28 جون 2026 کی رات، مسلح افراد نے کراچی کے گلستان جوہر میں سچل رینجرز کیمپ پر دھاوا بولا۔ انہوں نے مرکزی گیٹ پر دھماکہ کیا، فائرنگ کی، اور حفاظتی حصار توڑنے کی کوشش کی۔ رینجرز کے تین جوان شہید ہوئے۔ تین حملہ آور مارے گئے۔ چوتھا، ایک افغان شہری، زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔ کالعدم دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار نے ذمہ داری قبول کی۔ پاکستانی ریاست نے حملہ ناکام بنا دیا۔ واقعہ واضح ہے، حقائق ناقابلِ تردید ہیں، اور اخلاقی وزن ہر ابہام سے بالاتر ہے۔
پھر بھی بی بی سی اردو نے اپنی رپورٹ میں اس گروہ کو "شدت پسند” اور "عسکریت پسند” لکھا۔ جماعت الاحرار ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم ہے، جس نے مساجد، اسکولوں اور سیکیورٹی تنصیبات پر بمباری کا اعتراف کیا ہے۔ اسے وہ اصطلاحاتی مہربانی بخشی گئی جو شاید کسی سیاسی گروہ کو دی جاتی ہے۔ لفظ "دہشت گرد” جو درست، قانونی طور پر لاگو، اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصطلاح ہے بی بی سی اردو کی ادارتی حساسیت کے لیے شاید بہت سخت تھا۔
یہ کوئی معمولی ادارتی فیصلہ نہیں۔ صحافت میں زبان ایک عمارت کی بنیاد کی مانند ہے۔ تشدد کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ یہ طے کرتے ہیں کہ قارئین اسے کس نظر سے دیکھیں، اس کا اخلاقی بوجھ کہاں رکھیں، اور اس سے لڑنے والے اداروں کو کیسے پرکھیں۔ جب ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم، جو سیکیورٹی اہلکاروں کو قتل کرتی ہے، کو "شدت پسند” کہا جائے، تو اس کا ضمنی پیغام یہ ہے کہ ان کا تشدد سیاسی عسکریت کے کسی طیف پر کہیں ٹھہرا ہوا ہے احتجاج اور جنگ کے درمیان کہیں بجائے اس کے کہ یہ وہی ہے جو حقیقت میں ہے: شہریوں اور ریاستی محافظوں کا قتل عام۔ کراچی رینجرز "عسکریت پسندوں” سے نہیں لڑ رہے تھے۔ وہ خوارج اور دہشت گردوں سے لڑ رہے تھے۔ اور ان میں سے تین شہید ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار پاکستان کی قربانی کو نظرانداز کرنا ناممکن بناتے ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مطابق، 2025 سیکیورٹی فورسز کے لیے 2011 کے بعد سب سے مہلک سال بنا، جس میں 664 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے 2024 کے مقابلے میں 26 فیصد اضافہ۔ شہری اموات میں 24 فیصد اضافے کے ساتھ 580 افراد جاں بحق ہوئے، اور دہشت گردانہ حملے 1063 تک پہنچ گئے 2014 کے بعد سب سے زیادہ سالانہ تعداد۔ خودکش حملوں میں 53 فیصد اضافہ ہوا اور دہشت گردوں کی جانب سے مسلح ڈرونز کے استعمال میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان عالمی دہشت گردی انڈیکس 2025 میں دوسرے نمبر پر رہا۔
یہ کسی ملک میں قابلِ انتظام امن و امان کے مسئلے کے اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسی قوم کے اعداد و شمار ہیں جو جنگ میں ہے۔
اس کے باوجود، جب بی بی سی اردو کی رپورٹ جماعت الاحرار کی اندرونی سیاست، قیادتی تنازعات، اور تنظیمی ڈھانچے پر اس کی شوری، کمانڈروں، اور پھیلاؤ کی تفصیل پر کئی پیراگراف صرف کرتی ہے، مگر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور شہریوں کے ہاتھ آنے والے انسانی نقصان کو کم سے کم جگہ دیتی ہے، تو یہ صحافت کم اور ایک دہشت گرد تنظیم کا تنظیمی خاکہ زیادہ لگتی ہے۔ 2025 کے 664 شہید اہلکاروں کو وہ باریک توجہ نہیں ملتی جو ان گروہوں کو ملتی ہے جنہوں نے انہیں قتل کیا۔ دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک 580 شہریوں کا ذکر اس تفصیل سے نہیں ہوتا۔ یہ عدم توازن ادارتی غیرجانبداری نہیں یہ ادارتی انتخاب ہے، اور یہ بہت کچھ بتاتا ہے۔
بی بی سی کی ایک عالمی ادارتی پالیسی ہے جس کے تحت وہ بظاہر غیرجانبداری برقرار رکھنے کے لیے "دہشت گرد” کی بجائے "عسکریت پسند” یا "شدت پسند” کا استعمال کرتے ہیں۔ بی بی سی کا مؤقف ہے کہ "دہشت گرد” ایک سیاسی حکم ہے۔ لیکن یہ دلیل عملی جانچ پر ٹوٹ جاتی ہے۔ جب گروہ شہری ٹھکانوں پر مربوط بمباری کریں، پولیس افسران کو قتل کریں، ہسپتالوں پر حملہ کریں، اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنائیں جو جماعت الاحرار اور ٹی ٹی پی سے جڑے گروہوں نے بار بار کیا ہے تو ان کے اقدامات کو ان کے اصل نام سے نہ پکارنا خود ایک سیاسی فیصلہ ہے۔
یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو مجرموں کی زبان کو متاثرین کی قیمت پر تحفظ دیتا ہے۔
دوہرا معیار ہی اس تنقید کو اس کی کاٹ دیتا ہے۔ جب لندن، پیرس، میڈرڈ یا نیویارک پر حملے ہوتے ہیں، تو بین الاقوامی میڈیا بشمول بی بی سی فوری طور پر "دہشت گرد” کا لفظ استعمال کرتا ہے بلاتردد، بلادیر، بلابحث۔ 7/7 کے بمباروں کو دہشت گرد کہا گیا۔ 2015 کے پیرس حملہ آوروں کو دہشت گرد کہا گیا۔ وہاں "شدت پسند” پر کوئی ادارتی کشمکش نہیں تھی۔ جب متاثرین پاکستانی ہوں جب مقتول کراچی کے رینجرز ہوں، بنوں کے فوجی ہوں، پشاور کے پولیس اہلکار ہوں، یا اغوا شدہ ٹرین کے عام مسافر تو ایک مختلف لسانی معیار بظاہر لاگو ہو جاتا ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا داخلی خطرہ، افغان طالبان سے منسلک تحریک طالبان پاکستان، پاکستان افغانستان تعلقات کو اس نہج تک لے گیا ہے کہ 2026 کے اوائل میں پاکستان کے وزیرِ دفاع نے صورتحال کو "کھلی جنگ” قرار دیا۔ اس جنگ کو لڑنے والی ریاست نے ناقابلِ حساب قیمت ادا کی ہے۔ 28 جون کو کراچی میں شہید ہونے والے رینجرز اہلکار اسی قیمت کا حصہ تھے۔ انہیں کم از کم اتنا تو حق حاصل ہے کہ ایک اخباری رپورٹ میں بھی انہیں قتل کرنے والی تنظیم سے درست الفاظ کے ذریعے ممتاز کیا جائے کہ وہ صحیح سمت پر کھڑے دکھائی دیں، چاہے وہ ایک اخباری رپورٹ ہی کیوں نہ ہو۔
ذمہ دار صحافت کو جھوٹے توازن کی ضرورت نہیں۔ اسے یہ ضرورت نہیں کہ کالعدم دہشت گرد تنظیم کے پروپیگنڈا دعووں کو سرکاری سیکیورٹی تجزیوں کے برابر وزن دیا جائے، یا متاثرین کے خاندانوں سے زیادہ کسی دہشت گرد تنظیم کی قیادتی ساخت کو اہمیت دی جائے۔ غیرجانبداری کا صحیح مفہوم حقائق کی ایمانداری سے عکاسی ہے بشمول اس حقیقت کے کہ جماعت الاحرار ایک دہشت گرد تنظیم ہے، سیاسی دھڑا نہیں۔ اس کے ارکان خوارج ہیں، آزادی کے متوالے نہیں۔ جو لوگ مارے گئے وہ شہید ہیں، نہ کہ کسی نظریاتی تنازعے کے اتفاقی متاثرین۔
پاکستان نے ہزاروں کو سپردِ خاک کیا تاکہ اس کے شہر قائم رہیں۔ اس کے رینجرز، اس کے فوجی، اس کی پولیس، اس کے شہری انہوں نے ایسا تشدد برداشت کیا جس سے دنیا کا بڑا حصہ محفوظ رہا ہے۔ بین الاقوامی صحافت ان کا کم از کم یہ قرض تو ادا کر سکتی ہے: درستگی۔ ہمدردی نہیں، وکالت نہیں صرف درستگی۔ دہشت گرد کو دہشت گرد کہیں۔ خوارج کو خوارج کہیں۔ شہید کو شہید کہیں۔ باقی سب خود بخود طے ہو جاتا ہے۔
یہ ورژن اب سخت، واضح اور درستگی پر مبنی ہے، جیسا آپ چاہتے تھے۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو پلیٹ فارم مخصوص سوشل میڈیا پوسٹس میں بھی ڈھال دوں تاکہ زیادہ اثر پیدا ہو؟
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
View all posts
مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔