Nigah

فلسطین کا نقشہ آبادکاری سے نہیں بدلا جا سکتا

[post-views]

فلسطین کا مسئلہ محض زمین کے ایک ٹکڑے، چند بستیوں یا سرحدی لکیروں کا تنازع نہیں۔ یہ ایک قوم کے حقِ خود ارادیت، سیاسی مستقبل، قومی شناخت اور اپنی سرزمین پر آزاد ریاست قائم کرنے کے بنیادی حق کا سوال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کا متنازع ای ون منصوبہ محض ایک اور آبادکاری منصوبہ نہیں بلکہ فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کو توڑنے اور زمینی حقائق کے ذریعے مستقبل کے سیاسی حل کو محدود کرنے کی ایک خطرناک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف اس معاملے میں واضح، مستقل اور اصولی رہا ہے۔ اسلام آباد ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا ہے جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔

ای ون منصوبے کی اصل اہمیت اس کے حجم سے زیادہ اس کے محل وقوع میں ہے۔ یہ علاقہ مقبوضہ مشرقی القدس اور معالی ادومیم بستی کے درمیان واقع ہے اور مغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان جغرافیائی رابطے کے لیے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ اسرائیل نے اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر تقریباً 3,400 رہائشی یونٹس کے لیے ٹینڈرز آگے بڑھائے ہیں۔ ستمبر 2026 میں مزید 2,167 یونٹس کے ٹینڈر سامنے آنے کے بعد منصوبہ عملی مرحلے کے مزید قریب پہنچ گیا۔ ناقدین کے مطابق اس تعمیر سے مغربی کنارے کا جغرافیائی تسلسل شدید متاثر ہوگا اور مشرقی القدس کو باقی فلسطینی علاقوں سے مزید الگ کیا جا سکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ای ون منصوبہ ایک مقامی تعمیراتی مسئلے سے نکل کر بین الاقوامی قانون اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کے سوال میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 واضح کرتی ہے کہ 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مشرقی القدس، میں اسرائیلی آبادکاری کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قرارداد یہ بھی واضح کرتی ہے کہ ایسی آبادکاریاں دو ریاستی حل کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں اور 1967 کی سرحدوں میں یکطرفہ تبدیلیوں کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

فلسطین کی سرزمین کو اس انداز میں ٹکڑوں میں تقسیم کرنا بالآخر فلسطینی ریاست کے تصور ہی کو غیر مؤثر بنا سکتا ہے۔ کسی ریاست کا قیام صرف سفارتی شناخت یا پرچم سے ممکن نہیں ہوتا۔ اسے مربوط سرزمین، قابلِ عمل معیشت، انتظامی رسائی، نقل و حرکت اور اپنے دارالحکومت سے جغرافیائی تعلق درکار ہوتا ہے۔ اگر مغربی کنارہ مختلف حصوں میں بٹ جائے، مشرقی القدس الگ تھلگ ہوجائے اور فلسطینی آبادی کے درمیان آمدورفت مزید محدود کردی جائے تو دو ریاستی حل کاغذ پر تو باقی رہ سکتا ہے مگر زمینی حقیقت میں اس کا وجود کمزور ہوتا جائے گا۔

پاکستان نے اسی خطرے کے پیش نظر 21 اگست 2026 کو مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر ای ون منصوبے کو واضح طور پر مسترد کیا۔ مشترکہ اعلامیے میں نہ صرف منصوبے کو غیر قانونی آبادکاری کی پالیسی کا حصہ قرار دیا گیا بلکہ اسے فوری طور پر روکنے، اس سے متعلق اقدامات واپس لینے اور مقبوضہ فلسطینی علاقے کے جغرافیائی اور آبادیاتی کردار میں تبدیلی کی تمام کوششیں ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ان ممالک نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کو بین الاقوامی قانون کا ناگزیر تقاضا قرار دیا۔

اس معاملے پر عالمی سفارتی مزاحمت بھی بڑھ رہی ہے۔ 8 ستمبر 2026 کو برطانیہ، فرانس، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن نے اعلان کیا کہ وہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی تجارت پر قومی یا یورپی سطح کی پابندیوں کی حمایت یا ان پر غور کر رہے ہیں۔ ان ممالک نے خاص طور پر ای ون منصوبے کے ٹینڈرز کو دو ریاستی حل کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ یہ تبدیلی اہم ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبادکاری کے خلاف عالمی ردعمل اب محض مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر معاشی اور سفارتی اقدامات کی سمت جا رہا ہے۔

اسرائیلی پالیسیوں کے خلاف سفارتی بے چینی اقوام متحدہ میں بھی نمایاں ہوئی۔ 24 ستمبر 2026 کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جنرل اسمبلی سے تقریر کے آغاز پر درجنوں مندوبین احتجاجاً ایوان سے باہر چلے گئے۔ یہ منظر اس وسیع تر عالمی تشویش کی علامت تھا جو غزہ، مغربی کنارے، آبادکاری اور فلسطینی ریاست کے مستقبل کے بارے میں پائی جا رہی ہے۔

غزہ کی تباہ کن انسانی صورتحال کے تناظر میں ای ون منصوبے کو الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ پاکستان اور سات دیگر عرب و اسلامی ممالک نے ستمبر 2026 میں دوبارہ واضح کیا کہ غزہ فلسطینی سرزمین کا لازمی حصہ ہے اور کسی بھی امن منصوبے کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب مغربی کنارہ، مشرقی القدس اور غزہ ایک متحد سیاسی اور جغرافیائی اکائی کی صورت میں مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ رہیں۔ مشترکہ بیان میں امریکہ، بورڈ آف پیس، فلسطینی اتھارٹی اور دیگر فریقوں کے ساتھ کام جاری رکھنے کی آمادگی بھی ظاہر کی گئی تاکہ امن کے جامع منصوبے اور اس کے روڈ میپ کو فلسطینی خود ارادیت اور ریاستی حق کے ساتھ جوڑا جا سکے۔

امن کا کوئی بھی فریم ورک اسی وقت بامعنی ہوگا جب وہ فلسطینی حقوق کا متبادل نہیں بلکہ ان کے حصول کا ذریعہ بنے۔ بورڈ آف پیس، غزہ کی تعمیر نو یا کوئی دوسرا بین الاقوامی انتظام فلسطینیوں کے اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کے حق کی جگہ نہیں لے سکتا۔ خود بورڈ آف پیس کے روڈ میپ میں بھی فلسطینی خود ارادیت اور ریاست کے قیام کی جانب قابلِ اعتبار سیاسی راستے کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے۔

اصل سوال اب یہ ہے کہ کیا عالمی برادری بین الاقوامی قانون کو زمینی حقائق پیدا کرکے بے معنی بنائے جانے دے گی؟ فلسطین کا جغرافیہ یکطرفہ فیصلوں، آبادکاری، الحاق یا انتظامی تقسیم کے ذریعے دوبارہ نہیں لکھا جا سکتا۔ اگر ای ون جیسے منصوبے بلا روک ٹوک آگے بڑھتے رہے تو مستقبل میں فلسطینی ریاست کا تصور صرف سفارتی قراردادوں تک محدود ہونے کا خطرہ ہے۔

پاکستان کے لیے اس معاملے میں اصول بالکل واضح ہونا چاہیے۔ فلسطینی سرزمین ناقابلِ تقسیم سیاسی حق ہے، غزہ کو مغربی کنارے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، مشرقی القدس کے فلسطینی تشخص کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور آبادکاری کے ذریعے حقِ خود ارادیت کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بین الاقوامی برادری کو ای ون منصوبہ روکنے، غیر قانونی آبادکاری کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے، فلسطینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے عملی سفارتی دباؤ بڑھانا ہوگا۔ دو ریاستی حل کو بچانے کے لیے اب صرف بیانات کافی نہیں۔ فلسطین کے نقشے کو زمین پر تبدیل ہونے سے روکنا ہوگا، کیونکہ جب جغرافیہ ختم ہوجائے تو ریاست کا وعدہ بھی بے معنی ہو جاتا ہے۔

Author

  • Dr. Abbas Ahmed

    Abbas Ahmed is a scholar of International Relations and Strategic Studies with expertise in global politics, security affairs, regional dynamics, and contemporary strategic challenges. His academic interests include foreign policy, geopolitical competition, conflict and cooperation, and emerging security trends, with a focus on understanding their implications for regional and international stability.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔