جمائما گولڈ اسمتھ کی حالیہ دوسری شادی نے پاکستان میں ایک پرانی بحث کو ایک مرتبہ پھر زندہ کر دیا ہے۔ 12 ستمبر 2026 کو انہوں نے آئرش آسٹریلوی فنانسر کیمرون او ریلی سے شادی کی۔ یہ شادی عمران خان سے ان کی 2004 کی طلاق کے تقریباً بائیس سال بعد ہوئی۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق تقریب چرچ میں ہوئی اور جمائما کے دونوں بیٹوں، سلیمان اور قاسم، نے بھی اس میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اس واقعے کو صرف ایک سابق سیاسی رہنما کی سابق اہلیہ کی نجی زندگی کے طور پر دیکھا جا سکتا تھا، لیکن پاکستان میں جمائما کی شخصیت ہمیشہ اس قدر نجی نہیں رہی۔ ان کی عمران خان سے 1995 کی شادی، اسلام قبول کرنے کا فیصلہ، پاکستان منتقل ہونا اور بعد میں عمران خان کے سیاسی سفر کے ساتھ ان کا نام جڑے رہنا، یہ سب پاکستانی سیاسی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ خود جمائما نے 1995 میں لکھا تھا کہ اسلام قبول کرنے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا اور انہوں نے اسے کسی دباؤ کا نتیجہ قرار نہیں دیا تھا۔ بعد کی معتبر پروفائلز بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ انہوں نے شادی سے قبل اسلام قبول کیا تھا۔
یہیں سے آج کا اصل سوال پیدا ہوتا ہے، لیکن اسے درست انداز میں پوچھنے کی ضرورت ہے۔ کسی شخص کے موجودہ عقیدے کا فیصلہ شادی کی تقریب، لباس، شریک حیات یا کسی تصویر کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ جمائما نے حالیہ برسوں میں اپنے مذہبی تشخص کے بارے میں کوئی ایسی واضح اور مستند عوامی وضاحت نہیں دی جس کی بنیاد پر باہر بیٹھا کوئی شخص فیصلہ سنا سکے کہ وہ آج مسلمان ہیں یا نہیں۔ چرچ میں شادی ہونا یقیناً ایک قابل ذکر حقیقت ہے، لیکن یہ بذات خود کسی شخص کے باطن یا عقیدے کا قطعی ثبوت نہیں۔
البتہ سیاست میں سوال کچھ مختلف ہے۔ جب کسی سیاست دان کی ذاتی زندگی، شادی، مذہبی شناخت یا خاندان کو ماضی میں اس کی عوامی شخصیت کا حصہ بنایا گیا ہو تو بعد میں ان موضوعات پر سوال اٹھنا غیر معمولی نہیں۔ عمران خان کی سیاست میں مذہبی زبان وقت کے ساتھ زیادہ نمایاں ہوئی۔ ریاست مدینہ، اسلامی فلاحی ریاست، روحانیت اور مسلم دنیا جیسے موضوعات ان کے سیاسی بیانیے میں جگہ بناتے رہے۔ اسی لیے ناقدین یہ پوچھ سکتے ہیں کہ کیا سیاسی رہنما مذہب کو صرف اپنی ذاتی رہنمائی تک محدود رکھتے ہیں یا اسے عوامی قبولیت حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ یہ سوال کسی کے ایمان کا فیصلہ کرنے سے مختلف ہے۔
جمائما اور عمران خان کا تعلق بھی محض سابق میاں بیوی کے رسمی تعلق تک محدود دکھائی نہیں دیتا، لیکن یہاں بھی الفاظ کا درست استعمال ضروری ہے۔ حالیہ برسوں میں جمائما نے عمران خان کی قید، اپنے بیٹوں کی اپنے والد تک رسائی اور ان کے حالات سے متعلق عوامی طور پر تشویش ظاہر کی ہے۔ معتبر رپورٹس میں ان کی اپیلوں کو زیادہ تر خاندانی رسائی اور انسانی حقوق کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔ اسے لازماً عمران خان کی ہر سیاسی پالیسی یا پی ٹی آئی کے پورے سیاسی ایجنڈے کی حمایت قرار دینا ایک بڑا مفروضہ ہوگا۔
طلاق کے بعد سابق شریک حیات کے حقوق یا بچوں کے والد کے بارے میں آواز اٹھانا بذات خود کوئی تضاد بھی نہیں۔ دو افراد ازدواجی طور پر الگ ہو سکتے ہیں اور پھر بھی بچوں، مشترکہ ماضی یا انسانی ہمدردی کی وجہ سے رابطہ یا حمایت برقرار رکھ سکتے ہیں۔ جمائما اور عمران خان کے دو بیٹے ہیں، اس لیے ان کے درمیان ایک مستقل خاندانی رشتہ موجود رہنا قابل فہم ہے۔ دوسری شادی اس حقیقت کو ختم نہیں کرتی۔ اسی طرح جمائما کا اپنے سابق شوہر کے قید کے حالات پر بولنا لازماً اس بات کا ثبوت نہیں کہ ان کی نئی ازدواجی زندگی کسی سیاسی منصوبے کے ماتحت ہے۔
تاہم پاکستانی سیاسی گفتگو میں ایک اور دعویٰ بھی سامنے آتا رہا ہے کہ گولڈ اسمتھ خاندان اور عمران خان کے تعلق کے پیچھے کسی وسیع تر “یہودی نیٹ ورک” کا کردار ہے۔ اس دعوے کے لیے قابل اعتبار شواہد سامنے نہیں آئے۔ کسی خاندان کے نسلی یا مذہبی پس منظر کو سیاسی سازش کے ثبوت کے طور پر استعمال کرنا تحقیق نہیں بلکہ قیاس آرائی ہے۔ ماضی میں بھی جمائما کے خاندانی پس منظر کو بنیاد بنا کر ان پر “صہیونی ایجنٹ” جیسے الزامات لگائے گئے تھے، جنہیں معتبر بین الاقوامی ذرائع نے سیاسی smear campaign کے طور پر بیان کیا۔
اس لیے زیادہ سنجیدہ سوال “یہودی نیٹ ورک” تلاش کرنا نہیں بلکہ پاکستانی سیاست میں مذہب کے استعمال کا جائزہ لینا ہے۔ اگر کسی سیاسی رہنما کے حامی مخالف سیاست دانوں، ان کے اہل خانہ یا خواتین کے مذہب، شادی اور نجی معاملات پر سخت مذہبی پیمانے استعمال کرتے ہیں تو وہی اصول اپنے پسندیدہ رہنما کے گرد موجود لوگوں پر بھی لاگو کرنے کا مطالبہ پیدا ہوتا ہے۔ دوسری طرف، اگر یہ مان لیا جائے کہ ایمان بنیادی طور پر فرد اور خدا کے درمیان معاملہ ہے تو یہی اصول سیاسی مخالفین کے لیے بھی تسلیم کرنا ہوگا۔
جمائما کی دوسری شادی دراصل اس بحث کے لیے ایک مفید آئینہ فراہم کرتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی نجی شہری کس مذہب سے تعلق رکھتا ہے، کس مذہبی عمارت میں شادی کرتا ہے یا طلاق کے بعد کس سے تعلق برقرار رکھتا ہے۔ اہم سیاسی سوال یہ ہے کہ پاکستان میں مذہب کو سیاسی legitimacy، کردار کشی یا عوامی جذبات کو متحرک کرنے کے لیے کس حد تک استعمال کیا جاتا ہے۔
Author
-
View all posts
Zubair Gul is a lecturer and researcher with a particular interest in the China-Pakistan Economic Corridor, regional connectivity, development cooperation, and Pakistan-China relations. His academic work focuses on CPEC’s economic and strategic dimensions, infrastructure development, regional integration, and its broader implications for Pakistan’s growth and regional engagement.