Nigah

آپریشن 11 گرج

[post-views]

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر کارروائی کی اہمیت صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ کتنے دہشت گرد مارے گئے، بلکہ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ کارروائی کتنی درست معلومات، کتنی محتاط نگرانی اور کتنی محدود قوت کے استعمال کے ساتھ کی گئی۔ وسطی کرم میں آپریشن 11 گرج کے تحت ہونے والی تازہ کارروائی اسی پہلو سے قابل توجہ ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق 17 ستمبر کو سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک مشتبہ ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ کارروائی میں توپ خانے کا مؤثر استعمال کیا گیا، دو دہشت گرد ہلاک اور تین زخمی ہوئے، جبکہ بعد میں اسلحہ اور فوجی نوعیت کا سامان بھی برآمد کیا گیا۔

یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں۔ پاکستانی ریاست ٹی ٹی پی سے وابستہ عناصر کے لیے سرکاری طور پر ’’خوارج‘‘ یا ’’فتنہ الخوارج‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔ آزاد بین الاقوامی رپورٹنگ بھی واضح کرتی ہے کہ اس اصطلاح سے مراد بنیادی طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عناصر ہیں۔  اس تناظر میں وسطی کرم کی کارروائی کو کسی الگ تھلگ واقعے کے بجائے اس وسیع تر کوشش کا حصہ سمجھنا چاہیے جس کا مقصد دہشت گرد گروہوں کی نقل و حرکت، پناہ گاہوں اور حملے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

آپریشن کی سب سے اہم جہت درست انٹیلی جنس اور مسلسل نگرانی ہے۔ پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں محض بڑی تعداد میں اہلکار تعینات کردینا ہمیشہ مؤثر حکمت عملی نہیں بنتا۔ دہشت گرد چھوٹے گروہوں میں نقل و حرکت کرتے ہیں، مقامی جغرافیے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایسے مقامات استعمال کرتے ہیں جہاں روایتی زمینی کارروائی زیادہ وقت اور زیادہ خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔ ایسی صورت حال میں قابل اعتماد انسانی معلومات، تکنیکی نگرانی اور فضائی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ جب ہدف کی شناخت واضح ہو اور اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی ہو تو فورسز زیادہ محدود دائرے میں کارروائی کرسکتی ہیں۔

وسطی کرم کی حالیہ کارروائی کا ایک اہم پہلو یہی درستگی دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فورسز نے پہلے دہشت گردوں کے مقام کی نشاندہی کی اور پھر توپ خانے سے اسی مقام کو نشانہ بنایا۔  جدید انسداد دہشت گردی میں اس نوعیت کی حکمت عملی کا مقصد صرف دشمن کو نقصان پہنچانا نہیں ہوتا بلکہ شہریوں، آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو غیر ضروری خطرے سے بچاتے ہوئے مخصوص ہدف کو غیر مؤثر بنانا بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں عام، غیر متعین اور وسیع پیمانے کی کارروائیوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتی ہیں، بشرطیکہ معلومات قابل اعتماد ہوں اور بعد از کارروائی زمینی تصدیق بھی کی جائے۔

دو دہشت گردوں کی ہلاکت کو صرف ایک عدد کے طور پر دیکھنا بھی مناسب نہیں۔ دہشت گرد نیٹ ورک عموماً افراد، محفوظ ٹھکانوں، اسلحے، رابطہ کاروں اور نقل و حرکت کے راستوں کے باہمی نظام پر قائم ہوتے ہیں۔ کسی فعال ٹھکانے کو تباہ کرنا اور وہاں موجود افراد کو غیر مؤثر بنانا اس پورے مقامی ڈھانچے پر دباؤ بڑھاتا ہے۔ اگر کسی گروہ کو مسلسل اپنی پناہ گاہیں تبدیل کرنا پڑیں، رابطوں کو محدود کرنا پڑے اور یہ خدشہ رہے کہ اس کی نقل و حرکت نگرانی میں ہے تو اس کی منصوبہ بندی کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ کرم میں حالیہ دنوں کے دوران دیگر انٹیلی جنس کارروائیاں بھی رپورٹ ہوئی ہیں، جن میں کالعدم گروہ سے وابستہ عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔

دہشت گردی کے خلاف کسی بھی مہم میں مقامی آبادی کا کردار عسکری کارروائی جتنا ہی اہم ہوسکتا ہے۔ دہشت گرد گروہ وہاں زیادہ آسانی سے جگہ بناتے ہیں جہاں ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کمزور ہو، معلومات کا تبادلہ محدود ہو یا لوگوں کو یہ محسوس ہو کہ ان کی سلامتی کسی کی ترجیح نہیں۔ اس کے برعکس جب مقامی لوگ امن، معمولات زندگی اور ریاستی رٹ کے حق میں کھڑے ہوں تو دہشت گردوں کے لیے خاموشی سے نقل و حرکت، پناہ یا مقامی سہولت حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مقامی سطح پر آپریشن کی حمایت کی اطلاعات اسی لیے اہم ہیں۔ اس حمایت کو صرف علامتی تائید نہیں بلکہ امن کے لیے سماجی مزاحمت کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ فراموش نہیں ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف میدان میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے مکمل نہیں ہوتی۔ مستقل امن کے لیے پولیسنگ، مقامی انتظامیہ، انصاف کی فراہمی، سڑکوں، تعلیم، صحت اور روزگار کی بحالی بھی ضروری ہے۔ کرم جیسے حساس علاقوں میں سکیورٹی کی بہتری کا اصل فائدہ تب محسوس ہوگا جب بازار معمول کے مطابق کھلیں، بچے بلاخوف اسکول جائیں، مسافر سڑکوں پر محفوظ محسوس کریں اور مقامی تجارت کسی حملے یا بندش کے خدشے کے بغیر جاری رہ سکے۔ سکیورٹی آپریشن دراصل اسی شہری معمول کو بحال کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔

آپریشن 11 گرج کا وسیع تر پیغام یہی ہے کہ دہشت گردوں کو مستقل محفوظ جگہ میسر نہ آنے دی جائے۔ 18 ستمبر کو خیبر پختونخوا میں دیگر انٹیلی جنس کارروائیوں کے دوران بھی دس عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی سرکاری اطلاع سامنے آئی، جو جاری انسداد دہشت گردی دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔  دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد میں مستقل نگرانی، بروقت انٹیلی جنس، فورسز کے درمیان رابطہ اور مقامی لوگوں کا اعتماد ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک ہی حکمت عملی کے مختلف حصے ہیں۔

وسطی کرم میں دو دہشت گردوں کے خلاف یہ محدود مگر درست کارروائی اسی اصول کو نمایاں کرتی ہے۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب دہشت گرد نیٹ ورک کو نہ صرف جانی نقصان پہنچے بلکہ اس کے لیے علاقے میں منصوبہ بندی، چھپنے، اسلحہ جمع کرنے، نئے افراد بھرتی کرنے اور شہریوں کو خوف زدہ کرنے کی گنجائش مسلسل سکڑتی جائے۔ امن کا تحفظ صرف ایک کامیاب حملے سے نہیں ہوتا۔ یہ مسلسل چوکسی، درست معلومات، قانون کی عمل داری اور مقامی آبادی کے اعتماد سے قائم رہتا ہے۔

Author

  • Zubair Gul

    Zubair Gul is a lecturer and researcher with a particular interest in the China-Pakistan Economic Corridor, regional connectivity, development cooperation, and Pakistan-China relations. His academic work focuses on CPEC’s economic and strategic dimensions, infrastructure development, regional integration, and its broader implications for Pakistan’s growth and regional engagement.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔