برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں سے 6 جون 2026 کو بھیجا گیا خط پارلیمانی حیثیت اور حقیقی تشویش دونوں کا حامل ہے۔ آل پارٹی پارلیمانی گروپ برائے کشمیر کے چیئرمین عمران حسین ایم پی کی قیادت میں تیس سے زائد برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ نے وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کو خط لکھ کر آزاد جموں و کشمیر میں مبینہ مواصلاتی پابندیوں اور گرفتاریوں پر سفارتی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانیہ میں مقیم کشمیریوں کی اپنے عزیزوں سے رابطے میں مشکلات پر تشویش قابلِ فہم ہے اور خطے سے ان کی جذباتی وابستگی بھی ایک حقیقت ہے۔ تاہم نیک نیتی اور مکمل حقائق ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔ آزاد کشمیر کے موجودہ بحران جیسے حساس حالات میں یہ فرق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ زمینی حقائق کیا ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) ستمبر 2023 میں تاجروں، وکلاء، ٹرانسپورٹرز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے اتحاد کے طور پر وجود میں آئی۔ اس نے بجلی کے زیادہ نرخوں، سبسڈی والے آٹے، اشرافیہ کی مراعات اور طرزِ حکمرانی میں اصلاحات جیسے جائز مطالبات پر احتجاجی تحریکیں چلائیں۔ ان مطالبات کو عوامی حمایت بھی حاصل رہی۔
حکومتِ پاکستان اور آزاد کشمیر حکومت دونوں نے ان مطالبات کو تسلیم کیا اور ان پر عملدرآمد کے لیے اقدامات کیے۔ 2024 کے احتجاجی مرحلے میں حکومت نے 23 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان کیا، آٹے پر سبسڈی دی اور بجلی کے نرخ کم کیے۔ 2025 کی ہڑتالوں کے دوران بھی مذاکرات کے بعد بیشتر مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔
چند روز قبل جاری ہونے والی ایک سرکاری پیش رفت رپورٹ کے مطابق JAAC کے 44 مطالبات میں سے 24 مکمل طور پر نافذ کیے جا چکے ہیں، 16 پر جزوی یا جاری عملدرآمد ہو رہا ہے، جبکہ صرف 4 مطالبات ایسے ہیں جو یا تو عملی رکاوٹوں کا شکار ہیں یا قابلِ عمل نہیں سمجھے گئے۔
یہ کسی ایسی حکومت کی تصویر نہیں جو عوامی مطالبات کو نظر انداز کر رہی ہو۔ بلکہ یہ ایک ایسی حکومت کی عکاسی کرتا ہے جس نے بارہا مفاہمت اور تعاون کا مظاہرہ کیا۔
اس کے باوجود احتجاج ختم نہیں ہوئے۔ JAAC نے 9 جون 2026 کو ایک بڑے مارچ کا اعلان کیا۔ آزاد کشمیر حکومت نے ممکنہ تشدد، اسلحہ کے حصول اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں سے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے 5 جون کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ محض ایک پرامن احتجاج نہیں تھا بلکہ ایک سنگین تصادم کی صورت اختیار کر گیا۔ راولاکوٹ، ضلع پونچھ میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 11 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 4 قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی شامل تھے جبکہ ستر سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
سکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ بعض عناصر نے منصوبہ بندی کے تحت اہلکاروں پر فائرنگ کی اور کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کا محاصرہ کیا۔ دوسری جانب JAAC اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کرتی ہے کہ پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی۔
آزادانہ تصدیق اس وقت مشکل ہے کیونکہ مواصلاتی رکاوٹیں موجود ہیں۔ یہی حقیقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیرونی حلقوں کی جانب سے کسی ایک نتیجے پر فوری پہنچ جانا مناسب نہیں۔
اسی پیچیدہ پس منظر میں برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کا خط سامنے آتا ہے۔ اس میں نیت نیک ہو سکتی ہے لیکن تصویر مکمل نہیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے "فوری طور پر ناکہ بندی ختم کرنے”، "مواصلاتی رابطے بحال کرنے” اور JAAC کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مطالبات اپنی جگہ قابلِ غور ہیں، مگر ان میں ان متعدد اقدامات کا ذکر نہیں کیا گیا جو حکومت پہلے ہی کر چکی ہے۔
خط میں یہ بھی شامل نہیں کہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے حالیہ فیصلے میں واضح کیا کہ 12 مہاجر نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں محض انتظامی یا حکومتی فیصلے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اسی طرح یہ بھی نظرانداز کیا گیا کہ حکومت کی جانب سے احتجاج ملتوی کرنے کی درخواست کے باوجود JAAC نے اپنا مارچ جاری رکھنے پر اصرار کیا۔
مزید یہ کہ جھڑپوں میں جان گنوانے والے چار قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا ذکر بھی اس خط میں موجود نہیں، حالانکہ وہ بھی اسی خطے کے شہری، خاندانوں کے سربراہ اور معاشرے کے افراد تھے۔
جب بیشتر جائز مطالبات پورے ہو چکے ہوں اور باقی معاملات آئینی یا قانونی حدود سے جڑے ہوں تو مسلسل ہڑتالیں، سڑکوں کی بندش اور تعلیمی، طبی و کاروباری سرگرمیوں میں خلل پیدا ہونا لازماً سوالات کو جنم دیتا ہے۔
آزاد کشمیر کے عام شہری جو روزگار، تعلیم، علاج اور معمولاتِ زندگی کی بحالی چاہتے ہیں، وہ بھی اسی بحث کا اہم فریق ہیں۔ ایسی طویل احتجاجی سرگرمیاں جو انہی لوگوں کو متاثر کریں، ان کے مفاد میں نہیں سمجھی جا سکتیں۔
دنیا کا کوئی بھی ذمہ دار نظامِ حکومت یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ ریاستی اور عوامی خدمات غیر معینہ مدت تک معطل رہیں، خصوصاً اس وقت جب متعدد مطالبات پہلے ہی تسلیم اور نافذ کیے جا چکے ہوں۔
حکومت کی جانب سے امن و امان کی بحالی کے لیے سکیورٹی اقدامات ریاستی ذمہ داری کا حصہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح JAAC کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ محض احتجاج کی بنیاد پر نہیں بلکہ سکیورٹی اداروں کی اطلاعات اور خدشات کی بنیاد پر کیا گیا۔
بیرونِ ملک منتخب نمائندوں کو انسانی ہمدردی کے تحت تشویش ظاہر کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ برطانوی کشمیریوں کو اپنے عزیزوں کی سلامتی کے بارے میں اطمینان حاصل ہونا چاہیے اور مواصلاتی مسائل کا حل بھی ضروری ہے۔
لیکن انسانی ہمدردی اور یکطرفہ معلومات کی بنیاد پر سیاسی مداخلت میں فرق ہوتا ہے۔
جب کسی خط میں حالات کے تمام پہلوؤں کو سامنے لائے بغیر صرف ایک مؤقف کو اجاگر کیا جائے تو اس سے غیر ارادی طور پر ایک نامکمل بیانیے کو تقویت مل سکتی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے عوام استحکام، اقتصادی ترقی اور بلا تعطل عوامی خدمات کے مستحق ہیں۔ وہ ایسی حکمرانی کے حق دار ہیں جو ان کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے، اور ایسی بین الاقوامی یکجہتی کے بھی جو مکمل حقائق اور متوازن معلومات پر مبنی ہو۔
آگے بڑھنے کا راستہ مذاکرات، آئینی طریقہ کار اور حقیقت پسندانہ سیاسی عمل میں ہے۔ اس کے لیے یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ اب تک کیا کچھ حاصل کیا جا چکا ہے اور مزید کیا کچھ عملی طور پر ممکن ہے۔
یہ شاید ایک مشکل گفتگو ہو، لیکن یہی وہ گفتگو ہے جو حقائق کے زیادہ قریب ہے۔
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
View all posts
ڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔