Nigah

تہران کی چار فریقی ملاقات

[post-views]

مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک عجیب تضاد ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ جو لوگ جنگ کے نتائج بھگتتے ہیں، وہ امن چاہتے ہیں، جبکہ جنگ کی حمایت کرنے والی کئی آوازیں ان معاشروں سے اٹھتی ہیں جہاں میزائل نہیں گرتے، گھر تباہ نہیں ہوتے اور بچے بمباری کے خوف سے راتیں نہیں گزارتے۔ ایسے ماحول میں تہران میں پاکستان، ترکیہ، ایران اور سعودی عرب کی چار فریقی ملاقات محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ایک اہم پیش رفت ہے جو ہر سیاسی اختلاف کا حل عسکری طاقت میں تلاش کرتی ہے۔ اس ملاقات نے واضح کیا ہے کہ خطے کی سلامتی کا مستقبل جنگی محاذ آرائی کے بجائے باہمی اعتماد اور مذاکرات سے وابستہ ہے۔

چھبیس اکتوبر ۲۰۲۶ کو تہران میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کی شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کی ابراہیم قالن نے کی۔ ایرانی قیادت نے اس اجلاس کی میزبانی کی، جبکہ صدر مسعود پزشکیان بھی شریک ہوئے۔ ملاقات کے بعد چاروں ممالک نے علاقائی امن، سلامتی اور تعاون کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ خطے کے بعض بنیادی اختلافات کے باوجود چاروں ممالک ایک میز پر بیٹھنے میں کامیاب ہوئے۔

یہ سفارتی پیش رفت ان حلقوں کے لیے یقیناً مایوس کن ہے جو ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو مستقل علاقائی حقیقت بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کی نظر میں مذاکرات کمزوری، تحمل پسپائی اور سفارتی سمجھوتہ شکست ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر اختلاف کو جنگ میں تبدیل کرنا بہادری ہے؟ کیا ہزاروں انسانوں کی زندگیاں داؤ پر لگا کر طاقت کا مظاہرہ کرنا دانش مندی کہلا سکتا ہے؟ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ جنگ شروع کرنے کے فیصلے اکثر چند افراد کرتے ہیں، لیکن اس کی قیمت پوری قومیں ادا کرتی ہیں۔

پاکستان اور ترکیہ کا کردار اس تناظر میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک بخوبی سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف ایک نئی جنگ صرف ایرانی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی۔ اس کے اثرات خلیج فارس، بحیرہ عرب اور وسیع تر ایشیائی معیشتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ، تجارتی راستوں کا غیر محفوظ ہونا اور سرمایہ کاری میں کمی ایسے خطرات ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے علاقائی عدم استحکام محض خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی سلامتی کا بھی معاملہ ہے۔

پاکستان کی سفارتی کوششوں کو محض کسی ایک ملک کی حمایت یا مخالفت کے پیمانے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اسلام آباد کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات بھی اہم ہیں اور ایران کے ساتھ مستحکم ہمسائیگی بھی۔ یہی حقیقت پاکستان کو اختلافات کم کرنے میں ایک مفید کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ترکیہ بھی خطے میں اپنی سفارتی اور تزویراتی اہمیت کے باعث مذاکرات کی حمایت کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کی کوششوں کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ سلامتی صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ایسے سیاسی انتظامات سے بھی حاصل ہوتی ہے جنہیں تمام فریق قابل قبول سمجھیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی عرب خود تہران مذاکرات میں شریک ہوا۔ یہ شرکت ان تصورات کی نفی کرتی ہے جن کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے تعلقات لازماً مستقل دشمنی پر قائم رہنے چاہییں۔ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات حقیقی ہیں اور انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن اختلاف کا مطلب دائمی تصادم بھی نہیں۔ ریاض کی شرکت اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ خلیجی سلامتی کا پائیدار نظام ایران کو مکمل طور پر الگ تھلگ کرکے قائم نہیں کیا جا سکتا۔

مغربی دنیا میں بھی بعض سیاسی اور تزویراتی حلقے عسکری دباؤ کو سفارت کاری پر ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے مباحث میں جنگ اکثر نقشوں، فوجی صلاحیتوں اور طاقت کے توازن تک محدود رہتی ہے۔ اس بحث سے وہ انسانی چہرے غائب ہوتے ہیں جو تباہ شدہ شہروں، بے گھر خاندانوں اور معاشی بدحالی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ تاہم تمام مغربی ممالک یا معاشروں کو جنگ کا حامی قرار دینا بھی درست نہیں۔ وہاں ایسی مؤثر آوازیں موجود ہیں جو مسلسل تحمل، جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیتی ہیں۔

مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ فلسطین میں انسانی مصائب، لبنان کی غیر یقینی صورت حال اور یمن میں جاری کشیدگی اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ عسکری تصادم کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے جاتے ہیں۔ یمن سے متعلق تازہ کشیدگی اور سعودی عرب پر حملوں نے بھی سفارتی کوششوں کی اہمیت بڑھا دی ہے۔ ایک نئے علاقائی محاذ کا کھلنا ان بحرانوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال اٹھتا ہے۔ آخر جنگ کے حق میں بلند آوازیں اٹھانے والے لوگ اس کے انسانی نتائج پر اتنی کم بات کیوں کرتے ہیں؟ کسی محفوظ دارالحکومت میں بیٹھ کر فوجی کارروائی کا مطالبہ کرنا آسان ہے، لیکن جنگ زدہ علاقے میں ایک دن گزارنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔ میزائل کسی سیاسی نظریے اور عام شہری میں فرق نہیں کرتے۔ تباہ شدہ اسکول، بند ہسپتال اور بے روزگار نوجوان ہر جنگ کے وہ نتائج ہیں جنہیں بعد میں دہائیوں تک درست کرنا پڑتا ہے۔

تہران ملاقات کی اہمیت کے باوجود اسے فوری سفارتی فتح قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ مشترکہ اعلامیے میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ضرور ہوا، لیکن دیرپا امن کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے تحفظات، علاقائی مسلح گروہوں کی سرگرمیاں، بیرونی عسکری مداخلت اور باہمی عدم اعتماد ایسے معاملات ہیں جنہیں محض ایک ملاقات سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا چاروں ممالک اس ابتدائی پیش رفت کو مستقل تعاون میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے پاکستان اور ترکیہ کو مسلسل سفارتی رابطوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد سازی، سرحد پار حملوں کی روک تھام، سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت اور علاقائی تنازعات کے سیاسی حل پر سنجیدہ کام ضروری ہے۔ کسی بھی نئے سلامتی انتظام میں چھوٹے خلیجی ممالک کے جائز خدشات کو بھی جگہ ملنی چاہیے۔ ایسا نظام جو صرف چند طاقتور ممالک کے مفادات کی نمائندگی کرے، زیادہ عرصے تک مؤثر نہیں رہ سکتا۔

جنگ کے حامی اکثر امن کی کوششوں کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہیں، حالانکہ حقیقی غیر حقیقت پسندی یہ سمجھنا ہے کہ مسلسل بمباری اور عسکری طاقت سے پیچیدہ سیاسی تنازعات ہمیشہ کے لیے ختم کیے جا سکتے ہیں۔ مذاکرات کی کامیابی یقینی نہیں ہوتی، لیکن جنگ کے تباہ کن نتائج کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ سفارت کاری کی قدر اسی لیے ہے کہ یہ اختلافات کو انسانی تباہی میں تبدیل ہونے سے پہلے سنبھالنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

تہران کی چار فریقی ملاقات نے کم از کم اتنا ضرور ثابت کیا ہے کہ خطے کی اہم طاقتیں تصادم کے سوا دوسرے راستے اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کی سفارتی حمایت قابل تحسین ہے، جبکہ ایران اور سعودی عرب کا بات چیت پر آمادہ ہونا بھی مثبت اشارہ ہے۔ اب ضرورت اس سیاسی عزم کو برقرار رکھنے کی ہے۔ مشرق وسطیٰ کو مزید جنگی نعروں، پراکسی محاذ آرائی اور تباہ شدہ شہروں کی ضرورت نہیں۔ اسے امن، معاشی بحالی اور ایسی قیادت چاہیے جو آنے والی نسلوں کو جنگ کے بجائے ترقی کا مستقبل دے سکے۔

بالآخر سوال بہت سادہ ہے۔ جنگ کی حمایت کرنے والے کیا کبھی ان ماؤں کو جواب دے سکیں گے جن کے بچے واپس نہیں آئیں گے؟ کیا وہ ان خاندانوں کا نقصان پورا کرسکیں گے جن کی زندگیاں سیاسی رقابتوں کی نذر ہو جائیں گی؟ تہران سے اٹھنے والا پیغام یہی ہے کہ اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہونا چاہیے۔ جنگ کا مطالبہ کرنا آسان ہے، لیکن امن قائم رکھنا حقیقی سیاسی بصیرت اور قیادت کا امتحان ہے۔

Author

  • Dr. Abbas Ahmed

    Abbas Ahmed is a scholar of International Relations and Strategic Studies with expertise in global politics, security affairs, regional dynamics, and contemporary strategic challenges. His academic interests include foreign policy, geopolitical competition, conflict and cooperation, and emerging security trends, with a focus on understanding their implications for regional and international stability.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔