Nigah

اسد طور کی فیک نیوز فیکٹری ایک بار پھر بے نقاب

[post-views]

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل جرنلزم کے اس جدید دور میں انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن (غلط معلومات) کے درمیان فرق کرنا سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں سینئر صحافی اور یوٹیوبر اسد طور کی ایک مبینہ ویڈیو شیئرنگ کے حوالے سے سامنے آنے والے حقائق اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح ویوز کی دوڑ اور سستی شہرت کے لیے پرانے اور بے سیاق و سباق واقعات کو نئی سنسنی بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ فراہم کردہ ڈیٹا کے تناظر میں، یہ تجزیہ موجودہ صحافتی رویوں، زرد صحافت (Yellow Journalism) کے اثرات اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی فیک نیوز فیکٹریوں کا ایک تحقیقی احاطہ کرتا ہے۔

سنسنی خیزی بمقابلہ ذمہ دارانہ صحافت

صحافت کا بنیادی اصول حقائق کی کھوج، غیر جانبداری اور ذمہ داری ہے۔ لیکن موجودہ دور میں، خاص طور پر یوٹیوب اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر، "کلک بیٹ” (Clickbait) اور فوری ویوز حاصل کرنے کا ایک ایسا رجحان چل پڑا ہے جہاں تحقیق کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ حالیہ واقعہ اس کی ایک کلاسک مثال ہے جہاں تقریباً 7 سال پرانی، یعنی 2020ء کے کووڈ 19 (COVID 19) لاک ڈاؤن کے ابتدائی دنوں کی ایک ویڈیو کو موجودہ دور کا واقعہ بنا کر سول سروسز، CSS اور سول سروسز اکیڈمی جیسے معتبر اداروں پر تنقید کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس قسم کا رویہ نہ صرف صحافتی اخلاقیات کے منافی ہے بلکہ اس سے عوام میں مایوسی اور گمراہی پھیلتی ہے۔ جب ایک صحافی تازہ خبر کی عدم موجودگی میں پرانی اور بے ربط کہانیوں کو جدید سازش کا رنگ دے کر پیش کرتا ہے، تو وہ اپنی پیشہ ورانہ ساکھ کو خود ہی داغدار کر دیتا ہے۔

پروپیگنڈا اور حقائق کا درست سیاق و سباق

کسی بھی واقعے کو سمجھنے کے لیے اس کا سیاق و سباق (Context) سب سے اہم ہوتا ہے۔ 2020ء میں جب کورونا وائرس کی وبا عروج پر تھی، تو انتظامی افسران، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سول سروسز کے ملازمین اپنی جانوں پر کھیل کر فیلڈ میں فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ لاک ڈاؤن کے قوانین پر عمل درآمد کروانا اس وقت لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے ایک قانونی اور اخلاقی ضرورت تھی۔

اس دور کی ایک ویڈیو کو نکال کر، جس میں ایک انتظامی افسر (جو اس وقت پی ایم ایس سے تعلق رکھتے تھے) قانون شکنی کرنے والوں کو روک رہے تھے، اسے "غریب پکوڑے والے پر ظلم” کا ڈرامائی رنگ دینا سراسر زرد صحافت کے زمرے میں آتا ہے۔ مزید برآں، موجودہ حقائق کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر خار کے عہدے پر عامر وزیر تعینات ہیں، جس سے یہ واضح ثابت ہوتا ہے کہ اس پرانی ویڈیو کا موجودہ انتظامیہ یا نظام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اہم نقطہ: ایک پرانے اور مخصوص واقعے کو لے کر پورے سول سروسز کے ڈھانچے کو نشانہ بنانا اور اداروں پر لعنت بھیجنا صحافت نہیں بلکہ منظم پروپیگنڈا کہلاتا ہے۔

فیک نیوز فیکٹری کے ریاستی اور سماجی اثرات

ریاستی معاملات، سول سروسز اور ملکی انتظامیہ کبھی بھی یوٹیوب کے تھمب نیلز یا افواہوں کے دباؤ پر نہیں چلائی جا سکتیں۔ جب ڈیجیٹل میڈیا پر روزانہ کی بنیاد پر جھوٹ اور قیاس آرائیاں بیچی جاتی ہیں، تو اس کے معاشرے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں:

  • اداروں پر اعتماد کی کمی: مسلسل فیک نیوز کے ذریعے عوام کا اپنے ہی انتظامی اور ریاستی اداروں پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔

  • عوامی گمراہی: عام شہری جو سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی ہر چیز کو سچ مان لیتے ہیں، وہ گمراہ کن پروپیگنڈے کا شکار ہو کر نظام کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں۔

  • پیشہ ورانہ محنت کی توہین: کووڈ دور میں ہزاروں افسران اور اہلکاروں نے دن رات ڈیوٹی دی، اور کئی نے جامِ شہادت بھی نوش کیا۔ ایسے میں ان کی قربانیوں کو پسِ پشت ڈال کر سستی شہرت حاصل کرنا انتہائی شرمناک اقدام ہے۔

جھوٹ اور زرد صحافت کے ذریعے اداروں کو بدنام کرنے کی یہ کوششیں اب عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہی ہیں۔ عوام اب اتنے باشعور ہو چکے ہیں کہ وہ پرانی وائرل ویڈیوز اور موجودہ حقائق کے درمیان فرق کو سمجھ سکیں۔ صحافت کا نام لے کر سیاسی نفرت پھیلانے اور افواہ سازی کرنے والوں کو اب اپنی ہٹ دھرمی کا جواب دینا ہوگا، کیونکہ سچی صحافت ہمیشہ حقائق پر مبنی ہوتی ہے، نہ کہ روزی روٹی چلانے کے لیے گھڑے گئے جھوٹ پر۔

اسد طور کے یوٹیوب چینل کے حوالے سے مزید تجزیہ اور میڈیا اخلاقیات پر بحث دیکھنے کے لیے آپ Asad Toor Uncensored Media Discussion دیکھ سکتے ہیں، جو ڈیجیٹل میڈیا کے موجودہ رجحانات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔