Nigah

پانی کو ہتھیار بنانے کی خطرناک سیاست

[post-views]

دریا جغرافیائی سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔ وہ ایک ملک کے پہاڑوں سے نکل کر دوسرے ملک کے میدانوں کو سیراب کرتے ہیں، کہیں بجلی پیدا کرتے ہیں، کہیں زراعت کو زندہ رکھتے ہیں اور کہیں کروڑوں انسانوں کے لیے پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ بنتے ہیں۔ اسی وجہ سے مشترکہ دریاؤں کا انتظام محض تکنیکی یا انتظامی معاملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون، انسانی سلامتی، علاقائی استحکام اور ریاستوں کے درمیان اعتماد کا سوال ہے۔ بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل حالت میں رکھنے کا اعلان اور بعد ازاں معاہدے کے تحت تعاون اور آبی معلومات کے تبادلے میں رکاوٹ پیدا کرنا صرف پاکستان کے خلاف ایک سیاسی اقدام نہیں، بلکہ مشترکہ آبی وسائل کے عالمی نظام کے لیے ایک خطرناک مثال ہے۔

سندھ طاس معاہدہ اس حقیقت کی نمایاں مثال رہا ہے کہ شدید سیاسی کشیدگی، جنگوں اور سفارتی بحرانوں کے باوجود دو ریاستیں مشترکہ پانی کے معاملے میں کسی ضابطے، ادارہ جاتی طریقۂ کار اور قانونی فریم ورک کے تحت تعاون جاری رکھ سکتی ہیں۔ اس معاہدے کی اصل اہمیت صرف دریاؤں کی تقسیم میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں تھی کہ سیاسی تنازعات کو پانی کے نظام پر حاوی نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جب کسی ریاست کی جانب سے سیاسی یا سلامتی کے اختلافات کو بنیاد بنا کر ایک اہم آبی معاہدے کو غیر مؤثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس سے معاہدوں کی پابندی اور نیک نیتی سے عمل درآمد کے بنیادی اصول کو نقصان پہنچتا ہے۔

بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ریاستیں مشکل حالات میں بھی ان کی پاسداری کریں۔ اگر کوئی ملک صرف موافق سیاسی ماحول میں معاہدے پر عمل کرے اور اختلاف پیدا ہونے پر اسے یک طرفہ طور پر غیر فعال سمجھنے لگے تو پھر عالمی معاہداتی نظام کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔ پانی کے معاہدوں کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ان سے کروڑوں انسانوں کی خوراک، روزگار، صحت اور زندگی براہ راست وابستہ ہوتی ہے۔ ایسے معاہدے سفارتی سہولت نہیں بلکہ انسانی بقا کے انتظامی ڈھانچے ہوتے ہیں۔

آبی معلومات کا تبادلہ اس پورے نظام کا مرکزی ستون ہے۔ دریاؤں کے بہاؤ، بارش، برف پگھلنے، آبی ذخائر، اچانک اخراج اور سیلابی کیفیت سے متعلق معلومات پاکستان کے لیے محض اعداد و شمار نہیں۔ انہی معلومات کی بنیاد پر فصلوں کی منصوبہ بندی، آبپاشی کے نظام، نہروں میں پانی کی تقسیم، آبی ذخائر کے انتظام، بجلی کی پیداوار، سیلابی پیش گوئی اور ہنگامی انخلا کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اگر بالائی ریاست بروقت معلومات فراہم نہ کرے تو زیریں ریاست کو نامکمل معلومات کی بنیاد پر قومی اہمیت کے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

یہ غیر یقینی صورت حال کسانوں کے لیے خاص طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ فصل کی بوائی، آبپاشی کے اوقات اور پانی کی دستیابی کے درست اندازے کے بغیر زرعی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ پانی کی کمی یا اچانک زیادہ بہاؤ دونوں صورتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہو سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں غذائی قلت، قیمتوں میں اضافہ، دیہی بے روزگاری، برآمدات میں کمی اور قومی معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یوں آبی معلومات روکنے کا اثر کسی سرکاری دفتر تک محدود نہیں رہتا بلکہ براہ راست کسان، مزدور، صارف اور عام شہری تک پہنچتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی نے اس خطرے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ جنوبی ایشیا میں گلیشیئرز کے پگھلاؤ، غیر معمولی بارشوں، طویل خشک سالی، شدید گرمی اور اچانک سیلاب کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں ممالک کو زیادہ معلومات، بہتر رابطہ اور مشترکہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس اگر پانی کے بہاؤ اور موسمی حالات سے متعلق معلومات کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنا دیا جائے تو قدرتی خطرات انسانی فیصلوں کی وجہ سے مزید تباہ کن بن سکتے ہیں۔

بھارت کا طرزِ عمل صرف پاکستان کے لیے تشویش کا باعث نہیں۔ دنیا میں سینکڑوں دریا، جھیلیں اور زیرزمین آبی ذخائر دو یا اس سے زیادہ ریاستوں کے درمیان مشترک ہیں۔ دریائے نیل، دریائے میکونگ، دجلہ و فرات اور وسطی ایشیا کے آبی نظام ایسے خطے ہیں جہاں بالائی اور زیریں ریاستوں کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ کوئی طاقتور بالائی ریاست سیاسی اختلاف کی صورت میں معلومات، تعاون یا معاہداتی ذمہ داریوں کو محدود کر سکتی ہے تو دنیا بھر کی زیریں ریاستوں میں عدم تحفظ پیدا ہوگا۔

ایسی روش عالمی آبی قانون کے بنیادی مقاصد کے بھی منافی ہے، جن میں منصفانہ استعمال، باہمی تعاون، بروقت اطلاع، نقصان سے اجتناب اور تنازعات کا پرامن حل شامل ہیں۔ مشترکہ دریا کسی ایک ریاست کی مکمل ملکیت نہیں ہوتے۔ بالائی ریاست کو جغرافیائی برتری ضرور حاصل ہوتی ہے، لیکن یہ برتری اسے زیریں آبادیوں کے خلاف دباؤ یا سزا کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کا اخلاقی یا قانونی اختیار نہیں دیتی۔

بھارت خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت، موسمیاتی قیادت کے دعوے دار اور اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کے حامی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ تاہم مشترکہ پانی کو دباؤ کے ذریعے استعمال کرنے کی پالیسی اس دعوے کو کمزور کرتی ہے۔ دوسرے ہمسایہ ممالک بھی اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا بھارت کے ساتھ کیے گئے آبی معاہدے مستقل قانونی وعدے ہیں یا سیاسی حالات کے تابع عارضی انتظامات۔

عالمی برادری کو سندھ طاس کے مسئلے کو صرف پاکستان اور بھارت کا دوطرفہ تنازع سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ معاملہ دراصل اس اصول کا امتحان ہے کہ مشترکہ دریا قانون، شفافیت، تعاون اور ذمہ دارانہ انتظام کے تحت چلیں گے یا طاقت اور دباؤ کے ذریعے۔ بھارت کو چاہیے کہ معاہداتی تعاون بحال کرے، آبی معلومات کا باقاعدہ تبادلہ دوبارہ شروع کرے اور تمام اختلافات کو طے شدہ قانونی اور ادارہ جاتی طریقوں کے ذریعے حل کرے۔

پاکستان کو بھی اپنے آبی ذخائر، آبپاشی کی کارکردگی، سیلابی پیش گوئی، زرعی منصوبہ بندی اور موسمیاتی موافقت کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ تاہم داخلی اصلاحات کسی بالائی ریاست کی معاہداتی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔ دنیا کے لیے سبق واضح ہے: پانی کو ہتھیار بنانا صرف ایک ملک کو نقصان نہیں پہنچاتا، بلکہ غذائی تحفظ، انسانی سلامتی، بین الاقوامی قانون، علاقائی امن اور عالمی استحکام سب کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر مزمل خان

    مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔