Nigah

خلیل زاد کے دعوے اور پاکستان کا دستاویزی سفارتی ریکارڈ

[post-views]

زلمے خلیل زاد کا یہ دعویٰ کہ پاکستان نے طالبان کے ساتھ سفارت کاری کو ناکام قرار دے کر گویا جلد بازی کی ہے، حقیقت کے اس وسیع ریکارڈ کو نظرانداز کرتا ہے جو اگست دو ہزار اکیس کے بعد سے مسلسل سامنے موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کو سفارت کاری کا درس دینے والے خلیل زاد وہی شخص ہیں جنہوں نے دوحہ معاہدے کے نام پر افغانستان کو ایک ایسے سیاسی بندوبست کے حوالے کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا جس کے نتائج آج پورے خطے کے سامنے ہیں۔ جس عمل کو انہوں نے سفارت کاری کہا، اس کا انجام یہ نکلا کہ افغان سرزمین ایک بار پھر متعدد دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن گئی۔ اس پس منظر میں خلیل زاد کا پاکستان کو نصیحت کرنا نہ صرف تاریخی تضاد ہے بلکہ سفارتی ریکارڈ کی دانستہ تحریف بھی ہے۔

پاکستان کا موقف کبھی یہ نہیں رہا کہ بات چیت سرے سے نہیں ہونی چاہیے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بات چیت کے باوجود افغان سرزمین سے دہشت گردی کے ڈھانچے ختم نہیں کیے گئے۔ اگست دو ہزار اکیس کے بعد پاکستان نے تقریباً ہر دستیاب دوطرفہ راستہ آزمایا۔ چار وزرائے خارجہ کے دورے، دو وزرائے دفاع کے دورے، پانچ خصوصی نمائندوں کے دورے، پانچ سیکریٹری سطح کے اجلاس، ایک قومی سلامتی مشیر کا دورہ، آٹھ مشترکہ رابطہ کمیٹی اجلاس، دو سو پچیس سرحدی فلیگ میٹنگز، آٹھ سو چھتیس احتجاجی نوٹس اور تیرہ رسمی ڈیمارشز اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان نے جلد بازی نہیں کی بلکہ غیر معمولی صبر، تسلسل اور سفارتی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

ان تمام روابط میں پاکستان کے مطالبات نہ تو غیر معمولی تھے اور نہ غیر قانونی۔ پاکستان نے صرف یہ کہا کہ افغان سرزمین کو ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیا جائے، دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کی جائیں، مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار یا حوالے کیا جائے، ٹی ٹی پی کے تربیتی مراکز اور کیمپ بند کیے جائیں، اور افغانستان عالمی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کی طرح اپنے وعدوں کی پاسداری کرے۔ سوال یہ ہے کہ ان مطالبات میں کون سا مطالبہ اخلاقی، قانونی یا سفارتی طور پر غلط ہے؟ کوئی بھی خودمختار ریاست اپنی سرحد کے پار منظم دہشت گردی کے ڈھانچے کو خاموشی سے برداشت نہیں کر سکتی۔

پاکستان نے مسلسل افغان عبوری حکومت کو پانچ درجن سے زائد ٹی ٹی پی کیمپوں کی موجودگی سے آگاہ کیا۔ یہ محض سیاسی الزام نہیں تھا بلکہ دہشت گرد حملوں، گرفتار افراد، مارے گئے دہشت گردوں، مواصلاتی شواہد اور حملوں کے طریقہ کار سے جڑا ہوا ایک مسلسل نمونہ تھا۔ پاکستان کے اندر سکیورٹی فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے تین سو سے زائد افغان شہریوں کی شناخت ناموں اور مکمل پتوں کے ساتھ ہوئی۔ پشاور، بنوں، بیشام، ڈیرہ اسماعیل خان اور شمالی وزیرستان جیسے حملوں میں افغان شہریوں یا افغانستان میں موجود عملیاتی نیٹ ورکس کے روابط سامنے آتے رہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کے دوران مارے گئے ایک دہشت گرد کی شناخت بدرالدین عرف یوسف کے نام سے ہوئی، جو افغانستان کے صوبہ بادغیس کے نائب گورنر کا حقیقی بیٹا بتایا گیا۔ اسی طرح کیڈٹ کالج وانا حملے میں ملوث پانچوں دہشت گرد افغان شہری قرار دیے گئے، جبکہ بنوں ایف سی ہیڈکوارٹرز حملے میں ہلاک ہونے والے چار خودکش حملہ آور بھی افغان شہری تھے۔

یہ واقعات الگ تھلگ نہیں بلکہ ایک منظم عملیاتی زنجیر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ٹی ٹی پی افغانستان کے اندر کھلی آزادی کے ساتھ بھرتی، تربیت، نقل و حرکت اور منصوبہ بندی کرتی رہی ہے۔ عوامی مقامات، مساجد اور کمزور پناہ گزین آبادیوں میں بھرتی کا عمل اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ محض سرحد پار چھپے ہوئے چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع دہشت گرد نیٹ ورک کا معاملہ ہے۔ حالیہ حملے، جن میں آٹھ جون دو ہزار چھبیس کا حسن خیل پوسٹ حملہ اور اپریل تا مئی دو ہزار چھبیس کے بنوں پولیس حملے شامل ہیں، واضح کرتے ہیں کہ سفارتی مصروفیت کے باوجود دہشت گردی کا سلسلہ رکا نہیں۔

پاکستان کے خدشات صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس بار بار افغانستان میں ٹی ٹی پی، القاعدہ اور داعش خراسان کی موجودگی اور سرگرمیوں کی نشاندہی کر چکی ہیں۔ سولہویں رپورٹ میں افغانستان سے بیس سے زائد دہشت گرد تنظیموں اور تیرہ ہزار تک غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی موجودگی کا ذکر کیا گیا، جبکہ یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ کسی رکن ریاست نے طالبان کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہ باقی نہیں رہے۔ سینتیسویں رپورٹ نے افغان سرزمین سے سرحد پار حملوں میں اضافے اور طالبان کے دور میں ٹی ٹی پی کو زیادہ عملیاتی آزادی ملنے کی نشاندہی کی۔ افغانستان کی تعمیر نو سے متعلق امریکی خصوصی انسپکٹر جنرل کے جائزوں میں بھی چھ ہزار سے ساڑھے چھ ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں اور القاعدہ قیادت کی موجودگی جیسے نکات سامنے آئے۔

خلیل زاد اس بنیادی حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں کہ دوحہ معاہدے میں طالبان نے یہ وعدہ کیا تھا کہ افغان سرزمین دہشت گرد گروہوں کے استعمال میں نہیں آئے گی۔ پھر سوال یہ ہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے ایک سال بعد ایمن الظواہری کابل کے ایک محفوظ گھر میں کیسے پایا گیا؟ یہ واقعہ طالبان کے انسداد دہشت گردی وعدوں پر ایک سنگین سوالیہ نشان تھا۔ اگر دوحہ واقعی کامیاب سفارت کاری تھی تو اس کے نتیجے میں خطے کو دہشت گردی کے نئے خطرات کیوں ملے؟

زلمے خلیل زاد نے برسوں تک پاکستان سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تعاون مانگا۔ جب دوحہ معاہدے کا سیاسی کریڈٹ ان کے حصے میں آیا تو انہوں نے پاکستان ہی کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔ یہ رویہ نہ منصفانہ ہے نہ دیانت دارانہ۔ پاکستان نے سیاسی، عسکری اور تکنیکی سطح پر بار بار مکالمہ کیا، مگر اصل مسئلہ مکالمے کی کمی نہیں بلکہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد ڈھانچوں کے خلاف قابل تصدیق، مستقل اور مؤثر کارروائی کی عدم موجودگی ہے۔

لہٰذا خلیل زاد کا بیانیہ پاکستان کی سفارت کاری کو نہیں، خود ان کی اپنی سفارت کاری کے نتائج کو بے نقاب کرتا ہے۔ پاکستان نے صبر کیا، شواہد پیش کیے، احتجاج کیا، وفود بھیجے، مشترکہ فورمز استعمال کیے اور عالمی اصولوں کے مطابق مطالبات رکھے۔ مگر جب دوسری طرف وعدوں کے بجائے پناہ گاہیں، یقین دہانیوں کے بجائے حملے، اور سفارتی بیانات کے بجائے لاشیں ملیں تو پاکستان کا سوال بالکل جائز ہے: سفارت کاری کب تک یک طرفہ صبر کا نام رہے گی؟

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔