نام نہاد امارت اسلامی افغانستان کے طرزِ حکمرانی اور بیانیے کا سنجیدہ جائزہ لیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اس نظام کی بنیاد سچائی، شفافیت اور عدل سے زیادہ بیانیاتی کنٹرول، جھوٹے پروپیگنڈے اور حقائق کو مسخ کرنے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ افغان طالبان ایک طرف خود کو اسلامی نظام کا علمبردار قرار دیتے ہیں، مگر دوسری طرف ان کا عملی رویہ ان بنیادی اسلامی اصولوں سے متصادم نظر آتا ہے جن میں صداقت، دیانت، عدل، رحم اور انسانی جان کے احترام کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اسلام محض نعروں یا دعووں کا نام نہیں، بلکہ کردار، عمل اور امانت داری کا تقاضا کرتا ہے۔ جب کوئی حکومت یا گروہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے جھوٹ، فریب، غلط معلومات اور مخالفین کی کردار کشی کو ذریعہ بناتا ہے تو وہ اپنے ہی دعوے کی نفی کر دیتا ہے۔
افغان طالبان اور ان سے وابستہ پروپیگنڈا پلیٹ فارمز، خصوصاً المرصاد جیسے ذرائع، نے آج تک کھلے دل سے اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا کہ افغانستان کی سرزمین مختلف دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے۔ پاکستان برسوں سے اس دہشت گردی کا نشانہ ہے جس کی منصوبہ بندی، تربیت اور سہولت کاری سرحد پار موجود عناصر سے منسلک بتائی جاتی رہی ہے۔ جب بھی پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے بڑے ٹھکانوں، تربیتی مراکز یا سہولت کار نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی، طالبان کے حامی میڈیا نے فوراً اسے شہری آبادی، ہسپتال یا طبی مرکز پر حملہ قرار دینے کی کوشش کی۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف حقیقت کو دھندلا کرنے کی کوشش ہے بلکہ دہشت گردی کے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کی ایک منظم حکمت عملی بھی ہے۔
جھوٹ کی یہی توپیں طالبان کا سب سے بڑا ہتھیار ہیں۔ میدانِ جنگ میں اگر دہشت گرد بندوق، بارود اور خودکش حملوں کا سہارا لیتے ہیں تو اطلاعاتی محاذ پر ان کے حامی جھوٹی خبریں، پرانی تصاویر، غیر مصدقہ ویڈیوز اور جذباتی بیانیے استعمال کرتے ہیں۔ مقصد واضح ہے: دہشت گردی کے خلاف ریاستی کارروائی کو مشکوک بنانا، عوام کے ذہنوں میں الجھن پیدا کرنا، عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنا اور پاکستان کو دفاعی پوزیشن میں لانا۔ المرصاد جیسے پلیٹ فارمز اسی اطلاعاتی جنگ کا حصہ ہیں، جہاں سچ کو دبانے اور جھوٹ کو بلند آواز میں دہرانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ عام آدمی اصل حقیقت تک نہ پہنچ سکے۔
اسلامی تعلیمات اس طرزِ عمل کی قطعی اجازت نہیں دیتیں۔ قرآنِ مجید نے جھوٹ کو معمولی اخلاقی کمزوری نہیں بلکہ سنگین گناہ قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ یعنی جھوٹی بات سے بچو۔ اسی طرح سورۃ النحل میں فرمایا گیا: إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ یعنی جھوٹ وہی لوگ گھڑتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ جھوٹ، بہتان اور حقیقت کو مسخ کرنا ایمان کی روح کے خلاف ہے۔ جو لوگ شریعت کے نفاذ کا دعویٰ کرتے ہیں، ان پر تو یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ سچائی، انصاف اور امانت کو اپنا شعار بنائیں۔ مگر جب شریعت کا نام لے کر جھوٹ کو سیاسی ڈھال بنایا جائے تو یہ عمل دین کی خدمت نہیں بلکہ دین کے نام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
افغان طالبان کا مسئلہ صرف جھوٹا بیانیہ نہیں بلکہ وہ تضاد ہے جو ان کے دعووں اور اعمال کے درمیان پایا جاتا ہے۔ وہ خود کو اسلامی عدل کا نمائندہ کہتے ہیں، مگر خواتین کی تعلیم، اظہارِ رائے، سیاسی شمولیت، اقلیتوں کے تحفظ اور شہری آزادیوں کے حوالے سے ان کا طرزِ حکومت مسلسل سوالات کی زد میں ہے۔ اگر کوئی نظام واقعی اسلامی ہو تو اس کی پہچان خوف، جبر، خاموشی اور پروپیگنڈا نہیں بلکہ عدل، امن، علم، رحم اور شفافیت ہوتی ہے۔ اسلام میں ریاست کی ذمہ داری عوام کو تحفظ دینا ہے، نہ کہ انہیں خوف اور بیانیاتی دباؤ کے ماحول میں رکھنا۔
پاکستان نے افغانستان کے عوام کے لیے دہائیوں تک قربانیاں دیں۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، ان کی میزبانی کی، عالمی سطح پر افغانستان کے مسئلے کو اٹھایا اور ہر مشکل وقت میں افغان عوام کے لیے راستے کھولے۔ مگر افسوس کہ طالبان کی موجودہ قیادت نے اس احسان مندی کا جواب اعتماد، تعاون اور سرحدی امن سے نہیں دیا۔ پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کو روکنے کے بجائے ان کے وجود سے انکار کیا گیا، ان کے خلاف مؤثر کارروائی سے گریز کیا گیا، اور جب پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا تو اسے جارحیت کا نام دے کر جھوٹا شور مچایا گیا۔
یہاں اصل سوال یہ ہے کہ اگر افغانستان کی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی تو پھر طالبان آزاد، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات سے کیوں گریز کرتے ہیں؟ اگر حملوں کا نشانہ واقعی عام شہری ہوتے ہیں تو اس کے ناقابلِ تردید شواہد دنیا کے سامنے کیوں نہیں لائے جاتے؟ صرف سوشل میڈیا بیانات، جذباتی نعرے اور غیر مصدقہ تصاویر کسی بھی سنجیدہ الزام کو ثابت نہیں کر سکتیں۔ آج کی دنیا میں اطلاعاتی جنگ ضرور اہم ہے، مگر جھوٹ زیادہ دیر تک حقیقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ صرف سفارتی اختلاف نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ دہشت گردی سے ہزاروں پاکستانی شہری، افسران اور جوان شہید ہو چکے ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستان کو اپنے دفاع، اپنی سرحدوں کے تحفظ اور اپنے عوام کی سلامتی کے لیے ہر جائز قدم اٹھانے کا حق حاصل ہے۔ جو عناصر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔
آخرکار سچ اور جھوٹ کی جنگ میں دیر سویر فیصلہ حقائق ہی کرتے ہیں۔ طالبان اور ان کی پروپیگنڈا مشینری وقتی طور پر جھوٹ کی توپیں چلا سکتی ہے، مگر سچائی کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کیا جا سکتا۔ اگر نام نہاد امارت اسلامی واقعی اسلامی اصولوں کی دعویدار ہے تو اسے جھوٹ، فریب اور دہشت گردوں کی پردہ پوشی کے بجائے صداقت، شفافیت اور علاقائی امن کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر تاریخ اسے ایک ایسے نظام کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اسلام کا نام لیا، مگر اپنے عمل سے اسلام کی روشن تعلیمات کو مجروح کیا۔
Author
-
View all posts
محمد عبداللہ آسٹن یونیورسٹی، برطانیہ میں بین الاقوامی تعلقات میں امیدوار۔ ان کی تحقیقی دلچسپیاں عالمی سلامتی، خارجہ پالیسی کے تجزیہ اور بین الاقوامی سفارت کاری کی ابھرتی ہوئی حرکیات پر مرکوز ہیں۔ وہ علمی گفتگو میں فعال طور پر مصروف ہیں اور جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست اور کثیر جہتی تعلقات پر خاص زور دینے کے ساتھ علمی پلیٹ فارمز میں حصہ ڈالتے ہیں۔