افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ سے منسوب ۱۷۹ صفحات پر مشتمل پشتو کتاب «د اہل السنة والجماعة عقیده» ایک ایسی دستاویز ہے جو نہ صرف عقیدے کا بیان ہے بلکہ یہ ایک ایسا آئینہ بھی ہے جس میں تحریک طالبان پاکستان، جسے پاکستانی حکومت نے سرکاری طور پر "فتنۃ الخوارج” قرار دیا ہے، کا اصل چہرہ صاف دکھتا ہے۔ اس کتاب کے اصولوں اور ٹی ٹی پی کی عملی کارروائیوں کے درمیان جو گہرا تضاد سامنے آتا ہے، وہ کسی تجزیہ کار کا موقف نہیں بلکہ خود ان کے نظریاتی "رول ماڈل” کی تحریر کا نتیجہ ہے۔
کتاب کے صفحات ۱۳۱ تا ۱۳۲ میں ایک بنیادی اصول کا بیان ہے کہ مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھانا ناجائز ہے اور ان کی جان و مال کا احترام واجب ہے۔ لیکن ٹی ٹی پی نے ۲۰۲۵ء اور ۲۰۲۶ء میں تشدد کی لہر کو ڈرامائی طور پر تیز کردیا، جس میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مربوط حملے، گاڑیوں میں بم دھماکے اور سکیورٹی فورسز پر بڑے پیمانے پر حملے شامل ہیں۔ مسلح ڈیٹا ٹریکر ACLED کے مطابق ٹی ٹی پی نے صرف ۲۰۲۵ء میں ایک ہزار سے زائد حملے کیے، اور ۲۰۲۶ء میں بھی یہ سلسلہ بلا روک جاری ہے۔ یہ اعداد و شمار کسی مسلح تنظیم کی نہیں بلکہ ایک ایسے گروہ کی حقیقت بیان کرتے ہیں جو مسلمانوں کے ہی خون سے اپنے اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔
کتاب کے صفحہ ۱۳۳ پر واضح ہدایت ہے کہ ظلم کے باوجود حکمران کے خلاف بغاوت حرام ہے، سوائے اس صورت کے جب اسے اللہ کی کھلی نافرمانی کا حکم دیا جائے۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں ٹی ٹی پی نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی لہر قرار دیتے ہوئے خیبرپختونخوا کے پانچ اضلاع میں ۱۳ مربوط حملے کیے۔ ریاست پاکستان کے خلاف یہ مسلح بغاوت ان کے اپنے مذہبی آئیڈیل کے بالکل خلاف ہے، اور یہ تضاد محض علمی نہیں، اس کی قیمت معصوم انسانی جانوں سے ادا ہوتی ہے۔
کتاب کے صفحات ۱۰۸ تا ۱۰۹ میں تکفیر یعنی گناہ کی بنیاد پر مسلمان کو کافر قرار دینے کی سختی سے ممانعت ہے۔ پاکستان نے جولائی ۲۰۲۴ء میں باقاعدہ سرکاری اعلامیے کے ذریعے ٹی ٹی پی کو "فتنۃ الخوارج” قرار دیا، اس فیصلے کا مقصد ٹی ٹی پی کی نظریاتی اپیل کو کمزور کرنا اور اسلام پر اس کے جھوٹے دعوے کو بے نقاب کرنا تھا۔ یہ اقدام محض لفظی نہیں تھا، اس کی بنیاد وہی مذہبی دلائل ہیں جو خود ملا ہبت اللہ کی کتاب میں موجود ہیں، کہ جو گروہ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان کا خون بہائے وہ خوارج کی علامت ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب افغان طالبان کے سربراہ کی اپنی کتاب میں یہ اصول موجود ہیں، تو کابل کی عملی پالیسی ان سے مختلف کیوں ہے؟ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک رپورٹ نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان سے ٹی ٹی پی کے پاکستان پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے، اور افغان طالبان نے اس گروہ کو زیادہ آزادی اور سہولت فراہم کی جس کے نتیجے میں علاقائی تناؤ میں اضافہ ہوا۔ اقوام متحدہ کے نگران ادارے سمیت متعدد آزاد رپورٹس نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین سے کھلے عام کام کرتی ہے۔ یہ صورتحال ملا ہبت اللہ کی کتاب میں موجود "مسلمانوں کی جان کے احترام” کے اصول سے صریح تضاد ہے۔
افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے سینکڑوں قید ٹی ٹی پی جنگجوؤں اور رہنماؤں کو رہا کیا اور انہیں افغانستان میں محفوظ ٹھکانے فراہم کیے، جس کے بعد سے پاکستان پر ٹی ٹی پی کے حملوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے ٢۶٠ افغان شہریوں کی شناخت اور پتے معلوم کیے جاچکے ہیں جو ٹی ٹی پی کی صفوں میں شامل تھے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ معاملہ محض نظریاتی نہیں، یہ ایک عملی اور منظم سہولت کاری ہے۔
کتاب کے صفحہ ۱۴۱ پر عدل، امانت داری اور خیانت سے اجتناب کو دینی فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ ٹی ٹی پی کی قیادت نے ملا ہبت اللہ کے ساتھ اطاعت کا حلف اٹھا رکھا ہے، پھر بھی وہ انہی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتی ہے۔ مذہب کی آڑ میں بے گناہوں کا قتل، حلف کے باوجود خیانت، یہ کتاب کے اصولوں کے مطابق خود ٹی ٹی پی کو ہی مذمت کے قابل قرار دیتا ہے۔
ٹی ٹی پی پاکستان کے شمال مغرب میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنے اعلانات میں افغان طالبان سے اپنی قربت کا دعویٰ کرتی ہے۔ لیکن یہ "قربت” اب ایک دوہری ذمہ داری پیدا کرتی ہے، ٹی ٹی پی اگر واقعی افغان طالبان کو اپنا نظریاتی رہنما مانتی ہے تو پھر اسے ملا ہبت اللہ کی کتاب کے ان اصولوں پر بھی عمل کرنا ہوگا جو مسلمانوں کی جان بچانے، تکفیر سے بچنے اور ریاست کے خلاف بغاوت نہ کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ اور اگر ٹی ٹی پی یہ نہیں کرتی، تو پھر کم از کم افغان طالبان کو اپنے ہی بیان کردہ مذہبی اصولوں کی بنیاد پر انہیں افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنا چاہیے۔
آخر میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ نظریاتی کتابیں لکھنا ایک بات ہے اور عملی کردار دوسری۔ ملا ہبت اللہ کی کتاب اگر صرف قرطاس تک محدود رہے اور افغان سرزمین پر خوارج کی کارروائیاں جاری رہیں، تو یہ کتاب نظریاتی ہتھیار نہیں بلکہ محض رسمی تحریر بن کر رہ جائے گی۔ اصل معیار یہ ہے کہ مذہبی دعوے اور عملی پالیسی ایک ہوں، اور اس کسوٹی پر آج دونوں فریق پرکھے جانے کے منتظر ہیں۔
Author
-
View all posts
Dr. Shahzaib Khan is a scholar of Political Science whose academic interests span political institutions, governance, public policy, comparative politics, and contemporary political developments. His work examines how states, institutions, and societies respond to evolving domestic and international challenges, with particular attention to political change, decision making, and democratic governance.