معاہدۂ سندھ طاس کی یکطرفہ معطلی کو اگر صرف ایک سفارتی اختلاف، قانونی تنازع یا دو ہمسایہ ممالک کے درمیان معمول کی کشیدگی سمجھا جائے تو یہ حقیقت سے چشم پوشی ہوگی۔ اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا اور دور رس ہے۔ پاکستان کے لیے پانی محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی زندگی کی شہ رگ ہے۔ یہی پانی کھیتوں کو سیراب کرتا ہے، شہروں کو زندگی دیتا ہے، صنعت کا پہیہ چلاتا ہے، بجلی پیدا کرتا ہے اور کروڑوں لوگوں کے روزگار اور خوراک کی بنیاد بنتا ہے۔ اس لیے جب ایک ایسا معاہدہ، جس نے دہائیوں تک دریاؤں کے بہاؤ، تقسیمِ آب اور آبی نظم و نسق میں ایک قابلِ اعتماد توازن قائم رکھا، یکطرفہ طور پر غیر مؤثر بنانے کی کوشش کا شکار ہو، تو اس کے اثرات محض نہروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ ریاست کی مجموعی سلامتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
پاکستان کی قومی سلامتی کو اب صرف عسکری تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ آج سلامتی کا مفہوم بہت وسیع ہو چکا ہے۔ اس میں غذائی تحفظ، توانائی کا استحکام، معیشت کی مضبوطی، صحتِ عامہ، سماجی ہم آہنگی، داخلی امن اور ریاستی اداروں کی کارکردگی سب شامل ہیں۔ ان تمام شعبوں کا ایک اہم اور بنیادی رشتہ پانی سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاہدۂ سندھ طاس کی معطلی پاکستان کے لیے ایک ایسی صورتحال پیدا کرتی ہے جس میں خطرہ سرحد پر گولی چلنے سے پہلے ہی اندرونِ ملک محسوس ہونے لگتا ہے۔ جب دریاؤں کے بہاؤ کے بارے میں غیر یقینی بڑھتی ہے تو ریاستی منصوبہ بندی کمزور پڑتی ہے، کسان کی فکری بے چینی بڑھتی ہے، منڈی میں اضطراب پیدا ہوتا ہے اور قومی سطح پر عدم تحفظ کا احساس گہرا ہو جاتا ہے۔
پاکستان کی زراعت کا انحصار دریائے سندھ کے طاس پر غیر معمولی حد تک ہے۔ ملک کے بیشتر زرعی علاقے آبپاشی کے منظم نظام کے تحت چلتے ہیں اور یہی نظام قومی خوراک کا بنیادی سہارا ہے۔ اگر پانی کی فراہمی میں غیر متوقع تبدیلیاں آئیں، اگر دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات بروقت نہ ملیں، یا اگر پانی کے استعمال اور ترسیل پر سیاسی دباؤ غالب آ جائے، تو سب سے پہلے فصل متاثر ہوتی ہے۔ فصل متاثر ہو تو کسان کی آمدن گرتی ہے، دیہی معیشت کمزور ہوتی ہے، خوراک مہنگی ہوتی ہے اور ریاست کو درآمدات، سبسڈی اور مالی دباؤ کے نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں ایک آبی تنازع رفتہ رفتہ غذائی بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے اور زرعی شعبہ پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی، کم پانی، زمین کی زرخیزی میں کمی اور لاگتِ پیداوار میں اضافے جیسے مسائل سے دوچار ہے، وہاں آبی معاہدے کی معطلی ایک ایسے دباؤ کو جنم دیتی ہے جو ریاستی استحکام کو براہِ راست متاثر کر سکتا ہے۔
اس مسئلے کا دوسرا اہم پہلو انسانی سلامتی ہے۔ پانی کی دستیابی میں کمی یا غیر یقینی صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ گھروں، اسکولوں، ہسپتالوں اور شہری آبادیوں تک پھیلتی ہے۔ جب پانی کی کمی بڑھتی ہے تو پینے کے صاف پانی تک رسائی متاثر ہوتی ہے، نکاسی اور صفائی کے نظام پر دباؤ بڑھتا ہے، آلودہ پانی کے استعمال میں اضافہ ہوتا ہے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے کیونکہ وہاں لوگ متبادل ذرائع پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اگر نہری نظام میں عدم توازن پیدا ہو تو زیرِ زمین پانی کا استعمال بڑھتا ہے، اور جب زیرِ زمین پانی حد سے زیادہ نکالا جاتا ہے تو اس کے معیار اور مقدار دونوں پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اس طرح پانی کا بحران خاموشی سے صحت کے بحران میں بدل جاتا ہے۔ جب ریاست کو ایک ہی وقت میں غذائی عدم تحفظ، صحتِ عامہ کے بگڑتے ہوئے اشاریے اور سماجی بے چینی کا سامنا ہو تو جامع قومی سلامتی کا پورا تصور دباؤ میں آ جاتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں بھی اس خطرے کی شدت کم نہیں۔ پاکستان کی پن بجلی کی پیداواری صلاحیت دریاؤں کے منظم اور قابلِ پیش گوئی بہاؤ سے وابستہ ہے۔ پانی کی آمد میں بے قاعدگی صرف ڈیموں اور بجلی گھروں کی کارکردگی پر اثر انداز نہیں ہوتی بلکہ یہ پورے توانائی ڈھانچے میں غیر یقینی پیدا کرتی ہے۔ جب پن بجلی متاثر ہوتی ہے تو ریاست کو مہنگے متبادل ذرائع پر انحصار بڑھانا پڑتا ہے، جس سے بجلی کی لاگت میں اضافہ، صنعتی پیداوار میں کمی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ یوں پانی کا مسئلہ بجلی کے مسئلے میں اور بجلی کا مسئلہ معیشت کے مسئلے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد سرمایہ کاری کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، روزگار کے مواقع سکڑتے ہیں اور صنعتی شعبہ غیر مسابقتی ہوتا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو معاہدۂ سندھ طاس کی معطلی صرف آبی نظم کا بحران نہیں بلکہ معاشی استحکام کے لیے بھی براہِ راست خطرہ ہے۔
یہ معاملہ ادارہ جاتی اعتماد کے بحران کو بھی جنم دیتا ہے۔ بین الریاستی معاہدے صرف کاغذی بندوبست نہیں ہوتے بلکہ وہ اس یقین کی بنیاد ہوتے ہیں کہ اختلافات کے باوجود کچھ قواعد، کچھ ذمہ داریاں اور کچھ حدود ایسی ہیں جن کی پابندی دونوں فریق کریں گے۔ جب کوئی ریاست یکطرفہ طور پر ایک دیرینہ معاہدے کو معطل کرنے کی راہ اختیار کرتی ہے تو اس سے صرف ایک معاہدہ کمزور نہیں ہوتا بلکہ پورا اصولی ڈھانچہ متزلزل ہوتا ہے۔ اس کا پیغام یہ ہوتا ہے کہ طاقت اور سیاسی ارادہ قانون اور باہمی اتفاق سے بالا تر ہو سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں یہ پیغام نہایت خطرناک ہے، کیونکہ یہاں پہلے ہی سیاسی بداعتمادی، عسکری تناؤ اور تاریخی تنازعات موجود ہیں۔ اگر پانی جیسے بنیادی اور حساس مسئلے میں بھی قواعدی بندوبست کمزور پڑ جائے تو علاقائی عدم استحکام میں مزید اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
پاکستان کو اس چیلنج کا جواب صرف جذباتی بیانات سے نہیں بلکہ ایک جامع قومی حکمتِ عملی سے دینا ہوگا۔ سفارتی سطح پر بین الاقوامی قانون، ثالثی اور پرامن تنازعہ حل کے تمام راستے بھرپور انداز میں اختیار کرنے ہوں گے۔ داخلی سطح پر پانی کے ذخائر بڑھانے، نہری نظام کی بہتری، پانی کے ضیاع میں کمی، جدید آبپاشی، فصلوں کے بہتر انتخاب، صوبائی ہم آہنگی اور آبی اعداد و شمار کے مضبوط نظام پر فوری توجہ دینا ہوگی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ پانی کو صرف وسائل کے انتظام کا معاملہ نہ سمجھا جائے بلکہ قومی سلامتی کی منصوبہ بندی کے مرکزی ستون کے طور پر دیکھا جائے۔ جب تک ریاست اپنے اندر لچک، صلاحیت اور دور اندیشی پیدا نہیں کرے گی، بیرونی دباؤ اس کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
آخرکار حقیقت یہی ہے کہ معاہدۂ سندھ طاس کی معطلی پاکستان کے لیے ایک ہمہ گیر سلامتی چیلنج ہے۔ یہ زراعت، معیشت، توانائی، صحت، سماجی استحکام اور علاقائی امن سب کو ایک ساتھ متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس مسئلے کو محض آبی تنازع نہیں بلکہ قومی بقا، ریاستی استحکام اور خطے کے امن کے تناظر میں سمجھنا ہوگا۔ پانی کو اگر سیاسی دباؤ کے آلے میں بدلنے دیا گیا تو اس کے نتائج صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس خطرے کا واحد ذمہ دارانہ جواب یہی ہے کہ قانون کی بالادستی، معاہداتی ذمہ داری، علاقائی تعاون اور داخلی استحکام کو یکجا کر کے ایک ایسا راستہ اختیار کیا جائے جو تصادم نہیں بلکہ پائیدار امن اور مشترکہ بقا کی ضمانت بن سکے۔
Author
-
View all posts
مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔