ہمارے ہاں ایک عجیب روایت بن چکی ہے کہ جب کوئی معاملہ قانون، معاہدے اور دستاویزی حقائق کی بنیاد پر کمزور پڑنے لگتا ہے تو اسے فوراً سیاسی انتقام، ادارہ جاتی زیادتی یا کسی مخصوص طبقے کے خلاف کارروائی کا رنگ دے دیا جاتا ہے۔ گرینڈ حیات بی این پی لیز کیس بھی بظاہر اسی رویے کی ایک واضح مثال ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کس ادارے نے کس وقت کارروائی کی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا لیز کی شرائط پوری کی گئیں؟ کیا سرکاری زمین کا استعمال اسی مقصد کے لیے ہوا جس کے لیے وہ الاٹ کی گئی تھی؟ اور کیا قومی خزانے کے واجبات بروقت ادا کیے گئے؟ اگر ان سوالات کا جواب نفی میں ہے تو پھر اس معاملے کو محض سیاسی بیانیے کے پردے میں چھپانا حقائق سے فرار کے سوا کچھ نہیں۔
سی ڈی اے نے 2005 میں اسلام آباد کے انتہائی قیمتی مقام پر تقریباً 13.5 ایکڑ زمین ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے منصوبے کے لیے الاٹ کی۔ بی این پی کمپنی نے یہ لیز 4.8 ارب روپے میں حاصل کی۔ اصولاً ایسی قیمتی سرکاری زمین کا مقصد دارالحکومت میں بین الاقوامی معیار کی ہوٹلنگ، سیاحت، کاروباری سرگرمیوں اور ریاستی آمدنی میں اضافہ ہونا چاہیے تھا۔ مگر معاملہ ابتدا ہی سے متنازع سمت اختیار کرتا گیا۔ سی ڈی اے نے صرف 15 فیصد ادائیگی پر کمپنی کو تعمیر کے لیے جگہ دے دی، لیکن بعد میں کمپنی کی جانب سے مکمل ادائیگی نہ ہو سکی۔ پھر ری شیڈولنگ کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ یہ کوئی معمولی نجی لین دین نہیں تھا، بلکہ سرکاری اثاثے، عوامی مفاد اور قومی خزانے سے متعلق معاملہ تھا۔
یہ کیس عدالت تک پہنچا اور 2019 میں سپریم کورٹ نے لیز بحالی کے لیے بی این پی کو 17.5 ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد اصولی طور پر معاملہ واضح ہو جانا چاہیے تھا، کیونکہ سپریم کورٹ نے کمپنی کو ایک موقع دیا تھا کہ وہ مقررہ رقم ادا کر کے اپنی قانونی حیثیت بحال کرے۔ مگر دستیاب معلومات کے مطابق کمپنی نے اب تک صرف تقریباً 2.9 ارب روپے جمع کروائے، جبکہ تقریباً 14.5 ارب روپے کی نادہندگی برقرار رہی۔ جب عدالت کے حکم کے باوجود واجبات ادا نہ ہوں تو پھر لیز منسوخی کو غیر معمولی یا انتقامی اقدام کہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر 2023 میں لیز ختم کی گئی۔ یہاں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ریاست اگر اپنی زمین، اپنے معاہدے اور اپنے واجبات پر عمل درآمد نہ کروائے تو پھر قانون کی حکمرانی کا تصور محض کاغذی رہ جاتا ہے۔
ادائیگی کے مسئلے سے ہٹ کر بھی اس منصوبے میں ایک بڑا قانونی سوال موجود ہے۔ زمین فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے دی گئی تھی، مگر معاہدے کے برعکس یہاں 263 فلیٹس تعمیر کیے گئے۔ اگر معاہدے کا مقصد ہوٹل تھا تو رہائشی یا کمرشل فلیٹس کی تعمیر کیسے جائز قرار دی جا سکتی ہے؟ یہ صرف تعمیراتی خلاف ورزی نہیں بلکہ سرکاری زمین کے مقصد کے بنیادی انحراف کا معاملہ ہے۔ سی ڈی اے نے فلیٹس کے باہر نوٹس بھی آویزاں کیے کہ اس متنازع عمارت میں فلیٹس خریدنے والے افراد انجام کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ اس کے باوجود خرید و فروخت جاری رہی۔ ایسے معاملات میں خریداروں کی ہمدردی اپنی جگہ، مگر یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب سرکاری ادارہ پہلے ہی خطرے کی نشاندہی کر چکا تھا تو پھر سرمایہ کاری کس بنیاد پر کی گئی؟
اس کیس کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ 263 فلیٹس میں سے صرف 69 فلیٹس میں رہائش بتائی جاتی ہے، جبکہ باقی 194 فلیٹس پراپرٹی سرمایہ کاری اور خرید و فروخت کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ اصل رہائشی ضرورت سے زیادہ سرمایہ کاری اور منافع خوری کا ذریعہ بن گیا۔ مزید یہ کہ جن 69 فلیٹس میں رہائش ہے، ان میں بھی اطلاعات کے مطابق اصل رہائشیوں کی تعداد محدود ہے، جبکہ ایک بڑی تعداد مختصر مدتی کرائے، یعنی Airbnb طرز کے استعمال میں آتی ہے۔ اس نوعیت کے غیر منظم کرائے دارانہ استعمال میں سکیورٹی، رجسٹریشن، ٹیکس، اخلاقی اور قانونی نگرانی کے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ دارالحکومت کے حساس علاقے میں ایسے فلیٹس کا بے قاعدہ استعمال ریاستی اداروں کے لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر سی ڈی اے عملے اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے متعلقہ فلیٹس پر جا کر سات دن کا نوٹس دینا اسی عدالتی عمل کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اگر کارروائی عدالت کے حکم کے تحت ہو رہی ہے تو اسے محض انتظامی دھونس یا سیاسی انتقام کہنا درست نہیں۔ عدالتیں اسی لیے موجود ہیں کہ معاہدوں، واجبات، ملکیت اور عوامی مفاد سے متعلق تنازعات کا فیصلہ کریں۔ جب عدالتی حکم آ جائے تو اس پر عمل درآمد ریاستی اداروں کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے اصل قیمت ادا کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک نرم اور مصالحانہ راستہ ہے۔ اصولی طور پر جب سی ڈی اے پہلے ہی نوٹس لگا چکا تھا کہ خریدار انجام کے خود ذمہ دار ہوں گے، تو ریاست پر کوئی اخلاقی یا قانونی دباؤ نہیں ہونا چاہیے تھا کہ وہ ہر سرمایہ کاری کے نقصان کو عوامی خزانے سے پورا کرے۔ لیکن اگر حکومت نے عام خریداروں، محدود رہائشیوں اور ممکنہ متاثرین کے لیے کوئی ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے تو اسے فراخ دلی کہا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ ریلیف اصل نادہندہ، معاہدہ خلاف ورزی کرنے والے یا منافع کمانے والے عناصر کے لیے ڈھال نہیں بننا چاہیے۔
گرینڈ حیات بی این پی لیز کیس کا خلاصہ یہ ہے کہ معاملہ جذبات کا نہیں، قانون کا ہے۔ سرکاری زمین رعایت نہیں، امانت ہوتی ہے۔ لیز معاہدہ کوئی مشورہ نہیں، قانونی پابندی ہوتا ہے۔ عدالت کا حکم سیاسی بیان نہیں، قابل عمل فیصلہ ہوتا ہے۔ اگر واجبات ادا نہیں ہوئے، معاہدے کی شرائط بدلی گئیں، اور منصوبے کا اصل مقصد تبدیل کیا گیا تو پھر کارروائی ناگزیر تھی۔ اس کیس کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے اسے ایک مثال بنانا چاہیے کہ ریاستی زمین، قومی خزانے اور عدالتی فیصلوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت کسی کو نہیں ہونی چاہیے۔ قانون کی حکمرانی تبھی قائم ہو گی جب طاقتور سرمایہ کار، ادارے اور عام شہری سب ایک ہی اصول کے تابع ہوں۔
Author
-
View all posts
اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔