Nigah

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی

[post-views]

افغانستان میں طالبان کے اقتدار کو پانچ برس مکمل ہونے کے قریب ہیں، مگر ملک کے اندر مسلح مزاحمت کے حالیہ واقعات ایک ایسے رجحان کی طرف اشارہ کر رہے ہیں جسے محض چند الگ تھلگ سکیورٹی واقعات قرار دے کر نظر انداز کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران قندھار، ہرات، فاریاب اور ننگرہار سمیت مختلف علاقوں میں طالبان اہلکاروں، انٹیلی جنس عناصر اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ زیادہ اہم بات صرف کارروائیوں کی تعداد نہیں بلکہ ان کا جغرافیائی پھیلاؤ ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق مختلف طالبان مخالف محاذوں نے دس روز کے دوران انیس کارروائیوں کے دعوے کیے جبکہ ایک دوسری رپورٹ میں ایک ہفتے کے دوران نو صوبوں میں کم از کم پندرہ کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ طالبان نے ان میں سے بیشتر دعوؤں کی تصدیق نہیں کی، اس لیے ہلاکتوں کے اعداد کو احتیاط سے دیکھنا ضروری ہے۔

قندھار میں عینو مینا کے ایک پارک میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے طالبان کی امر بالمعروف انتظامیہ سے وابستہ ایک اہلکار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق گروپ نے اس کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی۔ یہ واقعہ اس لیے قابل توجہ ہے کہ قندھار طالبان کی سیاسی اور نظریاتی طاقت کا اہم ترین مرکز تصور کیا جاتا ہے۔ اگر طالبان مخالف گروہ قندھار جیسے حساس علاقے میں محدود نوعیت کی کارروائیاں کرنے کی صلاحیت برقرار رکھتے ہیں تو اس کا نفسیاتی اثر کسی دور دراز ضلع میں ہونے والے حملے سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

مغربی افغانستان میں بھی مزاحمتی سرگرمیوں کے دعوے جاری ہیں۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے مطابق ہرات میں طالبان اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا اور اسلحہ بھی قبضے میں لیا گیا۔ اگست کے آغاز میں اسی گروپ نے ہرات میں طالبان کی ایک گشتی گاڑی پر حملے میں دو اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا، تاہم طالبان حکام نے اس واقعے پر عوامی ردعمل نہیں دیا۔  اس نوعیت کی کارروائیوں سے ایک اہم تبدیلی سامنے آتی ہے۔ طالبان مخالف مسلح مزاحمت اب صرف پنجشیر، کابل یا شمال مشرقی افغانستان تک محدود دکھائی نہیں دیتی بلکہ مغربی علاقوں میں بھی اپنی موجودگی ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

فاریاب میں افغانستان فریڈم فرنٹ نے ضلع گرزیوان کے گاؤں لارغیجان میں طالبان انٹیلی جنس کے دو اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ اسی عرصے میں طالبان مخالف گروہوں نے فاریاب کے دیگر حصوں میں بھی انٹیلی جنس عناصر کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔ افغانستان انٹرنیشنل نے چار اگست کو بھی فاریاب کے قیصر ضلع میں طالبان انٹیلی جنس سے وابستہ ایک اہلکار کی ہلاکت کے دعوے کی اطلاع دی تھی۔  یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مزاحمتی گروہوں کی ترجیح محض عام طالبان جنگجو نہیں بلکہ انٹیلی جنس اور مقامی کمانڈ ڈھانچے بھی ہیں۔ گوریلا جنگ میں ایسے اہداف کا مقصد عموماً مخالف قوت کی معلومات جمع کرنے، نگرانی اور مقامی کنٹرول کی صلاحیت کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔

مشرقی افغانستان میں جلال آباد کا واقعہ بھی اسی تصویر کا حصہ ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے جلال آباد کے چھٹے پولیس ضلع میں طالبان انٹیلی جنس کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا، جس میں دو طالبان اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ طالبان کی جانب سے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس کے باوجود ننگرہار میں اس نوعیت کی کارروائی اہم ہے کیونکہ مشرقی افغانستان پہلے ہی متعدد عسکری اور شدت پسند نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کے باعث حساس خطہ رہا ہے۔ اگر طالبان کو یہاں ایک ہی وقت میں مختلف نوعیت کے مسلح خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کے سکیورٹی وسائل پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

حالیہ پیش رفت کا ایک اور اہم پہلو طالبان مخالف گروہوں کی تعداد اور سرگرمیوں میں تنوع ہے۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اور افغانستان فریڈم فرنٹ پہلے سے موجود تھے، لیکن افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے بھی اگست 2026 میں اپنی مسلح کارروائیوں کا زیادہ نمایاں انداز میں اعلان کیا۔ رپورٹس کے مطابق اس گروپ نے قندھار، ہلمند اور دیگر صوبوں میں کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں۔  اگر یہ گروہ ایک دوسرے سے الگ رہتے ہوئے بھی مختلف علاقوں میں مسلسل دباؤ برقرار رکھتے ہیں تو طالبان کے لیے مسئلہ کسی ایک محاذ کو ختم کرنے کے بجائے متعدد چھوٹے اور منتشر سکیورٹی خطرات کو بیک وقت سنبھالنے کا بن سکتا ہے۔

اس کے باوجود یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ مزاحمت طالبان کی اقتدار پر گرفت کے لیے فوری وجودی خطرہ بن چکی ہے۔ گوریلا حملوں، ٹارگٹ کارروائیوں اور محدود جھڑپوں میں اضافہ اور ملک کے بڑے حصوں پر مستقل زمینی کنٹرول حاصل کرنا دو مختلف مراحل ہیں۔ طالبان کے پاس ریاستی ادارے، وسیع مسلح فورس، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور ملک کے بیشتر انتظامی مراکز کا کنٹرول موجود ہے۔ دوسری طرف مزاحمتی گروہوں کو ابھی تک ایسی متحدہ سیاسی قیادت، مستقل علاقائی کنٹرول اور وسیع تنظیمی ڈھانچہ حاصل نہیں جو انہیں ملک گیر متبادل قوت میں تبدیل کر سکے۔ یہی فرق tactical pressure اور strategic challenge کے درمیان بنیادی لکیر کھینچتا ہے۔

اصل خطرہ طویل المدت ہے۔ اگر حملوں کی تعداد بڑھتی رہی، نئے صوبوں تک پھیلاؤ جاری رہا اور طالبان کے مقامی انٹیلی جنس و انتظامی ڈھانچے بار بار نشانہ بنتے رہے تو حکومت کو سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے مزید وسائل استعمال کرنا پڑیں گے۔ طالبان نے اپنے اقتدار کے استحکام کو بڑی حد تک اس دعوے سے جوڑا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں جنگ ختم کر کے امن قائم کیا۔ مسلسل مسلح حملے اسی بیانیے کو براہ راست چیلنج کرتے ہیں۔ ایک حکومت فوجی طور پر مضبوط رہتے ہوئے بھی سیاسی طور پر دباؤ میں آ سکتی ہے اگر عوامی سطح پر عدم اطمینان، سیاسی اخراج اور مسلح مزاحمت ایک دوسرے کو تقویت دینے لگیں۔

افغانستان کی موجودہ صورتحال کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ طاقت کے ذریعے کابل پر قبضہ کرنا اور پورے معاشرے کو سیاسی طور پر مطمئن رکھنا ایک ہی چیز نہیں۔ قندھار سے جلال آباد اور ہرات سے فاریاب تک سامنے آنے والی کارروائیاں ابھی طالبان حکومت کے خاتمے کا اشارہ نہیں، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتی ہیں کہ مسلح مخالفت ختم نہیں ہوئی۔ اگر یہ کارروائیاں وقفے وقفے کے واقعات سے نکل کر مربوط، مسلسل اور وسیع جغرافیائی مزاحمت میں تبدیل ہوتی ہیں تو طالبان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہوگا کہ وہ ایک حملے کو کیسے روکتے ہیں، بلکہ یہ ہوگا کہ وہ ایک ایسے سیاسی بحران کو کیسے سنبھالتے ہیں جس کی جڑیں صرف میدان جنگ میں نہیں بلکہ افغانستان کے مستقبل، نمائندگی اور اقتدار کی نوعیت سے جڑی ہوئی ہیں۔

Author

  • انیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل:
    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔