Nigah

خوارج کا جھوٹا بیانیہ

[post-views]

دہشت گردی اب صرف بندوق، بارود اور خودکش حملوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ جدید دور میں جھوٹ، افواہ، تحریف اور جذباتی پروپیگنڈا بھی دہشت گرد تنظیموں کے اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔ خوارج اور ان کے حامی عناصر بخوبی جانتے ہیں کہ وہ اپنے خون آلود ماضی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کو کسی اخلاقی، مذہبی یا سیاسی دلیل سے درست ثابت نہیں کرسکتے۔ اسی لیے وہ اپنی کارروائیوں کی ذمہ داری سے توجہ ہٹانے، عوام کو گمراہ کرنے اور ریاست پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے حساس قومی اور بین الاقوامی معاملات کو استعمال کرتے ہیں۔ کبھی فلسطین کے مسئلے کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی کسی زیر سماعت یا عدالتی مقدمے کو انسانی حقوق کی پامالی قرار دے کر ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

پاکستان ایک آئینی، جمہوری اور اسلامی ریاست ہے جہاں ریاستی معاملات آئین، قانون اور عدالتی نظام کے تحت چلائے جاتے ہیں۔ ملک میں ہر شہری کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے، عدالتی چارہ جوئی کرنے، پُرامن احتجاج کرنے اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم آزادی اظہار اور احتجاج کا حق کسی کو تشدد، جلاؤ گھیراؤ، ریاستی اہلکاروں پر حملوں یا عوامی املاک کی تباہی کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا کی کسی بھی جمہوری ریاست میں اختلاف رائے اور مسلح انتشار کو ایک جیسا نہیں سمجھا جاتا۔ پُرامن سیاسی سرگرمی ایک آئینی حق ہے، جبکہ تشدد پر اکسانا، دہشت گردوں کی حمایت کرنا اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانا ایک قانونی جرم ہے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے معاملے کو بھی بعض عناصر نے حقائق سے ہٹ کر ایک جذباتی اور یک طرفہ بیانیے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ مقدمے سے متعلق ریاستی مؤقف یہ رہا ہے کہ گوادر میں پیش آنے والے پُرتشدد واقعات، اشتعال انگیزی اور ایک پاکستانی اہلکار کی ہلاکت سے متعلق الزامات کا عدالتی جائزہ لیا گیا۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ آنے کے بعد ملزمان کو اپیل اور دیگر قانونی راستے اختیار کرنے کا حق بھی حاصل ہے۔ کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، اس پر تنقید بھی ہوسکتی ہے اور اعلیٰ عدالتوں میں اسے چیلنج بھی کیا جاسکتا ہے، لیکن عدالت، استغاثہ، شواہد اور قانونی عمل کو مکمل طور پر نظرانداز کرکے صرف سیاسی نعرے کو حقیقت قرار دینا انصاف نہیں بلکہ پروپیگنڈا ہے۔

خوارج ایسے معاملات میں جان بوجھ کر مکمل تصویر عوام کے سامنے نہیں آنے دیتے۔ وہ یہ نہیں بتاتے کہ کسی بھی ملزم کو سزا عدالت دیتی ہے، حکومت نہیں؛ شواہد عدالت میں پیش کیے جاتے ہیں؛ وکلا کو دفاع کا حق دیا جاتا ہے؛ اور فیصلے کے خلاف اپیل کا قانونی راستہ موجود رہتا ہے۔ ان کا مقصد قانونی بحث کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسا تاثر پیدا کرنا ہوتا ہے جس سے ریاست پاکستان کو ظالم، غیر ذمہ دار اور غیر جمہوری ثابت کیا جاسکے۔ یہ طرز عمل اس وقت مزید مشکوک ہوجاتا ہے جب دہشت گردی، قتل اور مسلح تشدد میں ملوث عناصر اچانک انسانی حقوق کے خود ساختہ علمبردار بن کر سامنے آتے ہیں۔

غزہ کے مسئلے پر پاکستان کے خلاف خوارج کا پروپیگنڈا بھی حقائق کے منافی ہے۔ پاکستان نے اپنے قیام سے لے کر آج تک فلسطینی عوام کے حق خودارادیت، آزاد فلسطینی ریاست، القدس شریف کی حیثیت اور اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کی مسلسل حمایت کی ہے۔ پاکستان نے عالمی فورمز پر فلسطینی عوام کے حق میں آواز اٹھائی، جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور انسانی امداد بھی فراہم کی۔ اس واضح اور اصولی مؤقف کے باوجود پاکستان پر فلسطینی عوام سے لاتعلقی کا الزام لگانا اس بات کا ثبوت ہے کہ خوارج کے لیے حقائق کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کا اصل ہدف فلسطینیوں کی حمایت نہیں بلکہ پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔

خوارج کا طریقۂ واردات تقریباً ہر معاملے میں ایک جیسا ہوتا ہے۔ وہ کسی سانحے یا حساس مسئلے کو منتخب کرتے ہیں، اس کے صرف ان پہلوؤں کو نمایاں کرتے ہیں جو ان کے بیانیے کے لیے فائدہ مند ہوں، باقی حقائق چھپا دیتے ہیں اور پھر سوشل میڈیا پر جھوٹے دعووں اور اشتعال انگیز مواد کے ذریعے عوامی جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ریاستی کارروائی دکھائی جاتی ہے لیکن اس سے پہلے ہونے والی دہشت گردی کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ گرفتار شخص کا نام نمایاں کیا جاتا ہے لیکن اس کے خلاف الزامات اور شواہد چھپا دیے جاتے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے ردعمل پر سوال اٹھایا جاتا ہے مگر شہید ہونے والے اہلکاروں اور شہریوں کے خاندانوں کو مکمل طور پر بھلا دیا جاتا ہے۔

یہ وہی دہشت گرد سوچ ہے جس نے پاکستان کو کئی دہائیوں سے خونریزی کا نشانہ بنایا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں پاکستانی شہری، فوجی، پولیس اہلکار، اساتذہ، طلبہ، علما اور عام مزدور اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔ بازاروں، مساجد، تعلیمی اداروں اور عبادت گاہوں تک کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسے گروہوں کو انسانی حقوق پر لیکچر دینے سے پہلے اپنے جرائم، معصوم بچوں کے قتل، مذہبی مقامات پر حملوں اور پاکستانی عوام کے خلاف جنگ کا جواب دینا چاہیے۔ جو عناصر بے گناہ انسانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ چکے ہوں، وہ قانون اور اخلاقیات کے نمائندے نہیں بن سکتے۔

پاکستان کو اس پروپیگنڈا جنگ کا جواب صرف بیانات سے نہیں بلکہ شفافیت، بروقت معلومات، مضبوط قانونی عمل اور عوامی آگاہی سے دینا ہوگا۔ ریاست کو چاہیے کہ حقیقی عوامی شکایات کو سنے، ترقیاتی محرومیوں کا خاتمہ کرے، قانون کی یکساں حکمرانی یقینی بنائے اور دہشت گردی و پُرامن اختلاف کے درمیان واضح فرق قائم رکھے۔ جہاں جائز تنقید ہو، وہاں اصلاح کی جائے، لیکن جہاں جھوٹ، دہشت گردی اور بیرونی مفادات کے تحت ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش ہو، وہاں سخت اور قانونی کارروائی ضروری ہے۔

خوارج کی اصل طاقت ان کے ہتھیار نہیں بلکہ وہ ابہام اور انتشار ہے جو وہ عوام کے ذہنوں میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ حقائق، قانون، قومی اتحاد اور ذمہ دار صحافت اس پروپیگنڈے کا مؤثر جواب ہیں۔ پاکستان کو اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی کرنا ہے اور ان دہشت گرد عناصر کا راستہ بھی روکنا ہے جو انسانی حقوق کی آڑ میں تشدد اور افراتفری کو فروغ دیتے ہیں۔ جھوٹ وقتی طور پر شور ضرور پیدا کرسکتا ہے، مگر حقیقت، قانون اور قوم کی اجتماعی قوت کے سامنے بالآخر اسے شکست ہی ہوتی ہے۔

Author

  • انیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل:
    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔