سہیل آفریدی کا حالیہ بیانیہ حقائق کے سنجیدہ ادراک سے زیادہ جذباتی سیاست کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔ خیبرپختونخوا جیسے حساس صوبے میں، جہاں عوام نے دہائیوں تک دہشت گردی، بدامنی، نقل مکانی اور معاشی تباہی کی قیمت ادا کی، وہاں قیادت سے توقع ہوتی ہے کہ وہ حالات کو ذمہ داری، توازن اور قومی مفاد کے تناظر میں دیکھے۔ مگر افسوس کہ بعض سیاسی حلقے ہر مسئلے کو ریاست مخالف جذبات، صوبائیت اور اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طرز سیاست نہ قبائلی عوام کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے، نہ صوبے کو امن دیتا ہے، بلکہ دہشت گردوں کے بیانیے کو تقویت پہنچاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی اور دراندازی کا بڑا خطرہ افغان سرزمین سے سرگرم نیٹ ورکس اور افغان طالبان کی پالیسیوں سے جڑا ہوا ہے۔ سرحد پار سے دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت، سہولت کاری، پناہ گاہیں اور بعض مواقع پر مارٹر گولہ باری کوئی خیالی بات نہیں۔ وزیرستان سمیت کئی علاقوں میں عام شہری بھی اس عدم استحکام کا نشانہ بنے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ ہر معاملے میں ریاستی اداروں کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں، وہ افغان طالبان کے کردار پر خاموش کیوں رہتے ہیں؟ کیا افغان طالبان سے سیاسی یا نظریاتی ہمدردی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ معصوم شہریوں کے دکھ بھی پس منظر میں چلے جائیں؟
سیکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج اور سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد کسی سیاسی جماعت کو فائدہ یا نقصان پہنچانا نہیں بلکہ شہریوں، بازاروں، اسکولوں، مساجد، چوکیوں اور سرحدی آبادیوں کو دہشت گردی سے محفوظ بنانا ہے۔ ایسے میں جب دہشت گرد جدید ذرائع، بشمول ڈرونز، کو حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہوں، تو ہر واقعے کی ذمہ داری بغیر تحقیق سیکیورٹی فورسز پر ڈال دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ یہ رویہ دہشت گردوں کے جھوٹے پروپیگنڈے کو تقویت دیتا ہے اور عوام کو ریاست کے خلاف بھڑکانے کی کوشش بن جاتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب بھی تحریک انصاف یا اس کی صوبائی قیادت کی کارکردگی پر سوال اٹھتے ہیں، تو جذباتی بیانیہ سامنے لے آیا جاتا ہے۔ عوام پوچھتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں گورننس کہاں ہے؟ صحت، تعلیم، روزگار، امن و امان اور مقامی انتظامیہ کی کارکردگی پر جواب کیوں نہیں دیا جاتا؟ صوبے کے وسائل، پولیس اصلاحات، ترقیاتی منصوبے اور عوامی ریلیف پر بات کرنے کے بجائے قومی اداروں کو نشانہ بنانا ایک آسان سیاسی راستہ ہے، مگر یہ راستہ صوبے کو استحکام نہیں دے سکتا۔
قبائلی عوام نے دہشت گردی کی سب سے بڑی قیمت چکائی ہے۔ انہوں نے اپنے گھر چھوڑے، کاروبار کھوئے، عزیزوں کی لاشیں اٹھائیں اور سالہا سال خوف کے ماحول میں زندگی گزاری۔ آج ان عوام کو مزید اشتعال، تقسیم اور نفرت نہیں چاہیے۔ انہیں امن، روزگار، تعلیم، صحت، تحفظ اور باعزت زندگی چاہیے۔ جو سیاست قبائلی عوام کے درد کو ریاست کے خلاف غصہ پیدا کرنے کے لیے استعمال کرے، وہ ان کے ساتھ انصاف نہیں بلکہ ان کے زخموں کی تجارت ہے۔
کور کمانڈر ہاؤس، جی ایچ کیو اور گورنر ہاؤس کی مثالیں دے کر قومی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنا نہایت خطرناک رجحان ہے۔ یہ وہی ذہنیت ہے جو نو مئی جیسے واقعات کے پیچھے دکھائی دی، جب سیاسی اشتعال نے ریاستی علامات کو نشانہ بنانے کی صورت اختیار کی۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حصہ ہے، مگر اداروں کے خلاف منظم نفرت، عوام کو تصادم کی طرف دھکیلنا اور ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش کسی بھی صورت ذمہ دارانہ سیاست نہیں کہلا سکتی۔
دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ یہ جنگ کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک ادارے کی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی بقا کی جنگ ہے۔ اگر سیاسی قیادت دہشت گردی جیسے حساس مسئلے پر بھی ابہام پیدا کرے گی، تو فائدہ صرف ان عناصر کو ہوگا جو پاکستان کو اندر سے کمزور دیکھنا چاہتے ہیں۔ صوبائیت، ریاست مخالف جذبات اور ادارہ دشمنی کو ہوا دینا نہ قبائل کے حق میں ہے، نہ خیبرپختونخوا کے مفاد میں۔
پاکستان اس وقت سفارتی اور دفاعی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔ ایسے موقع پر اندرونی تقسیم، شکوک و شبہات اور نفرت انگیز بیانیے کو فروغ دینا سوالات کو جنم دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستان دشمن عناصر کو مواد فراہم کرنا آخر کس بیانیے کی خدمت ہے؟ قوم یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف واضح موقف اختیار کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کو نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔
افواج پاکستان، سول قیادت اور قومی اداروں کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ماضی میں ناکام ہوئی ہے اور آئندہ بھی ناکام ہوگی۔ عوام جانتے ہیں کہ امن، استحکام اور ترقی انتشار سے نہیں آتے۔ یہ ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے، دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اپنانے اور ذمہ دارانہ سیاست سے آتے ہیں۔ سہیل آفریدی اور ان جیسے سیاست دانوں کو سمجھنا ہوگا کہ خیبرپختونخوا کو جذباتی نعروں کی نہیں، سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہے۔ امن کے نام پر ابہام، حقوق کے نام پر نفرت اور سیاست کے نام پر ریاست مخالف بیانیہ عوام کے مسائل کا حل نہیں۔ حقیقی قیادت وہ ہے جو دہشت گردی کو دہشت گردی کہے، دشمن کو دشمن سمجھے اور عوام کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرے۔
Author
-
View all posts
ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔