Nigah

مولانا فضل الرحمان کے بیانات اور خوارج کے بیانیے کی مماثلت

[post-views]

پاکستان اس وقت دہشت گردی، انتہا پسندی اور داخلی سلامتی کے پیچیدہ چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں قومی سیاسی قیادت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی مؤقف کو مضبوط کرے، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا اعتراف کرے اور عوام کو واضح پیغام دے کہ مسلح جتھوں، فتنہ الخوارج اور ریاست مخالف عناصر کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھا جا سکتا۔ مگر افسوس کہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات ایک بار پھر ایسے سوالات کو جنم دے رہے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

مولانا فضل الرحمان نے ریاستی اداروں پر الزامات عائد کیے اور باجوڑ و وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر سوالات اٹھائے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کو اس انداز میں متنازع بنانا نہ صرف حساس معاملہ ہے بلکہ اس کے اثرات قومی سلامتی تک جا سکتے ہیں۔ جب ایک سینئر سیاسی و مذہبی رہنما ریاستی آپریشنز پر شکوک پیدا کرتا ہے مگر فتنہ الخوارج کے خلاف اسی شدت کے ساتھ واضح اور دوٹوک موقف اختیار نہیں کرتا، تو عوامی سطح پر ابہام پیدا ہوتا ہے۔ یہی ابہام ان عناصر کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے جو ریاست، آئین اور عوام کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے ریاستی پالیسیوں پر ایسے وقت میں تنقید کی ہو جب ملک دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کر رہا تھا۔ ماضی میں بھی نیشنل ایکشن پلان، مدارس کی رجسٹریشن اور انتہا پسندی کے نیٹ ورکس کو محدود کرنے کی کوششوں پر ان کی جماعت کی جانب سے تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ اصولی تنقید جمہوریت کا حصہ ہے، مگر جب ہر ریاستی اقدام کو مشکوک بنایا جائے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح اخلاقی و سیاسی لکیر نہ کھینچی جائے، تو یہ سوال فطری ہے کہ آخر یہ بیانیہ کس کے لیے فائدہ مند ہے؟

فتنہ الخوارج کا بیانیہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ ریاستی ادارے غلط ہیں، آپریشنز ناجائز ہیں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مخصوص علاقوں یا طبقات کے خلاف ہیں۔ جب کوئی سیاسی قیادت بھی یہی تاثر پیدا کرے، خواہ اس کی نیت کچھ بھی ہو، تو نتیجہ خطرناک نکلتا ہے۔ اس سے دہشت گرد عناصر کو پروپیگنڈا کا مواد ملتا ہے، عوامی ذہنوں میں شکوک پیدا ہوتے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو متنازع بنانے کی کوشش کو تقویت ملتی ہے۔ باجوڑ، وزیرستان، خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں کے عوام خود دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ رہے ہیں۔ ان علاقوں میں امن کی بحالی کے لیے جانیں دینے والے جوان بھی اسی قوم کے بیٹے ہیں۔ ان کی کارروائیوں کو بغیر ٹھوس شواہد کے مشکوک بنانا ذمہ دارانہ سیاست نہیں۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کی اپنی سیاسی اور مالی تاریخ بھی سوالات سے خالی نہیں رہی۔ نیب کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثوں، سرکاری زمین کی مبینہ کم قیمت پر الاٹمنٹ اور دیگر مالی معاملات پر تحقیقات کی خبریں ماضی میں سامنے آتی رہی ہیں۔ 64 کنال سرکاری زمین کی الاٹمنٹ، ڈیزل پرمٹ اسکیم، حج کوٹہ، قریبی افراد کی تقرریاں اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات بھی سیاسی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ الزامات عدالت میں ثابت ہونا الگ معاملہ ہے، مگر ایک عوامی رہنما کو اپنی شفافیت پر بھی اتنا ہی واضح ہونا چاہیے جتنا وہ ریاستی اداروں سے جواب دہی کا مطالبہ کرتا ہے۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ریاستی اداروں پر تنقید کا وقت اور انداز محض اصولی اختلاف ہے یا سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی؟ جب بھی سیاسی مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، بعض رہنما ریاستی بیانیے کو چیلنج کر کے اپنے لیے سیاسی جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر دہشت گردی جیسے حساس مسئلے کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کرنا قومی سطح پر نقصان دہ ہے۔ اس وقت ملک کو تقسیم شدہ بیانیے کی نہیں بلکہ واضح قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

مولانا فضل الرحمان اگر واقعی عوامی نمائندگی کا دعویٰ رکھتے ہیں تو انہیں دوٹوک الفاظ میں بتانا ہوگا کہ وہ فتنہ الخوارج، دہشت گردی، خودکش حملوں، ریاست مخالف مسلح گروہوں اور انتہا پسند نیٹ ورکس کے بارے میں کیا مؤقف رکھتے ہیں۔ صرف ریاستی اداروں پر سوال اٹھانا کافی نہیں۔ اگر کسی کارروائی میں زیادتی ہوئی ہے تو اس کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے، مگر اس مطالبے کو دہشت گردوں کے بیانیے سے الگ رکھنا بھی سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان کے عوام، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے لوگ، امن چاہتے ہیں۔ وہ نہ دہشت گردوں کے رحم و کرم پر رہنا چاہتے ہیں اور نہ سیاسی بیانات کے ذریعے پیدا ہونے والی کنفیوژن کا شکار ہونا چاہتے ہیں۔ اس لیے مولانا فضل الرحمان کو واضح پوزیشن اختیار کرنی چاہیے۔ ریاستی پالیسی پر تنقید کریں، مگر فتنہ الخوارج کے خلاف بھی اتنی ہی سخت، واضح اور غیر مبہم زبان استعمال کریں۔ کیونکہ دہشت گردی کے معاملے میں ابہام بھی ایک طرح کی کمزوری ہے، اور کمزوری کا فائدہ ہمیشہ ریاست دشمن قوتیں اٹھاتی ہیں۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔