار نہیں کہہ سکتی۔
غزہ کی تباہی صرف اسرائیلی بموں کا نتیجہ نہیں؛ یہ ان عالمی اتحادوں کا نتیجہ بھی ہے جو اسرائیل کو طاقت، اعتماد، پیسہ اور سیاسی ڈھال فراہم کرتے ہیں۔ بھارت ان اتحادوں میں شامل ہے۔ اگر دنیا واقعی غزہ کے ساتھ کھڑی ہونا چاہتی ہے تو اسے صرف تل ابیب پر نہیں بلکہ ان دارالحکومتوں پر بھی سوال اٹھانا ہوگا جو اسرائیل کو مضبوط کرتے ہیں۔ نئی دہلی ان میں نمایاں ہے۔ بھارت کی اسرائیل نوازی فلسطین کے خلاف بھی ہے اور کشمیر کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے۔ غزہ اور کشمیر جغرافیائی طور پر دور سہی، مگر ان پر مسلط منطق ایک جیسی ہے: قبضہ، نگرانی، خوف اور خاموشی۔ یہی بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کی اصل حقیقت ہ
Author
-
View all posts
مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔