Nigah

دریائے سندھ پاکستان کی شہ رگ ہے

[post-views]

جنوبی ایشیا کی سیاست میں بہت سے تنازعات وقت کے ساتھ شدت اختیار کرتے رہے ہیں، مگر پانی کا مسئلہ ان سب سے زیادہ حساس، بنیادی اور انسانی نوعیت کا حامل ہے۔ پانی سرحدوں، نعروں اور وقتی سیاسی فائدوں سے بڑا مسئلہ ہے، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست انسانی زندگی، زراعت، خوراک، روزگار اور قومی سلامتی سے ہے۔ اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کے لیے دریائے سندھ کا نظام صرف آبی وسائل کا معاملہ نہیں بلکہ قومی بقا، معاشی استحکام اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔

اس سیمینار میں خرم دستگیر کے خطاب نے بھارت کے حالیہ طرزِ عمل پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق بھارت نے پانی سے متعلق اپنی دھمکیوں کو محض بیانات تک محدود نہیں رکھا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ چناب کے بہاؤ پر عارضی پابندیوں سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات، جنہیں سزا اور دباؤ کے طور پر بیان کیا گیا، نہایت تشویش ناک ہیں۔ دریا کسی ریاست کی سیاسی ناراضی کا ہتھیار نہیں ہو سکتے۔ جب پانی کو دباؤ، سزا یا انتقام کے طور پر استعمال کیا جائے تو اس کا نشانہ حکومتیں نہیں بلکہ کسان، مزدور، دیہی خاندان اور عام شہری بنتے ہیں۔

امیت شاہ کے اس بیان کا حوالہ بھی انتہائی اہم ہے جس میں پانی راجستھان کی طرف موڑنے کی بات کی گئی۔ ایسے بیانات کو محض داخلی سیاست یا انتخابی ماحول کا حصہ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کے اثرات سرحد پار لاکھوں انسانوں کی زندگیوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ سندھ طاس معاہدہ اسی لیے وجود میں آیا تھا کہ بالائی اور زیریں ریاستوں کے درمیان پانی کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔ اگر کوئی فریق اپنی جغرافیائی پوزیشن کو دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے لگے تو یہ نہ صرف معاہدے کی روح کے خلاف ہے بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بھی انحراف ہے۔

پاکستان کا مؤقف جذباتی ردعمل نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور آبی انصاف کے اصولوں پر مبنی ہے۔ پانی تک رسائی انسان کے حقِ زندگی، خوراک، صحت اور باوقار روزگار سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کی زرعی معیشت کا بڑا حصہ دریائے سندھ کے نظام پر منحصر ہے۔ گندم، کپاس، چاول، باغات، مویشی، دیہی بازار اور لاکھوں گھروں کا چولہا اسی پانی سے وابستہ ہے۔ اس لیے پاکستان کے پانی کے حصے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ صرف ایک سفارتی خلاف ورزی نہیں بلکہ انسانی زندگیوں پر براہ راست حملہ تصور کی جائے گی۔

روسی ماہر ڈاکٹر روکسلانا زیگون کی گفتگو نے اس بحث کو عالمی تناظر فراہم کیا۔ انہوں نے بجا طور پر سندھ طاس معاہدے کو عالمی سطح پر ایک پائیدار اور مؤثر فریم ورک قرار دیا، جو عالمی بینک کی ثالثی سے وجود میں آیا اور کئی دہائیوں کی پاک بھارت کشیدگی کے باوجود برقرار رہا۔ یہ معاہدہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ شدید سیاسی اختلافات کے باوجود پانی جیسے بنیادی مسئلے پر تعاون ممکن ہے، بشرطیکہ دونوں فریق قانون، ادارہ جاتی رابطے اور طے شدہ طریقہ کار کا احترام کریں۔ دریاؤں کی تقسیم، مستقل انڈس کمیشن اور تنازعات کے حل کا نظام اس معاہدے کی اصل طاقت ہیں۔

ڈاکٹر زیگون کی یہ تنبیہ بھی نہایت قابلِ غور ہے کہ یکطرفہ اقدامات اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں بھارت کی ساکھ کو عالمی فورمز پر کمزور کرتی ہیں۔ کوئی ریاست ایک طرف خود کو ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کرے اور دوسری طرف اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ ایک پابند معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کرے، تو اس کے دعوے مشکوک ہو جاتے ہیں۔ عالمی نظام معاہدوں، ضابطوں اور قانونی پابندیوں پر قائم ہے۔ اگر سندھ طاس جیسے کامیاب معاہدے کو سیاسی دباؤ کے تحت کمزور کیا گیا تو یہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ دنیا کے تمام سرحدی دریاؤں کے لیے خطرناک مثال بنے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا یہ مؤقف درست اور بروقت ہے کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام قانونی اور سفارتی راستے اختیار کرے گا۔ پاکستان کو اس مسئلے پر جذباتی نعروں سے زیادہ منظم قانونی تیاری، مؤثر سفارت کاری اور عالمی رائے عامہ کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ پانی کا حق مقدس ہے، ایک گہری حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں لوگ براہ راست زراعت اور دریائے سندھ سے وابستہ ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی، سیلاب، خشک سالی اور پانی کی کمی پہلے ہی پاکستان کو شدید دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں، ایسے میں بھارت کی طرف سے معاہدے کو کمزور کرنے کی کوئی بھی کوشش خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

مہر علی شاہ کی گفتگو نے قانونی محاذ پر پاکستان کے مؤقف کو مزید مضبوط کیا۔ عدالتِ ثالثی نے سندھ طاس معاہدے کے تنازعاتی حل کے نظام کو تقویت دی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ بھارت کی عدم شرکت یا معاہدے کو معطل سمجھنے کی پوزیشن عدالت کے اختیار کو متاثر نہیں کرتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی فریق محض شرکت سے انکار کر کے قانونی عمل کو غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔ عدالت کے فیصلے حتمی اور پابند ہیں، اور بھارت پر لازم ہے کہ مغربی دریاؤں کا پانی بہنے دے، سوائے ان محدود استثنائی صورتوں کے جو معاہدے میں واضح طور پر درج ہیں۔

احمر بلال صوفی نے بھارت کے نام نہاد ’’ابینس‘‘ مؤقف کی قانونی کمزوری کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا۔ بین الاقوامی قانون میں معاہدے کی معطلی، خاتمے یا مخصوص استثنائی صورتوں کے لیے باقاعدہ اصول موجود ہیں، مگر کوئی ایسا مبہم درجہ تسلیم شدہ نہیں جس کے ذریعے ایک ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے بچ نکلے۔ ویانا کنونشن برائے قانونِ معاہدات بھی ایسے غیر واضح سیاسی مؤقف کو قانونی حیثیت نہیں دیتا۔ اس لیے بھارت کا یہ رویہ قانونی دلیل سے زیادہ سیاسی حربہ دکھائی دیتا ہے۔

وفاقی وزیر مصدق ملک کی طرف سے کسان اقبال سولنگی کی کہانی نے اس پورے مسئلے کا انسانی چہرہ سامنے رکھ دیا۔ ۲۰۱۰، ۲۰۱۲ اور ۲۰۲۲ کے سیلابوں نے اس کے گھر، مویشی، بچوں کی تعلیم اور روزگار کو تباہ کیا، یہاں تک کہ نسلوں سے جاری خاندانی کاشتکاری چھوڑ کر اسے مزدوری پر مجبور ہونا پڑا۔ اقبال سولنگی اکیلا نہیں، وہ ان بے شمار پاکستانیوں کی علامت ہے جو پانی سے جڑی آفات، بدانتظامی اور علاقائی کشیدگی کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے ایک قانونی دستاویز سے بڑھ کر زندگی کا تحفظ ہے۔ اسے کمزور کرنے کی ہر کوشش کا مقابلہ قانون، سفارت کاری، قومی اتحاد اور عالمی سطح پر مضبوط مؤقف کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔ بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ پانی کو ہتھیار بنانا طاقت نہیں بلکہ بین الاقوامی ذمہ داریوں سے فرار ہے۔ دریائے سندھ سیاست کا میدان نہیں، زندگی کا سرچشمہ ہے، اور اس کے تحفظ پر پاکستان کا مؤقف نہ صرف جائز بلکہ ناگزیر ہے۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔