آزاد جموں و کشمیر میں جو تحریک چند برس قبل بجلی کے نرخوں، آٹے کی قیمت اور عام آدمی کی معاشی مشکلات کے گرد شروع ہوئی تھی، وہ ابتدا میں ایک ایسی عوامی آواز دکھائی دیتی تھی جسے نظر انداز کرنا مشکل تھا۔ مہنگائی، بجلی کے بل اور بنیادی ضروریات کی بڑھتی قیمتیں حقیقی مسائل تھے۔ اسی لیے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو تاجروں، نوجوانوں، ٹرانسپورٹرز اور مختلف سماجی حلقوں کی حمایت بھی ملی۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب روزمرہ معاشی ریلیف کے لیے شروع ہونے والی تحریک آہستہ آہستہ ایسے سیاسی اور آئینی مطالبات کی طرف بڑھ گئی جن کا حل محض انتظامی نوٹیفکیشن یا مالی پیکیج سے ممکن نہیں تھا۔
مئی 2024 میں حکومت پاکستان نے آزاد کشمیر میں صورتحال کو معمول پر لانے اور عوام کو فوری ریلیف دینے کے لیے 23 ارب روپے کے پیکیج کی منظوری دی۔ اس کے نتیجے میں 40 کلو آٹے کی قیمت 3,100 روپے سے کم کرکے 2,000 روپے کی گئی، جبکہ گھریلو بجلی کے نرخ مختلف سلیبز میں 3، 5 اور 6 روپے فی یونٹ مقرر کیے گئے۔ یہ معمولی رعایت نہیں تھی۔ ایسے وقت میں جب پورے پاکستان میں توانائی کی قیمتیں ایک بڑا معاشی مسئلہ تھیں، آزاد کشمیر کے صارفین کے لیے اس سطح کی سبسڈی کا مطلب یہ تھا کہ وفاقی اور علاقائی حکومتیں ایک بڑا مالی بوجھ اپنے وسائل سے برداشت کر رہی تھیں۔
اس کے باوجود اختلاف مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ستمبر 2025 تک ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات کو 38 نکاتی چارٹر تک وسیع کر دیا۔ 4 اکتوبر 2025 کو وفاقی حکومت، آزاد کشمیر حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ حکومت کا مؤقف رہا کہ چارٹر کے بیشتر نکات پر عمل درآمد کیا گیا یا ان پر پیش رفت ہوئی، اگرچہ ایکشن کمیٹی نے عمل درآمد کی رفتار اور بعض سرکاری دعوؤں سے اختلاف کیا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ایک جائز عوامی تحریک کے لیے ایک اہم انتخاب موجود تھا۔ وہ حاصل ہونے والی رعایتوں کو مستحکم کرتے ہوئے باقی معاملات پر مذاکرات جاری رکھ سکتی تھی، یا مسلسل سڑکوں کی سیاست اور دباؤ کو بنیادی حکمت عملی بنا سکتی تھی۔
اصل پیچیدگی اس وقت سامنے آئی جب مہنگی بجلی اور آٹے جیسے فوری عوامی مسائل کے ساتھ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ یہ محض مالی یا انتظامی سوال نہیں تھا بلکہ آزاد کشمیر کے آئینی اور نمائندہ نظام سے جڑا معاملہ تھا۔ اگست 2025 میں کمیٹی نے انہی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر شٹر ڈاؤن اور وہیل جام ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے بھی قرار دیا کہ ان نشستوں کے خاتمے کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے۔ یوں وہ تحریک جو آٹے اور بجلی جیسے روزمرہ مسائل پر عوام کو متحد کرتی تھی، ایک ایسے حساس آئینی سوال پر آ کھڑی ہوئی جس پر معاشرے میں یکساں رائے موجود نہیں تھی۔
یہاں احتجاج کے طریقہ کار کا سوال بھی اہم بن جاتا ہے۔ جمہوری معاشرے میں احتجاج، تنقید اور مطالبات عوام کا حق ہیں، لیکن طویل شٹر ڈاؤن، وہیل جام اور راستوں کی بندش کا بوجھ بالآخر اسی شہری کو اٹھانا پڑتا ہے جس کے نام پر تحریک چلائی جاتی ہے۔ دکاندار کی آمدن رکتی ہے، دیہاڑی دار گھر خالی ہاتھ لوٹتا ہے، طالب علم تعلیمی ادارے تک نہیں پہنچ پاتا اور مریض کے لیے ہسپتال یا دوا تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے۔ جون 2026 کی بعض احتجاجی کالوں پر شہریوں نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا، جبکہ بعد کے مہینوں میں متعدد شہروں میں مارکیٹیں کھلی رہیں اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔
زیادہ تشویش ناک مرحلہ وہ تھا جب احتجاجی سیاست تشدد اور جانی نقصان سے جڑنے لگی۔ جون 2026 میں راولاکوٹ کے واقعات میں ایکشن کمیٹی کے حامیوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کم از کم سات افراد، جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے، جان سے گئے۔ اختلاف کسی بھی نوعیت کا ہو، ایسی صورتحال میں بنیادی سوال یہ رہ جاتا ہے کہ کیا سیاسی یا معاشی مطالبے کی قیمت انسانی جان ہو سکتی ہے؟ کسی بھی عوامی تحریک کی اخلاقی طاقت اس کے پُرامن کردار، دلیل اور عوامی اعتماد سے آتی ہے۔ تشدد اس طاقت کو کمزور کرتا ہے۔
5 جون 2026 کو آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت کالعدم قرار دے کر فرسٹ شیڈول میں شامل کر دیا۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے، خوف و بے یقینی پیدا کرنے اور بدامنی کے الزامات عائد کیے گئے۔ یہ ایک سنگین قانونی موڑ تھا جس نے تحریک کے کردار کو مکمل طور پر نئی سطح پر پہنچا دیا۔ اس کے بعد خود تنظیم کے اندر سے بھی اختلاف سامنے آیا۔ جون سے اگست کے دوران کئی کارکنوں اور سابق عہدیداروں نے کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ بعض سابق اراکین، جن میں راجہ امجد علی خان اور افتخار محمود شامل تھے، نے مؤقف اختیار کیا کہ ابتدائی پُرامن تحریک اپنے اصل راستے سے ہٹ گئی ہے اور نوجوانوں کو تصادم کے بجائے مثبت سیاسی عمل اختیار کرنا چاہیے۔
عوامی ردعمل بھی ایک اہم پیمانہ ہے۔ جون اور پھر ستمبر 2026 میں کمیٹی کی بعض ہڑتالوں کی کالوں کے باوجود مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، بھمبر، باغ، نیلم اور دوسرے علاقوں میں کاروبار اور ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق چلنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آزاد کشمیر میں تمام عوامی شکایات ختم ہو گئی ہیں۔ معاشی مشکلات، بہتر حکمرانی، احتساب اور عوامی نمائندگی کے سوالات بدستور موجود رہ سکتے ہیں۔ لیکن عوامی ناراضی اور کسی مخصوص تنظیم کی سیاسی حکمت عملی کو ایک ہی چیز سمجھنا بھی درست نہیں۔
ایکشن کمیٹی کے تجربے کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ عوامی تحریک کی اصل طاقت مطالبات کی تعداد میں نہیں بلکہ ان کی ساکھ، قابلِ عمل ہونے اور پُرامن طریقہ کار میں ہوتی ہے۔ بجلی، آٹا، روزگار، صحت، تعلیم اور بہتر حکمرانی جیسے مسائل شہری کو براہ راست متاثر کرتے ہیں اور ان پر حکومت کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ مگر جب معاشی تحریک آئینی تصادم، مسلسل بندش اور تشدد کے گرد گھومنے لگے تو عوامی حمایت کمزور ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کو احتجاج اور تصادم کے ایک اور چکر کی نہیں بلکہ مذاکرات، قانون کی بالادستی اور قابلِ عمل اصلاحات کی ضرورت ہے۔ عوامی حق کی بہترین حفاظت اسی وقت ہوتی ہے جب عوام کے نام پر اٹھائی جانے والی آواز خود عوام کی زندگی کو مشکل نہ بنائے۔