Nigah

جب تصویر خود گواہی دے: بی بی سی اردو کی آزاد کشمیر رپورٹنگ اور ادھوری صحافت کا سوال

[post-views]

صحافت کا بنیادی اصول ہے کہ رپورٹر واقعے کے تمام پہلو سامنے لائے، صرف وہ حصہ نہیں جو کسی مخصوص بیانیے کو تقویت دے۔ لیکن جب ایک معتبر ادارے کی اپنی شائع کردہ تصویر ہی اس کی خبر کو جھٹلا دے، تو یہ محض صحافتی غلطی نہیں رہتی بلکہ ایک سنجیدہ سوال بن جاتا ہے کہ کیا ہم یکطرفہ بیانیے کی تیاری دیکھ رہے ہیں؟

بی بی سی اردو نے حال ہی میں آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر جو رپورٹ شائع کی، اس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا گیا اور حالات کی ذمہ داری ریاستی اداروں پر ڈالی گئی۔ مگر اسی رپورٹ کے ساتھ شائع کی گئی تصویر میں شہری لباس میں ملبوس افراد کو ڈنڈے تھامے پتھروں سے بنے روڈ بلاک پر کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ افراد کالعدم جے اے اے سی (جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی) سے منسلک بتائے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب تصویر خود حقیقت بیان کر رہی ہو، تو خبر اسے نظر انداز کیوں کرتی ہے؟


جے اے اے سی: پس منظر اور حالیہ کردار

جے اے اے سی 2023 میں آزاد کشمیر میں بجلی کی بڑھتی قیمتوں اور گندم کی قلت کے خلاف ایک عوامی تحریک کے طور پر ابھری، جس میں تاجر، وکلاء، طلباء اور ٹرانسپورٹر شامل تھے۔ مئی 2024 میں ہونے والے چھ روزہ احتجاج کے بعد وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کے لیے 23 ارب روپے کا خصوصی پیکج دیا اور بجلی و آٹے پر سبسڈی کا اعلان کیا۔ یہ ایک اہم پیش رفت تھی جو عوامی مطالبات کے جواب میں آئی۔

تاہم جے اے اے سی نے اکتوبر 2025 میں ایک 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز کے ساتھ دوبارہ احتجاج شروع کیا۔ ستمبر اکتوبر 2025 کے احتجاج میں نو افراد جاں بحق ہوئے جن میں تین پولیس اہلکار بھی شامل تھے اور دو سو سے زائد زخمی ہوئے۔ حکومت نے مطالبات کا 90 فیصد تسلیم کرنے کا دعویٰ کیا، مگر اکتوبر 2025 کے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی اور اس بار جے اے اے سی کے خلاف 177 ایف آئی آر بحال کر دی گئیں۔

جون 2026 میں آزاد کشمیر حکومت نے جے اے اے سی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت باقاعدہ کالعدم قرار دے دیا، جس میں تنظیم پر دہشت گردی، نفرت انگیزی اور انارکی پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا۔ پولیس کے مطابق تنظیم سے منسلک افراد نے راولاکوٹ میں سکیورٹی اہلکاروں پر مسلح حملہ کیا جس میں چار اہلکار شہید ہوئے۔


روڈ بلاک، قلت اور پیشگی منصوبہ

رپورٹ میں جس "قلت” کا ذکر ہے  خوراک، ادویات، ایندھن اور ٹرانسپورٹ کی کمی  وہ آسمان سے نہیں گری۔ جے اے اے سی کی جانب سے شٹر ڈاؤن اور ویل جام ہڑتالیں، راستوں کی ناکہ بندی اور لوگوں کو ایک ماہ کا راشن جمع کرنے کی ہدایت  یہ سب ایک منظم حکمت عملی کی علامات ہیں۔

جب کوئی تنظیم عوام کو پیشگی طور پر مہینے بھر کا سامان ذخیرہ کرنے کی ہدایت دے اور پھر سڑکیں بند کرے، تو اس سے پیدا ہونے والی مصنوعی قلت کی ذمہ داری ریاستی اداروں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔


بیانیے کا چناؤ اور جوابدہی کا سوال

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے بھی آزاد کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کی اور تمام اموات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں حکومت سے کہا کہ "مقبول تحریکوں کو کالعدم کرنا جمہوری گنجائش کو محدود کرتا ہے”  یعنی تنقید یکطرفہ نہیں تھی، دونوں فریقوں پر تھی۔

معروف صحافت ایسی ہوتی ہے جو دونوں طرف کی آواز کو مساوی وزن دے۔ اگر احتجاجی قیادت کا بیان شامل ہے تو ریاستی موقف بھی اتنی ہی جگہ پائے۔ اگر ہلاکتوں کا ذکر ہے تو پولیس اہلکاروں کی شہادتوں کو بھی اہمیت ملے۔ اگر سڑکیں بند ہونے کی بات ہو تو یہ بھی بتایا جائے کہ کس نے بند کیں اور کیوں۔

بی بی سی ایک ادارہ ہے جو عالمی سطح پر غیر جانبداری کا دعویدار ہے، اور یہی دعویٰ اسے اعلیٰ معیار کے لیے جوابدہ بناتا ہے۔ جب اس کی اپنی شائع کردہ تصویر اس کی خبر کا رد کرے، تو قاری کو سوچنا چاہیے کہ باقی "نادیدہ تصویریں” کیا کہتی ہیں۔


آگے کا راستہ

آزاد کشمیر کے عوام کے حقیقی مسائل ناقابل انکار ہیں۔ بجلی کے بل، گندم کی قیمت، سیاسی نمائندگی اور وسائل پر حق  یہ جائز مطالبات ہیں جن پر توجہ دی جانی چاہیے۔ لیکن ان مطالبات کی آڑ میں اگر کوئی تنظیم سڑکیں بند کرے، مسلح افراد کو تعینات کرے، سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرے اور عوام کو مصنوعی قلت میں مبتلا کرے، تو یہ کوئی پُرامن شہری احتجاج نہیں رہتا۔

بین الاقوامی میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فرق کو سمجھے اور اپنی رپورٹنگ میں واضح کرے۔ پاکستان کے خلاف کوئی بھی الزام شائع کرنے سے پہلے حقائق کی تصدیق، متضاد بیانات کا موازنہ اور زمینی شواہد کا جائزہ ضروری ہے۔ یہ صحافت کا بنیادی تقاضا ہے  کسی بھی ملک کے خلاف ہو یا کسی بھی ملک کے حق میں۔

تصویر اگر خود گواہ ہو تو خبر کو بھی اتنی ہی جرت سے سچ بولنا چاہیے۔

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • munir nigah

    ڈاکٹر محمد منیر ایک معروف اسکالر ہیں جنہیں تحقیق، اکیڈمک مینجمنٹ، اور مختلف معروف تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں تدریس کا 26 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز (DSS) سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔