نیب مقدمات، وفاقی آئینی عدالت اور عدالتی اختیار کی آئینی تقسیم
24 جولائی 2026 کو سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ایک ایسا فیصلہ سنایا جو پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نیب قانون کے تحت دائر مقدمات سننے کا اختیار اسے حاصل نہیں اور ایسے معاملات وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ یہ فیصلہ محض ایک تکنیکی قانونی اعلان نہیں، بلکہ اس اصول کا اعادہ ہے کہ آئینی نظام میں ہر ادارے کی حدود متعین ہیں اور ان حدود کا احترام ہی حقیقی عدالتی آزادی کی علامت ہے۔
پس منظر: ایک نئے عدالتی دور کا آغاز
وفاقی آئینی عدالت نومبر 2025 میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 175F اور 175L کے تحت قائم کی گئی، جو پاکستان کے عدالتی ڈھانچے میں ایک اہم ارتقا کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس ترمیم کے بعد 5 مارچ 2026 کو نیب ترمیمی ایکٹ 2026 کے ذریعے دفعہ 32A شامل کی گئی جس کے تحت ہائی کورٹ کے فیصلے سے متاثرہ کوئی بھی سزا یافتہ شخص یا چیئرمین نیب کی ہدایت پر پراسیکیوٹر جنرل احتساب تیس روز کے اندر وفاقی آئینی عدالت میں دوسری اپیل دائر کرسکتا ہے۔ اس قانونی تبدیلی نے ایک بنیادی سوال اٹھایا: جب نیب کی مرکزی اپیل FCC میں ہو تو کیا اسی مقدمے کی ضمانت سپریم کورٹ سن سکتی ہے؟
دلائل کا تصادم: دو مؤقف، ایک آئین
وفاقی حکومت نے عدالت کو بتایا کہ نیب قانون کی ترمیم کے بعد ہائی کورٹ فیصلوں کے خلاف اپیلیں اور ضمانتی درخواستیں، دونوں وفاقی آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار میں آتی ہیں۔ نیب نے بھی حکومت کے موقف کی تائید کی۔ اٹارنی جنرل نے دلیل دی کہ آرٹیکل 175F(2) کے تحت سپریم کورٹ میں زیرِ التوا تمام مقدمات جو آئینی عدالت کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، خودبخود FCC کو منتقل ہوگئے۔ دوسری جانب ملزم کے وکیل کا مؤقف تھا کہ ضابطۂ فوجداری دفعہ 497 کے تحت ضمانت ایک الگ معاملہ ہے اور دفعہ 32A میں لفظ "ضمانت” کا کوئی ذکر نہیں۔
سپریم کورٹ نے تیس صفحات پر مشتمل فیصلے میں ان دونوں دلائل کو آئین کی روشنی میں پرکھا اور واضح قرار دیا کہ ضمانت کی درخواست مرکزی مقدمے سے الگ کوئی آزاد کارروائی نہیں بلکہ اسی مقدمے کا ضمنی حصہ ہے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اپیل کے فورم کا تعین قانون کرتا ہے، کسی فریق کی رضامندی یا عدم اعتراض نہیں۔
فیصلے کا جوہر: فورم شاپنگ ممنوع
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ کوئی قانونی فورم کسی درخواست گزار کی ترجیح یا رضامندی کی بنیاد پر نہیں بنایا جاسکتا تاکہ وہ اپنی مرضی سے فورم شاپنگ کر سکے۔ یہ اصول انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ اس روایت کو ختم کرتا ہے جس میں فریقین اپنی سہولت کے مطابق عدالت کا انتخاب کرتے تھے۔ اگر یہ اصول قائم نہ ہو تو ہر طاقتور ملزم اور ہر بااثر ادارہ اپنے مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے مختلف عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹاتا رہے گا اور پورا نظامِ عدل ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔
عدالت کا یہ مؤقف بھی قابلِ توجہ ہے کہ سابقہ مقدمے میں نیب کی جانب سے اعتراض نہ اٹھائے جانے سے سپریم کورٹ کو وہ اختیار نہیں ملتا جو موجودہ آئینی نظام میں اس کے پاس نہیں رہا۔
دائرۂ اختیار نہ تو رضامندی سے پیدا ہوتا ہے، نہ روایت سے اور نہ عوامی دباؤ سے۔
ملزم کے حقوق محفوظ: فورم بدلا، انصاف نہیں
ایک اہم نکتہ جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس فیصلے سے کسی ملزم کا قانونی علاج ختم نہیں ہوا۔ اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ اپیل کا حق ایک بنیادی حق ہے اور اسے ختم نہیں کیا گیا، بلکہ محض ایک نئے فورم کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔ پہلے ملزم سپریم کورٹ میں صوابدیدی اجازتِ اپیل کی درخواست کرتا تھا، اب FCC میں دوسری اپیل کا باقاعدہ قانونی حق حاصل ہوگیا ہے۔ یہ حقوق میں کمی نہیں، بلکہ ایک واضح اور طے شدہ راستے کی فراہمی ہے۔
سیاسی بیانیے سے گریز: قانون سب کے لیے یکساں
اس فیصلے کا سب سے خطرناک پہلو وہ سیاسی تشریح ہے جو مختلف حلقوں میں ہو رہی ہے۔ کچھ اسے سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان اقتدار کی کشمکش قرار دے رہے ہیں، کچھ اسے کسی مخصوص سیاسی شخصیت کے مقدمات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ لیکن یہ فیصلہ کسی مخصوص فرد، جماعت یا مقدمے کے بارے میں نہیں۔ یہ اصول نیب، استغاثہ اور ہر ملزم پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ قانون کا عمل اندھا ہوتا ہے اور اسے ہونا بھی چاہیے۔
حقیقی عدالتی آزادی کا تصور
مضبوط عدلیہ وہ نہیں جو ہر مقدمہ اپنے پاس رکھے۔ ستائیسویں ترمیم کے ناقدین نے استدلال کیا کہ سپریم کورٹ کا بوجھ کم کرنا ضروری ہے کیونکہ اکتوبر 2025 تک 56,169 مقدمات زیرِ التوا تھے۔ ایک مخصوص آئینی عدالت کا قیام، جو صرف آئینی معاملات دیکھے، اس بوجھ کو تقسیم کرنے کا منطقی اقدام ہے۔ عدالتی آزادی کا مطلب صرف ریاست یا حکومت کے سامنے کھڑا ہونا نہیں، بلکہ میڈیا، سیاسی دباؤ اور عوامی جذبات سے بالاتر ہوکر آئین کی پابندی کرنا بھی ہے۔
سپریم کورٹ نے اس فیصلے کے ذریعے نہ اختیار پر قبضہ کیا اور نہ اسے ترک کیا، بلکہ یہ اصول قائم کیا کہ ایک مقدمہ ایک مربوط قانونی فورم پر چلے گا۔ فورم شاپنگ ممنوع ہوگی اور ہر عدالت وہی اختیار استعمال کرے گی جو آئین اور قانون نے اسے دیا ہے۔ یہی قانون کی حکمرانی کا اصل مفہوم ہے اور یہی پاکستان کے عدالتی مستقبل کی بنیاد بننی چاہیے۔
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
View all postsڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔