بھارت میں اسٹریٹ وینڈرز صرف سڑک کنارے سامان بیچنے والے لوگ نہیں، بلکہ شہری معیشت کا وہ خاموش ستون ہیں جو لاکھوں گھروں کا چولہا جلاتا ہے۔ پھل، سبزی، کپڑا، کھانا، گھریلو اشیا اور روزمرہ ضرورت کی بے شمار چیزیں انہی غیر رسمی کارکنوں کے ذریعے کم قیمت پر عام لوگوں تک پہنچتی ہیں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ جن لوگوں کی محنت شہروں کو زندہ رکھتی ہے، انہی کو سب سے پہلے غیر قانونی، ناجائز اور “قبضہ گیر” قرار دیا جاتا ہے۔ اس سختی کا سب سے بڑا بوجھ خواتین اٹھاتی ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی گھریلو ذمہ داری، مالی کمزوری، سماجی دباؤ اور ریاستی بے حسی کے دوہرے اور تیسرے دباؤ میں زندگی گزارتی ہیں۔
مسئلہ صرف معاشی نہیں رہا، بلکہ اب یہ کھلے طور پر سیاسی اور شناختی ہو چکا ہے۔ بھارت میں اکثریتی سیاست نے روزگار کے سوال کو بھی مذہبی اکثریت اور اقلیت کے بیانیے سے جوڑ دیا ہے۔ اسٹریٹ وینڈرز کے خلاف آپریشن کو ٹریفک، صفائی، خوبصورتی یا نظم و ضبط کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، مگر زمینی حقیقت یہ بتاتی ہے کہ یہ کارروائیاں اکثر غریبوں، مسلمانوں اور خواتین کے خلاف طاقت کے اظہار میں بدل جاتی ہیں۔ جو عورت روزی کمانے کے لیے فٹ پاتھ پر بیٹھی ہوتی ہے، وہ اچانک ریاست، پولیس، بلدیاتی اداروں اور مقامی ہجوم کے درمیان پھنسی ہوئی ایک غیر محفوظ ہستی بن جاتی ہے۔
بھارت میں اسٹریٹ وینڈرز کے تحفظ کے لیے قانون موجود ہے، مگر اس کا نفاذ مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔ قانونی ڈھانچہ یہ کہتا ہے کہ وینڈرز کی شناخت ہو، انہیں مخصوص زون ملیں، بے دخلی کے لیے ضابطہ ہو، اور ان کے روزگار کو مکمل طور پر جرم نہ بنایا جائے۔ لیکن عملاً صورتحال اس کے برعکس ہے۔ جون ۲۰۲۵ میں نیشنل ایسوسی ایشن آف اسٹریٹ وینڈرز آف انڈیا نے دہلی سمیت کئی علاقوں میں مسلسل ہراسانی، سامان ضبطی اور ٹھیلوں کی مسماری کی شکایت کی۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ قانون صرف کاغذ پر رہ گیا ہے، جبکہ سڑک پر طاقت ہی اصل اصول ہے۔ اگر ایک عورت کے پاس شناختی کاغذ بھی ہو تب بھی اس کی ریڑھی الٹ دی جاتی ہے، سامان پھینک دیا جاتا ہے اور اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اس کی محنت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
یہی تضاد بھارت کے شہری نظام کی سب سے بڑی منافقت ہے۔ ایک طرف حکومت چھوٹے کاروبار، خواتین کی خودمختاری اور مالی شمولیت کے دعوے کرتی ہے، دوسری طرف انہی خواتین کو اپنی جگہ بچانے کے لیے روزانہ ذلت، رشوت، دھمکی اور تشدد جھیلنا پڑتا ہے۔ عورت اگر قرض لے کر مال خریدتی ہے، تو اس کے لیے ایک دن کی بھی بے دخلی تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ وہ نفع نہیں، نقصان میں چلی جاتی ہے؛ قرض واپس نہیں کر پاتی؛ گھر کے اخراجات رک جاتے ہیں؛ بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے؛ اور گھریلو تشدد تک بڑھ سکتا ہے۔ اس طرح بے دخلی محض شہری انتظام نہیں رہتی، بلکہ عورت کے پورے سماجی وجود پر حملہ بن جاتی ہے۔
بھارت میں خواتین اسٹریٹ وینڈرز کی بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنے خاندان کی بنیادی یا واحد کفیل ہے۔ بہت سی عورتیں بیوہ ہیں، شوہر کی بیماری یا بے روزگاری کے باعث خود کمانے پر مجبور ہیں، یا ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں جہاں گھر سے باہر کام کرنا بھی ایک سماجی جدوجہد ہے۔ جب انہی عورتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو نقصان صرف آمدنی کا نہیں ہوتا بلکہ عزت، تحفظ اور نقل و حرکت کی آزادی بھی چھننے لگتی ہے۔ پولیس یا بلدیاتی اہلکار اکثر خواتین کے ساتھ ایسے لہجے میں بات کرتے ہیں گویا وہ مجرم ہوں، حالانکہ وہ صرف زندگی گزارنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خواتین وینڈرز کے لیے سڑک صرف کاروبار کی جگہ نہیں بلکہ بقا کی لکیر ہے۔ ایک دکان دار کو شٹر بند کرنے کا اختیار ہوتا ہے، مگر فٹ پاتھ پر بیٹھی عورت کے پاس نہ مستقل ڈھانچہ ہوتا ہے، نہ ذخیرہ گاہ، نہ قانونی تحفظ اور نہ ہی فوری مدد کا کوئی نظام۔ اسی لیے جب سامان ضبط ہوتا ہے تو عورت کے پاس اگلے دن دوبارہ کاروبار شروع کرنے کا سرمایہ نہیں بچتا۔ اسے قرض، سونے کے زیور، یا گھر کے راشن میں سے کسی ایک کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ یہ ایک ایسی خاموش معاشی جنگ ہے جس میں ہار ہمیشہ غریب عورت کے حصے میں آتی ہے۔
جب اس مسئلے میں مذہبی شناخت شامل ہو جاتی ہے تو صورتحال اور زیادہ بھیانک ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر مسلم وینڈرز کے خلاف “لینڈ جہاد” یا “فرٹیلٹی جہاد” جیسے نفرت انگیز بیانیے گھڑے جاتے ہیں، تاکہ ان کی موجودگی کو صرف معاشی نہیں بلکہ تہذیبی اور آبادیاتی خطرہ ثابت کیا جا سکے۔ یہ زبان محض سیاسی نعرہ نہیں ہوتی؛ اس کے بعد مقامی بائیکاٹ، ہجومی تشدد، زبردستی نعرے لگوانا، شناخت کی توہین، اور خریداری سے انکار جیسی کارروائیاں سامنے آتی ہیں۔ جب کسی بستی یا بازار میں یہ بات پھیلا دی جائے کہ فلاں فروش “دوسرے” مذہب سے ہے، تو اس کے خلاف ماحول تیار ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
اقلیتی خواتین اس ماحول میں سب سے زیادہ کمزور ہو جاتی ہیں، کیونکہ وہ ایک ساتھ عورت، غریب اور مذہبی اقلیت ہونے کی سزا بھگتاتی ہیں۔ اگر وہ ہراسانی کی شکایت لے کر پولیس کے پاس جائیں تو اکثر انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ بعض اوقات الٹا انہیں ہی مشورہ دیا جاتا ہے کہ “ادھر نہ آیا کریں” یا “تنازع سے بچیں”۔ یعنی ریاست تحفظ دینے کے بجائے پیچھے ہٹ جانے کا مشورہ دیتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں جمہوریت کی اصل ناکامی سامنے آتی ہے: قانون سب کے لیے برابر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر تحفظ صرف ان کو ملتا ہے جو پہلے ہی طاقتور ہیں۔
آج کی ہراسانی صرف بازار میں نہیں شروع ہوتی، اکثر اس کی ابتدا موبائل فون کی اسکرین پر ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر مخصوص وینڈرز، بازاروں یا مسلم بستیوں کو “درانداز”، “غیر قانونی قابض” یا “مشکوک” کہہ کر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل مہمات محض رائے سازی نہیں کرتیں بلکہ اشارہ دیتی ہیں کہ کن لوگوں پر اگلا حملہ جائز سمجھا جائے۔ جب کسی عورت کی ریڑھی، نام، چہرہ یا مقامِ کاروبار آن لائن پھیلا دیا جائے، تو وہ نہ صرف معاشی طور پر بلکہ جسمانی طور پر بھی خطرے میں آ جاتی ہے۔ مقامی شدت پسند گروہ، اخلاقی پولیسنگ کرنے والے عناصر یا سیاسی طور پر متحرک ہجوم ایسی پوسٹوں کو کارروائی کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ اکثر ریاست اور سماج کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پہلے آن لائن بدنامی، پھر مقامی افواہیں، پھر خریداری کا بائیکاٹ، اور آخر میں بلدیاتی کارروائی یا ہجومی دھمکی۔ اس عمل میں عورت کے لیے سب سے تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ اسے کہیں بھی مکمل پناہ نہیں ملتی۔ گھر میں مالی دباؤ، بازار میں عدم تحفظ، اور اداروں میں بے اعتنائی؛ یہ تینوں مل کر اس کی زندگی کو مسلسل خوف میں بدل دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیتی خواتین وینڈرز کی کہانی صرف روزگار کی نہیں بلکہ شہری شہریت، جسمانی سلامتی اور انسانی وقار کی کہانی ہے۔
اگر بھارت واقعی ایک آئینی جمہوریت ہے تو پھر اسے اس بحران کا جواب بلڈوزر، بے دخلی اور تعصب سے نہیں بلکہ حقوق، تحفظ اور جوابدہی سے دینا ہوگا۔ سب سے پہلے غیر قانونی ضبطی اور بے دخلی کے خلاف سخت نگرانی ہونی چاہیے۔ خواتین وینڈرز، خاص طور پر اقلیتی خواتین کے لیے فوری شکایت، قانونی امداد اور معاوضے کا نظام ہونا چاہیے۔ مقامی سطح پر ان کے نمائندوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے، اور مذہبی بنیاد پر معاشی بائیکاٹ یا دھمکی دینے والوں کے خلاف واضح قانونی کارروائی کی جائے۔ سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے اور مخصوص وینڈرز کو نشانہ بنانے والے نیٹ ورکس پر بھی سنجیدہ کارروائی ضروری ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ بھارت کے پاس قوانین، اسکیمیں اور بیانات موجود ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کمزور شہری کے لیے بھی اتنے ہی مؤثر ہیں جتنے طاقتور کے لیے۔ جب ایک مسلم عورت اپنی ریڑھی بچانے کے لیے ریاست، ہجوم اور نفرت کے بیچ اکیلی کھڑی ہو، تو وہ دراصل پورے نظام کی سچائی سامنے لے آتی ہے۔ اگر اس کا رزق، اس کی عزت اور اس کی جگہ محفوظ نہیں، تو پھر جمہوریت کا دعویٰ محض نعرہ ہے۔ بھارت کی سڑکوں پر آج یہی آزمائش جاری ہے: کیا عوامی جگہ سب کی ہے، یا صرف ان کی جو اکثریت کے نام پر دوسروں کو دھکیل سکتے ہیں؟
Author
-
View all posts
مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔