پاکستان میں اس وقت ایک ایسی بحث چھڑی ہوئی ہے جو کئی دہائیوں سے التوا میں پڑی تھی، یعنی ملک کے انتظامی ڈھانچے کو از سرِ نو ترتیب دینے کا سوال۔ اور اس بحث کا سب سے اہم اور سب سے پیچیدہ کردار بلوچستان ہے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے حال ہی میں ایک بیان میں جو کچھ کہا، وہ محض سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک زمینی حقیقت کا اعتراف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پورے بلوچستان کو کوئٹہ سے مؤثر طریقے سے گورن کرنا ممکن نہیں، اور یہ بات جو وہ کہہ رہے ہیں، اس کے پیچھے ٹھوس جغرافیائی اور انتظامی دلائل موجود ہیں۔
ذرا تصور کریں کہ ایک ضلعے کے ہیڈ کوارٹر سے ایک حادثے کی جگہ تک پہنچنے میں نو گھنٹے لگیں۔ ایک ڈپٹی کمشنر اپنے ہی ضلعے میں کسی واقعے پر نو گھنٹے بعد پہنچے اور اینکر پرسن اسلام آباد سے سوال پوچھے کہ "ابھی تک کیوں نہیں پہنچا؟” یہ محض ایک واقعہ نہیں، یہ ہمارے انتظامی نظام کی ناکامی کا استعارہ ہے۔ بلوچستان رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں کے انتظامی چیلنجز باقی صوبوں سے یکسر مختلف ہیں۔
حکومتِ بلوچستان نے جولائی 2026 میں ایک انتظامی تنظیمِ نو کا اعلان کیا جس کے تحت کوئٹہ ضلعے کو مشرقی اور مغربی کوئٹہ میں تقسیم کیا گیا، ڈویژنوں کی تعداد گیارہ اور اضلاع کی تعداد اکتالیس کر دی گئی۔ یہ اقدام خاموشی سے اٹھایا گیا لیکن اس کی اہمیت کم نہیں، یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ پرانا ڈھانچہ ناکافی ہے۔
نئے صوبوں کی بحث دراصل اسی پس منظر میں اٹھ رہی ہے۔ وزیراعلیٰ بگٹی نے نئے صوبوں کی حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ لسانی یا نسلی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی ضرورت کی بنیاد پر قائم ہونے چاہییں۔ یہ موقف نہایت اہم ہے۔ پاکستان میں جب بھی نئے صوبوں کی بات ہوئی، وہ فوری طور پر لسانی یا نسلی سیاست کا شکار ہوگئی۔ لیکن بلوچستان کا کیس مختلف ہے، یہاں ضرورت انتظامی قرب کی ہے، نسلی نمائندگی کی نہیں۔
تاہم اس بحث میں ایک اہم آواز ایسی بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ نئے صوبے یا انتظامی یونٹ بنانے سے بذاتِ خود حکمرانی کے مسائل حل نہیں ہوں گے اور اس سے پہلے بیوروکریسی میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس سے کوئی بھی پہلو تشریح نہیں کر سکتا۔
نیا صوبہ بنائیں لیکن اگر اس میں وہی پرانا انتظامی ڈھانچہ، وہی بیوروکریسی، وہی لاپروائی چلتی رہے تو تبدیلی صرف نام تک محدود رہے گی۔
ایک آزاد تحقیقی ادارے ایس ڈی پی آئی کے تجزیے کے مطابق پاکستان کا مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ یہ سوال بھی ہے کہ نئے صوبے بنانے کے بعد حکمرانی کا ڈھانچہ کیا ہوگا، اور یہ تبھی بہتر ہوگا جب تینوں سطحوں یعنی وفاق، صوبہ اور مقامی حکومت کے درمیان واضح تقسیمِ اختیار ہو۔
یہی وہ جگہ ہے جہاں مقامی حکومتوں کا موضوع انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ بگٹی نے خود تسلیم کیا کہ وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان سے لوکل گورنمنٹ انتخابات کی تاریخ مانگ رہے ہیں۔ بلوچستان کابینہ نے یہ فیصلہ کیا کہ تمام بلدیاتی ادارے آٹھ فروری 2027 کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے پر تحلیل ہوں گے اور اس کے بعد صوبے بھر میں ایک ہی مرحلے میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے۔ یہ خوش آئند اقدام ہے، لیکن اصل امتحان اس کے بعد ہے کہ ان مقامی حکومتوں کو اختیارات اور وسائل دونوں ملیں۔
تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو 1972 میں بلوچستان میں صرف 26 اضلاع تھے اور نئے اضلاع بنانے کے باوجود سابق سرکاری افسروں کے مطابق زیادہ تر نئے اضلاع انتظامی نہیں بلکہ سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے، جس سے ترقیاتی بجٹ میں سے غیر ترقیاتی اخراجات کا حصہ بڑھتا چلا گیا۔ یہ ایک اہم سبق ہے جو اگر نئے صوبوں کی بحث میں نظرانداز کر دیا گیا تو نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہوگا۔
اس پوری بحث میں جو بات سب سے کم کہی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ انتظامی قرب ہے، یعنی ایک ایسا نظام جہاں ڈپٹی کمشنر نو گھنٹے میں نہیں بلکہ ایک گھنٹے میں پہنچ سکے، جہاں مقامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوں، جہاں ترقیاتی منصوبے صرف کوئٹہ میں نہیں بلکہ ضلعی سطح پر طے ہوں۔
بڑی سیاسی جماعتوں اور قومی میڈیا کا بلوچستان پر توجہ کا فقدان اس بحث کا سب سے المناک پہلو ہے۔ جب تک بلوچستان کو صرف ووٹوں اور وسائل کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہے گا، نہ نئے صوبے بنیں گے اور نہ پرانے ضلعے بہتر ہوں گے۔ وزیراعلیٰ بگٹی نے درست کہا کہ یہ بحث سیمیناروں اور ہوٹلوں سے نکل کر پارلیمنٹ تک جانی چاہیے اور وہاں سیاسی اتفاقِ رائے بننا چاہیے۔
انتظامی اصلاح نہ تو جادو ہے اور نہ ہی شارٹ کٹ۔ لیکن جب ایک ضلعے کا ڈپٹی کمشنر نو گھنٹے بعد کسی واقعہ پر پہنچے، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ نظام نہیں، ڈھانچہ بدلنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کو انصاف چاہیے، اور انصاف کی پہلی شرط یہ ہے کہ ریاست پہنچے، اور وقت پر پہنچے۔
Author
-
View all posts
Dr. Shahzaib Khan is a scholar of Political Science whose academic interests span political institutions, governance, public policy, comparative politics, and contemporary political developments. His work examines how states, institutions, and societies respond to evolving domestic and international challenges, with particular attention to political change, decision making, and democratic governance.