پاکستان کی سماجی و مذہبی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے باہمی احترام، رواداری اور قومی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا۔ فاروق آباد، ضلع شیخوپورہ میں سکھ برادری کی تاریخی دھرم شالہ کی خستہ حال دیوار گرنے کے بعد اس کی مشترکہ تعاون سے تعمیرِ نو اور عمارت کو اس کی اصل مذہبی و تاریخی حیثیت میں برقرار رکھنے کا متفقہ اعلان اسی روشن روایت کا تسلسل ہے۔ یہ واقعہ محض ایک دیوار کی تعمیر کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کے آئینی، سماجی اور اخلاقی تشخص کی نمائندگی کرتا ہے، جس کے تحت ملک میں رہنے والے تمام شہریوں کو بلاامتیاز مذہب مساوی حقوق اور اپنی عبادت گاہوں کے تحفظ کی ضمانت حاصل ہے۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی، حکومت پاکستان کے تحت مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر کے قائدین کا مشترکہ طور پر فاروق آباد کا دورہ اور سکھ برادری کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ایک نہایت مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اس وفد میں اسلامی مکاتبِ فکر کے علما، مسیحی اور ہندو مذہبی رہنما، سکھ برادری کے نمائندگان اور مقامی تاجر قیادت کی شرکت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ مذہبی مقامات کا تحفظ کسی ایک مذہب یا برادری کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فریضہ ہے۔ جب مختلف عقائد کے نمائندگان کسی عبادت گاہ یا مذہبی عمارت کے تحفظ کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوتے ہیں تو وہ معاشرے کو یہ واضح پیغام دیتے ہیں کہ مذہبی اختلاف کو تصادم کے بجائے احترام، تعاون اور ہم آہنگی کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مولانا زاہد محمود قاسمی، حافظ مقبول احمد، علامہ غلام مصطفیٰ حیدری، مولانا فاروق اعظم، مولانا اسلم صدیقی، مولانا سلمان اشرفی، مولانا شاہد سعیدی، مفتی عمر فاروق، بشپ کامران، پنڈت لال، سردار پلوندر سنگھ، سردار رنجیت سنگھ گیانی، سردار امر جیت سنگھ، سردار گلاب سنگھ، سردار جکرن سنگھ اور انجمن تاجران فاروق آباد کے صدر شیخ شہزاد انجم کی موجودگی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس وسیع نمائندگی نے یہ ثابت کیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی صرف سرکاری بیانات تک محدود تصور نہیں بلکہ مقامی اور قومی سطح پر عملی تعاون کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
وفد کی جانب سے یہ دوٹوک اعلان کہ مسجد، مندر، گوردوارہ، دھرم شالہ یا کسی بھی مذہبی برادری کی زمین کی اصل حیثیت کو تبدیل نہیں ہونے دیا جائے گا، آئینِ پاکستان کی روح کے عین مطابق ہے۔ پاکستان کا آئین مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق، عبادت گاہوں کے تحفظ اور تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ ریاستی اداروں، مذہبی قیادت اور مقامی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ان آئینی ضمانتوں کو زمینی حقیقت میں تبدیل کریں۔ کسی بھی مذہبی مقام کی تاریخی حیثیت، ملکیت یا استعمال میں غیرقانونی تبدیلی نہ صرف متعلقہ برادری کے حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ قومی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
فاروق آباد کی دھرم شالہ کی تعمیرِ نو اس اصول کے تحت ہونی چاہیے کہ اس کی تاریخی ساخت، مذہبی شناخت اور روایتی استعمال مکمل طور پر محفوظ رہے۔ قدیم مذہبی عمارتیں صرف عبادت کے مقامات نہیں ہوتیں بلکہ وہ مقامی تاریخ، ثقافتی ورثے اور اجتماعی یادداشت کا حصہ بھی ہوتی ہیں۔ اس لیے تعمیرِ نو کے عمل میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ، تعمیراتی انجینئروں، سکھ مذہبی نمائندگان، ضلعی انتظامیہ اور مقامی کمیونٹی کی مشاورت ضروری ہے۔ عمارت کو جدید حفاظتی تقاضوں کے مطابق مضبوط بناتے ہوئے اس کی اصل طرزِ تعمیر، نقش و نگار اور مذہبی علامات کو محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
اس واقعے کے حوالے سے سرحد پار بعض حلقوں کی جانب سے منفی اور بے بنیاد پروپیگنڈا بھی سامنے آیا۔ ایسے حساس معاملات میں غیرمصدقہ معلومات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف حقائق کو مسخ کرتا ہے بلکہ مذہبی جذبات کو بھڑکانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ پاکستان میں کسی مذہبی مقام سے متعلق کوئی انتظامی یا تعمیراتی مسئلہ پیش آئے تو اسے مقامی حقائق، متعلقہ برادری کے مؤقف اور سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ فاروق آباد کی سکھ برادری اور مذہبی قائدین کی مشترکہ وضاحت کے بعد یہ بات واضح ہے کہ دھرم شالہ کی مذہبی حیثیت برقرار رہے گی اور اس کی تعمیرِ نو بھی سکھ برادری کے ضوابط اور مشاورت کے مطابق کی جائے گی۔
پاکستان کے لیے بین المذاہب رواداری صرف داخلی امن کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر ملک کے تشخص سے بھی وابستہ ہے۔ کرتارپور راہداری، گوردواروں کی بحالی، مذہبی سیاحت کے فروغ اور اقلیتی عبادت گاہوں کی مرمت جیسے اقدامات نے دنیا بھر میں پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا ہے۔ تاہم ان اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک بھر میں مذہبی مقامات کا جامع ریکارڈ مرتب کیا جائے، تاریخی عبادت گاہوں کی مرمت کے لیے مستقل فنڈ قائم کیا جائے اور کسی بھی تنازعے کے فوری حل کے لیے بین المذاہب ضلعی کمیٹیوں کو فعال بنایا جائے۔
مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری بھی محض مذمتی یا حمایتی بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ انہیں مساجد، گرجا گھروں، مندروں، گوردواروں اور تعلیمی اداروں میں احترامِ انسانیت، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق سے متعلق شعور پیدا کرنا چاہیے۔ نصاب، میڈیا اور عوامی مکالمے میں اقلیتوں کو پاکستان کے مساوی شہریوں کے طور پر پیش کیا جانا بھی ناگزیر ہے۔ نوجوان نسل کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ کا احترام اپنے مذہبی مقام کے احترام ہی کی طرح اہم ہے۔
فاروق آباد کی دھرم شالہ کی باہمی تعاون سے تعمیرِ نو کا اعلان پاکستان کے عوام کے لیے امید، اتحاد اور ذمہ داری کا پیغام ہے۔ اس اقدام نے ثابت کیا ہے کہ معاشرتی مسائل کو اشتعال، نفرت اور تقسیم کے بجائے مکالمے، قانون اور مشترکہ کوشش سے حل کیا جا سکتا ہے۔ جب مسلمان، سکھ، مسیحی اور ہندو رہنما ایک تاریخی مذہبی عمارت کے تحفظ کے لیے متحد کھڑے ہوتے ہیں تو وہ دراصل قائداعظم محمد علی جناح کے اس پاکستان کی تصویر پیش کرتے ہیں جہاں ہر شہری کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے اور اپنی عبادت گاہ میں جانے کی مکمل آزادی حاصل ہو۔
یہ واقعہ پاکستان کے تمام شہروں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال بننا چاہیے۔ حقیقی قومی طاقت صرف معاشی ترقی یا دفاعی صلاحیت سے نہیں بلکہ اس امر سے بھی ناپی جاتی ہے کہ کوئی ریاست اپنے کم تعداد میں رہنے والے شہریوں، ان کی عبادت گاہوں اور ان کے مذہبی ورثے کا کتنا احترام کرتی ہے۔ فاروق آباد میں سامنے آنے والا اجتماعی عزم اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی اکثریت نفرت اور انتشار کے بجائے امن، احترام اور بھائی چارے پر یقین رکھتی ہے۔ دھرم شالہ کی تعمیرِ نو ایک عمارت کی بحالی نہیں بلکہ قومی اعتماد، آئینی وفاداری اور بین المذاہب یکجہتی کی مضبوط بنیاد کی تعمیر ہے۔
Author
-
View all postsڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔