Nigah

شکست خوردہ اور بوکھلائے خوارج

[post-views]

بنوں کے علاقے فتح خیل میں پولیس چوکی پر خودکش حملہ محض ایک دہشت گردی کی واردات نہیں، بلکہ اس ذہنیت کا کھلا اعتراف ہے جو میدانِ عمل میں شکست کھانے کے بعد عام سپاہی، چوکی، تھانے اور عوامی تحفظ کے اداروں کو نشانہ بنا کر اپنی موجودگی ثابت کرنا چاہتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق بارود سے بھری گاڑی فتح خیل پولیس پوسٹ سے ٹکرائی گئی، جس کے بعد شدید فائرنگ ہوئی اور متعدد پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ ڈان، رائٹرز اور ریڈیو پاکستان سمیت مختلف ذرائع نے شہدا کی تعداد پندرہ تک بتائی ہے، جبکہ حملے کے بعد بنوں میں نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی۔ یہ واقعہ خیبر پختونخوا پولیس کی اس frontline قربانی کی تازہ مثال ہے جسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اکثر پوری شدت سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔

خوارج کا یہ طریقۂ واردات نیا نہیں۔ جب وہ عوامی حمایت، اخلاقی جواز اور ریاستی رٹ کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی طاقت کھو دیتے ہیں تو وہ آسان اہداف تلاش کرتے ہیں۔ پولیس چوکی پر حملہ اسی بوکھلاہٹ کی علامت ہے۔ پولیس اہلکار نہ تو محلات میں بیٹھے ہوتے ہیں، نہ جدید ترین دفاعی حصار میں؛ وہ گلی، بازار، چوکی، ناکے اور تھانے میں عوام کے درمیان کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد انہیں نشانہ بنا کر ریاست کے اعتماد کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے: ہر شہید پولیس اہلکار ریاست اور عوام کے رشتے کو مزید مضبوط کرتا ہے، کیونکہ اس کی قربانی بتاتی ہے کہ امن کسی کاغذی نعرے کا نام نہیں بلکہ وردی پہن کر رات کے اندھیرے میں ڈیوٹی دینے کا نام ہے۔

فتح خیل حملے میں جس بے رحمی سے بارود بھری گاڑی استعمال کی گئی، وہ دراصل عسکری کامیابی نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ جو لوگ خود کو کسی نظریے کا علمبردار کہتے ہیں، وہ اگر سوئے ہوئے، ڈیوٹی پر کھڑے یا محدود وسائل رکھنے والے پولیس اہلکاروں کو خودکش دھماکے سے اڑائیں تو ان کا نظریہ نہیں، ان کی شکست بولتی ہے۔ یہ جنگجو نہیں، خوف کے سوداگر ہیں۔ ان کا ہدف صرف پولیس نہیں؛ ان کا اصل ہدف عوام کا اعتماد، ریاستی نظم، مقامی معیشت، بچوں کی تعلیم، بازار کی رونق اور مسجد و مدرسے کا امن ہے۔ بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور قبائلی اضلاع کے عوام اس حقیقت کو سب سے زیادہ سمجھتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اس آگ کو سب سے قریب سے دیکھا ہے۔

یہاں ایک تلخ سوال بھی اٹھتا ہے: خیبر پختونخوا پولیس کو کب تک محدود وسائل، کم نفری، ناکافی حفاظتی ڈھانچے اور مسلسل خطرے کے باوجود فرنٹ لائن پر تنہا محسوس کرایا جاتا رہے گا؟ دہشت گرد جدید ہتھیار، بارودی گاڑیاں، ڈرون یا کواڈ کاپٹر جیسی تکنیک استعمال کریں اور پولیس چوکیوں کو روایتی انداز میں چھوڑ دیا جائے تو یہ صرف بہادری کا امتحان نہیں، پالیسی کی کمزوری بھی ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس کو بلٹ پروفنگ، جدید نگرانی، محفوظ چوکیوں، فوری کمک، بہتر انٹیلی جنس شیئرنگ، نفسیاتی معاونت اور شہدا کے خاندانوں کے لیے باوقار پیکج کی ضرورت ہے۔ شہیدوں کو سلام پیش کرنا ضروری ہے، مگر زندہ سپاہیوں کو بہتر تحفظ دینا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

اس حملے کے بعد بعض رپورٹس میں ایک نئے عسکری اتحاد کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کا ذکر آیا، جسے حکام پاکستانی طالبان یا اس کے نیٹ ورک سے وابستہ سمجھتے ہیں۔ پاکستان نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرحد پار محفوظ ٹھکانے دہشت گردی کو تقویت دیتے ہیں، جبکہ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ یہ سفارتی بحث اپنی جگہ، لیکن پاکستان کے لیے بنیادی نکتہ واضح ہے: داخلی سلامتی کو صرف بیانات سے نہیں، مربوط حکمت عملی سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ سرحدی نگرانی، مقامی انٹیلی جنس، مالی معاونت کے نیٹ ورکس کا خاتمہ، سہولت کاروں کی گرفت، اور انتہا پسند بیانیے کی فکری شکست ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں۔

خوارج کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ عوام کے دل نہیں جیت سکے۔ وہ خوف پیدا کر سکتے ہیں، جنازے بڑھا سکتے ہیں، عمارتیں گرا سکتے ہیں، مگر وہ شہید کی ماں کے صبر، بچے کے فخر اور ساتھی اہلکار کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتے۔ فتح خیل کے شہدا نے ثابت کیا کہ پولیس صرف قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں، بلکہ ریاست کی وہ دیوار ہے جس پر سب سے پہلے پتھر آتا ہے۔ اس دیوار کو مضبوط کرنا قومی فرض ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف فوج یا پولیس کی جنگ نہیں؛ یہ معاشرے، سیاست، عدالت، مدرسے، میڈیا اور ہر ذمہ دار شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

بنوں کا حملہ ہمیں سوگ کے ساتھ ساتھ سنجیدگی کا پیغام دیتا ہے۔ یہ وقت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، مبہم بیانات یا عارضی غصے کا نہیں، بلکہ واضح قومی عزم کا ہے۔ پولیس کو آسان ہدف سمجھنے والے شکست خوردہ اور بوکھلائے خوارج کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کی قیمت بہت بھاری ادا کی ہے، مگر وہ ریاست کے دشمنوں کے سامنے جھکنے والے نہیں۔ فتح خیل کے شہدا کا خون تقاضا کرتا ہے کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ان کے فکری حامیوں کے خلاف فیصلہ کن، مسلسل اور غیر مبہم کارروائی کی جائے۔ امن خیرات میں نہیں ملتا؛ اسے قربانی، حکمت، اتحاد اور مضبوط ریاستی ارادے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ بنوں کے شہدا نے اپنا فرض ادا کر دیا، اب ریاست اور معاشرے کی باری ہے کہ وہ ان کی قربانی کو محض خبر نہیں، قومی عہد بنائیں۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔