Nigah

فضائی شجاعت اور بے لوث قیادت کی لازوال داستان

[post-views]

پاکستان کی عسکری تاریخ میں بعض شخصیات صرف اپنی فتوحات کے باعث یاد نہیں رکھی جاتیں بلکہ ان کا کردار، قیادت اور قربانی انہیں قومی وقار کی مستقل علامت بنا دیتی ہے۔ اسکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی بھی انہی عظیم سپوتوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے 1965 کی جنگ میں پاکستان کی فضائی سرحدوں کا دفاع کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے محاذ پر غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، حاضر دماغی اور بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ان کی جنگی زندگی یہ ثابت کرتی ہے کہ فضائی معرکوں میں جدید طیارے اہم ضرور ہوتے ہیں، مگر فیصلہ کن قوت پائلٹ کی تربیت، عزم، قائدانہ صلاحیت اور خطرے کے وقت درست فیصلہ کرنے کی اہلیت ہوتی ہے۔

18 جولائی 1935 کو پیدا ہونے والے سرفراز احمد رفیقی نے پاک فضائیہ میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، نظم و ضبط اور جنگی مہارت کے باعث جلد نمایاں مقام حاصل کرلیا تھا۔ وہ محض ایک بہترین لڑاکا پائلٹ نہیں تھے بلکہ ایک ایسے قائد تھے جو مشکل ترین حالات میں بھی اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بلند رکھتے اور ذاتی سلامتی پر اجتماعی کامیابی کو ترجیح دیتے تھے۔ ان کی شخصیت میں پیشہ ورانہ قابلیت اور اخلاقی جرأت کا ایسا امتزاج موجود تھا جو میدانِ جنگ میں کسی بھی عسکری قائد کی اصل قوت سمجھا جاتا ہے۔ یہی اوصاف 1965 کی جنگ کے ابتدائی مراحل میں چھمب سیکٹر کے آسمان پر پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آئے۔

یکم ستمبر 1965 کو بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو پاکستان آرمی کی اکھنور کی جانب پیش قدمی روکنے کے لیے بھیجا گیا۔ اس پیش قدمی کی کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک فضائی تحفظ پر تھا، کیونکہ بھارتی طیارے پاکستانی زمینی افواج کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ سرفراز رفیقی کو دشمن کے فضائی حملے کا راستہ روکنے کی ذمہ داری دی گئی۔ وہ تقریباً بیس ہزار فٹ کی بلندی پر گشت کر رہے تھے جب انہوں نے بھارتی ڈی ہیولینڈ ویمپائر طیاروں کی ایک بڑی تشکیل کو دیکھا۔ دشمن کو عددی برتری حاصل تھی، مگر رفیقی نے اس برتری سے مرعوب ہونے کے بجائے رفتار، بلندی، حملے کے زاویے اور حیرت کے عنصر کو نہایت مہارت سے استعمال کیا۔

انہوں نے اپنے ایف-86 سیبر طیارے کو تیزی سے نیچے لاتے ہوئے دشمن پر حملہ کیا اور مختصر وقفے میں دو بھارتی ویمپائر طیارے مار گرائے۔ یہ محض دو طیاروں کی تباہی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی فیصلہ کن فضائی کامیابی تھی جس نے چھمب کے محاذ پر جنگی صورتِ حال تبدیل کردی۔ بھارتی فضائیہ پر واضح ہوگیا کہ اس کے ویمپائر طیارے پاک فضائیہ کے تربیت یافتہ سیبر پائلٹوں کے سامنے مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس معرکے کے بعد بھارتی فضائیہ کو ویمپائر طیاروں کو اگلے محاذ کی فعال جنگی کارروائیوں سے واپس کھینچنا پڑا۔ یوں رفیقی کی انفرادی مہارت نے دشمن کی مجموعی فضائی حکمت عملی اور طیاروں کی تعیناتی کو تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔

چھمب سیکٹر میں حاصل ہونے والی یہ کامیابی زمینی محاذ کے لیے بھی انتہائی اہم تھی۔ فضائی جنگ میں دشمن کے طیاروں کو پسپا کرنے کا مطلب یہ تھا کہ پاکستانی زمینی دستوں کو نسبتاً بہتر تحفظ اور پیش قدمی کا موقع مل سکے۔ رفیقی نے ثابت کیا کہ ایک تربیت یافتہ پائلٹ اپنے بروقت فیصلے سے نہ صرف فضائی معرکہ جیت سکتا ہے بلکہ زمینی جنگ کے نتائج پر بھی اثرانداز ہوسکتا ہے۔ ان کی کارروائی نے پاک فضائیہ کے اعتماد میں اضافہ کیا، دشمن پر نفسیاتی دباؤ ڈالا اور پاکستان کی فضائی جنگی صلاحیت کا مؤثر اظہار کیا۔

چھ ستمبر 1965 کو سرفراز رفیقی کی قیادت اور قربانی کا اصل امتحان ہلوارہ کے سخت دفاع والے بھارتی فضائی اڈے پر حملے کے دوران سامنے آیا۔ انہوں نے حملہ آور طیاروں کی تشکیل کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کے ہنٹر طیاروں کا مقابلہ کیا اور ایک بھارتی طیارہ مار گرایا۔ تاہم لڑائی کے دوران ان کے ایف-86 سیبر کی توپیں تکنیکی خرابی کے باعث جام ہوگئیں۔ فضائی جنگ میں ہتھیاروں کا ناکارہ ہوجانا پائلٹ کو تقریباً مکمل طور پر بے دفاع بنا دیتا ہے۔ ایسے حالات میں رفیقی کے پاس واپسی کا موقع موجود تھا، لیکن انہوں نے اپنی جان بچانے کے بجائے اپنے ساتھی پائلٹوں کی حفاظت کو ترجیح دی۔

انہوں نے اپنے ونگ مین کو تشکیل کی قیادت سنبھالنے کا حکم دیا اور خود دفاعی چالیں چلتے ہوئے دشمن کے طیاروں کی توجہ اپنی جانب مرکوز رکھی۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کے ہتھیار کام نہیں کر رہے اور دشمن کے سامنے ان کی پوزیشن انتہائی کمزور ہے، مگر انہوں نے میدان چھوڑنے سے انکار کردیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ باقی پاکستانی طیارے دشمن کے حملے سے محفوظ رہیں اور اپنی واپسی مکمل کرسکیں۔ بالآخر ان کا طیارہ دشمن کی فائرنگ کا نشانہ بنا، مگر ان کی قربانی نے ساتھیوں کو تحفظ فراہم کیا اور پاک فضائیہ کی تاریخ میں قیادت کی ایک بے مثال روایت قائم کردی۔

رفیقی کا فیصلہ محض جذباتی بہادری نہیں بلکہ حقیقی عسکری قیادت کی علامت تھا۔ ایک عام پائلٹ خطرے کے وقت اپنی سلامتی کو ترجیح دے سکتا تھا، لیکن ایک عظیم قائد اپنے ساتھیوں اور مشن کو خود پر فوقیت دیتا ہے۔ سرفراز رفیقی نے عملاً ثابت کیا کہ قیادت صرف احکامات جاری کرنے کا نام نہیں بلکہ مشکل ترین لمحے میں سب سے بڑا خطرہ اپنے ذمہ لینے کا حوصلہ بھی ہے۔ ان کی شہادت یہ پیغام دیتی ہے کہ جنگی قوت صرف ہتھیاروں سے نہیں بنتی؛ اس کی اصل بنیاد مضبوط کردار، اعلیٰ تربیت، باہمی اعتماد اور فرض سے غیر متزلزل وفاداری ہوتی ہے۔

ان کی شجاعت، فضائی مہارت اور عظیم قربانی کے اعتراف میں انہیں بعد از شہادت ہلالِ جرأت اور ستارۂ جرأت سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز صرف ایک بہادر پائلٹ کی خدمات کا اعتراف نہیں بلکہ اس قومی اور عسکری روایت کی توثیق ہے جس میں وطن، مشن اور ساتھیوں کو اپنی جان پر ترجیح دی جاتی ہے۔ آج فضائی جنگ ڈرونز، مصنوعی ذہانت، جدید میزائلوں اور پیچیدہ نگرانی کے نظاموں کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر سرفراز رفیقی کی مثال اب بھی پوری طرح متعلق ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود جنگ کا انسانی اور اخلاقی مرکز پائلٹ اور کمانڈر ہی رہتا ہے۔

سرفراز احمد رفیقی صرف پاکستان کے ماضی کا روشن حوالہ نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے عسکری قائدین کے لیے ایک معیار ہیں۔ چھمب میں ان کی فیصلہ کن فضائی فتح اور ہلوارہ میں ان کی آخری قربانی یہ ثابت کرتی ہے کہ عظمت صرف دشمن کو شکست دینے میں نہیں بلکہ اس انتخاب میں پوشیدہ ہوتی ہے جو انسان خطرے کے لمحے میں کرتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی پر اپنے ساتھیوں، مشن اور وطن کو ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام پاک فضائیہ کی تاریخ میں ہمیشہ شجاعت، وفاداری اور بے لوث قیادت کی علامت کے طور پر زندہ رہے گا۔

Author

  • munir nigah

    ڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔