Nigah

منبر، مدرسہ اور سیاست کی حدیں

[post-views]

اسلامی معاشرے میں علم محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے۔ اس امانت کی نسبت انبیا علیہم السلام سے جڑتی ہے، اس لیے عالم دین کی ذمہ داری کسی سیاسی کارکن، انتخابی امیدوار یا جماعتی ترجمان سے بنیادی طور پر مختلف ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ علما انبیا کے وارث ہیں اور انبیا نے دینار و درہم نہیں بلکہ علم ورثے میں چھوڑا ہے۔ سنن ابی داؤد کی حدیث ۳۶۴۱ میں بیان کردہ یہ اصول واضح کرتا ہے کہ نبوی وراثت کا اصل سرمایہ علم، کردار، ہدایت اور خدمت ہے، نہ کہ منصب، سیاسی مراعات یا انتخابی اثر و رسوخ۔

قرآن مجید میں انبیا علیہم السلام کی دعوت کا ایک نمایاں وصف یہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی دینی خدمت کے بدلے لوگوں سے کوئی اجر طلب نہیں کیا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا، ’’اور میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا سوال نہیں کرتا، میرا اجر تو صرف رب العالمین کے ذمہ ہے۔‘‘ سورۃ الشعراء کی آیت ۱۲۷ سمیت یہ مضمون متعدد مقامات پر آیا ہے۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ دینی رہنمائی کو سیاسی سرپرستی، مالی فائدے یا انتخابی حمایت کے عوض استعمال نہ کیا جائے۔

عالم دین کو قومی معاملات پر رائے دینے، ظلم کی مخالفت کرنے اور حکمرانوں کا احتساب کرنے کا پورا حق ہے۔ درحقیقت حق گوئی اس کی ذمہ داری ہے۔ اصل مسئلہ سیاسی شعور نہیں بلکہ سیاسی استحصال ہے۔ جب منبر سے کسی امیدوار کے لیے ووٹ مانگا جائے، مخالفین کے ایمان پر سوال اٹھایا جائے یا فتوے کو انتخابی ہتھیار بنایا جائے تو دینی رہنمائی اپنی غیر جانب دار اخلاقی قوت کھونے لگتی ہے۔ ایسی صورت میں لوگ فتویٰ کو شرعی رائے کے بجائے جماعتی اعلان سمجھنے لگتے ہیں۔

قرآن مجید نے مسجد ضرار کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح مذہبی عمارت کو نقصان پہنچانے، اہل ایمان میں تفرقہ ڈالنے اور پوشیدہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ سورۃ التوبہ کی آیت ۱۰۷ کا سبق صرف ایک تاریخی عمارت تک محدود نہیں۔ یہ ہر دور کے مسلمانوں کو خبردار کرتا ہے کہ مذہبی تقدس کے پردے میں تقسیم اور مفاد کی سیاست نہ کی جائے۔ انتخابی موسم میں مساجد اور مدارس کو جماعتی مہم کے مراکز بنانا اسی خطرناک روش سے مشابہت پیدا کرتا ہے۔

دینی خدمت کی روح نیت کی پاکیزگی میں پوشیدہ ہے۔ صحیح البخاری کی پہلی حدیث کے مطابق اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے۔ اگر کوئی عالم اللہ کی رضا، حق کی وضاحت اور معاشرے کی اصلاح کے بجائے کسی سیاسی سرپرست کو خوش کرنے کے لیے فتویٰ دیتا ہے تو اس کی بات بظاہر دینی ہونے کے باوجود اخلاقی اعتبار سے کمزور ہو جاتی ہے۔ فتویٰ دلیل، تحقیق اور دیانت سے صادر ہونا چاہیے، جلسے کے ماحول، انتخابی ضرورت یا حکمران کی خواہش سے نہیں۔

امام ابو حنیفہؒ کی زندگی علمی خودمختاری کی روشن مثال پیش کرتی ہے۔ انہوں نے حکمرانوں کی جانب سے عدالتی منصب قبول کرنے سے انکار کیا اور قید و سختی برداشت کی، مگر اپنی علمی آزادی کو اقتدار کے تابع نہیں ہونے دیا۔ ان کا طرز عمل بتاتا ہے کہ عالم کی اصل قوت سرکاری عہدے، سیاسی قربت یا جماعتی حمایت میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہوتی ہے جو اس کی دیانت، بے نیازی اور اصول پسندی سے پیدا ہوتا ہے۔

پاکستان کا انتخابی قانون ۲۰۱۷ء بھی عبادت گاہوں کو ووٹ مانگنے یا کسی امیدوار کے حق یا مخالفت میں انتخابی مہم کے لیے استعمال کرنے کو ناجائز اثراندازی کے دائرے میں رکھتا ہے۔ یہ پابندی مذہب کو اجتماعی زندگی سے خارج نہیں کرتی بلکہ اس کے تقدس کو انتخابی سوداگری سے محفوظ بناتی ہے۔ یہی مفہوم قرآن کے اس حکم سے ہم آہنگ ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کیا جائے اور جانتے بوجھتے حق نہ چھپایا جائے۔

مدارس کی بنیادی ذمہ داری قرآن و سنت کی تعلیم، کردار سازی، تحقیق اور معاشرتی خدمت ہے۔ اگر کسی مدرسے کی شناخت ایک مخصوص جماعت کے انتخابی دفتر یا بھرتی گاہ میں بدل جائے تو طلبہ کی علمی تربیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ وہ اختلاف کو علمی انداز میں سمجھنے کے بجائے ہر مسئلے کو جماعتی وفاداری کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ اس لیے شفاف رجسٹریشن، مالی حساب دہی اور متوازن نصاب مدارس کی آزادی سلب کرنے کے بجائے انہیں سیاسی، فرقہ وارانہ اور شدت پسند استحصال سے بچا سکتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ علم کو لوگوں کے سینوں سے اچانک نہیں نکالے گا بلکہ علما کے اٹھ جانے سے علم کم ہوتا جائے گا۔ پھر لوگ جاہلوں کو اپنا رہنما بنائیں گے، جو بغیر علم کے فتوے دے کر خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ صحیح البخاری کی حدیث ۱۰۰ آج کے ماحول میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، جہاں سیاسی کارکن مذہبی مقتدا کا روپ اختیار کرکے پیچیدہ دینی مسائل پر قطعی فیصلے سنانے لگتے ہیں۔

دین کا حقیقی مزاج مخلصانہ خیر خواہی ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث ۵۵ میں دین کو خیر خواہی قرار دیا گیا ہے۔ عالم کی خیر خواہی یہ ہے کہ وہ حکومت کی درست بات کی تائید اور غلطی کی اصلاح کرے، مگر کسی جماعت کا مستقل دفاعی مورچہ نہ بنے۔ اسی طرح اسے حزب اختلاف کی ہر بات کو حق اور حکومت کے ہر اقدام کو باطل قرار دینے سے بھی بچنا چاہیے۔ اس کی وفاداری شخصیات کے بجائے اصول، عدل اور سچائی کے ساتھ ہونی چاہیے۔

سیرت میں منقول ہے کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو دعوت سے دستبردار کرنے کے لیے مال، اقتدار اور سماجی مرتبے کی پیش کش کی، مگر آپ ﷺ نے اصولی استقامت کا راستہ اختیار کیا۔ سورج اور چاند والی معروف تعبیر اسی غیر متزلزل عزم کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس واقعے کا مرکزی سبق یہ ہے کہ حق کا پیغام دنیاوی فائدے کے بدلے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ نبوی وراثت کے امینوں سے بھی یہی اخلاقی استقامت مطلوب ہے۔

پاکستان کا استحکام ایسے علما اور مدارس سے وابستہ ہے جو معاشرے کو جوڑیں، اختلاف میں تہذیب پیدا کریں اور سیاسی طاقت کے مراکز سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے حق بات کہیں۔ سیاسی وابستگی وقتی فائدہ دے سکتی ہے، مگر علمی آزادی نسلوں کا اعتماد پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو اس سے ڈرتا ہے، وہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔ نبوی وراثت کی حفاظت کا راستہ یہی ہے کہ دین کو اقتدار کی سیڑھی نہیں بلکہ ہدایت، دیانت اور خدمت کا سرچشمہ بنایا جائے۔

Author

  • ڈاکٹر حمزہ خان

    ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔