پاکستانی سیاست میں یہ مظہر نیا نہیں کہ جو لوگ دوسروں کے لیے احتساب کا مطالبہ سب سے اونچی آواز میں کرتے ہیں، وہی لوگ اپنی باری آنے پر قانونی عمل کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن ایک بار پھر اس روایت کے مرکز میں کھڑے ہیں۔ اکتوبر اور نومبر 2026 کے دوران ایف آئی اے، نیب، سی ڈی اے اور دیگر اداروں کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹسز نے ایک سنگین سوال اٹھایا ہے: کیا مذہبی اور سیاسی اثرورسوخ واقعی کسی کو قانون سے بالاتر کر سکتا ہے؟
نیب اور ایف آئی اے نے مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود کو پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے میں طلبی کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ آڈٹ حکام کی رپورٹ کے مطابق 3,938 منظور شدہ آسامیوں کی جگہ 4,252 آسامیوں کے اشتہارات جاری کیے گئے۔ نیب نے اپنے نوٹس میں یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ کیبنٹ کمیٹی کی ہدایات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے بڑی تعداد میں افراد کو عارضی کے بجائے مستقل بنیادوں پر تعینات کیا گیا، جس سے ادارے پر غیرضروری مالی بوجھ پڑا۔
یہ سرکاری ملازمتیں عوام کی امانت ہوتی ہیں، کسی سیاسی گھرانے کی موروثی وراثت نہیں۔ جب کوئی شخص وزارت کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنے حامیوں کے لیے راستے ہموار کرے تو یہ نہ صرف میرٹ کے اصولوں کی توہین ہے بلکہ ریاستی وسائل کی بندربانٹ بھی ہے۔
دوسری طرف سی ڈی اے نے مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر سی ڈی اے کی زمین پر سیکیورٹی گارڈز کے کیبنوں اور جنریٹر کی تنصیب سمیت متعدد مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں 15 دن میں دور کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سی ڈی اے نے اسلام آباد میں جے یو آئی (ف) سے منسلک متعدد مدارس کو بھی عمارتی قواعد کی خلاف ورزیوں اور غیر مجاز تعمیرات پر نوٹس جاری کیے ہیں اور انتباہ دیا ہے کہ تعمیلِ ہدایات میں ناکامی کی صورت میں عمارتیں سیل، جرمانہ عائد اور الاٹمنٹ منسوخ کی جا سکتی ہیں۔
سی ڈی اے نے 2018 سے 2026 تک کئی حکومتیں بدلنے کے باوجود مولانا کی رہائش گاہ پر جنریٹر کی موجودگی کو ایک عرصے سے جاری خلاف ورزی کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ یہ چھوٹی سی مثال ایک بڑی حقیقت بیان کرتی ہے: سیاسی وزن رکھنے والوں کے لیے قانون اکثر خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔
نیب کے دستاویزات میں مولانا فضل الرحمٰن سے منسلک اربوں روپے مالیت کی جائیدادوں، زرعی اراضی اور مبینہ طور پر خاندانی افراد اور فرنٹ مینوں کے ذریعے رکھے گئے اثاثوں سے متعلق الزامات شامل ہیں اور نیب کی کمپلینٹ اسکروٹنی کمیٹی نے ان معاملات پر باقاعدہ تحقیقات کی سفارش کی ہے۔
یہاں ایک ضروری بات واضح کرنا لازمی ہے: نوٹس یا انکوائری اپنے آپ میں جرم کا ثبوت نہیں۔ ہر شخص کو بے گناہ ماننا قانونی تقاضا ہے اور اسی اصول کا تقاضا ہے کہ تمام الزامات آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے ذریعے ثابت یا رد کیے جائیں۔ مگر جس شخص کی پوری سیاسی شناخت احتساب، دیانت اور قانون کی بالادستی پر قائم ہو، اس سے یہ توقع فطری ہے کہ وہ ان سوالات کا جواب سیاسی بیان بازی سے نہیں بلکہ ریکارڈ اور شفافیت سے دے۔
مذہب کا احترام بجا ہے۔ منبر سے دی گئی تعلیمات کی اپنی اہمیت ہے۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب دین کو سیاسی اثرورسوخ کی آڑ کے طور پر استعمال کیا جائے تو دونوں کو نقصان پہنچتا ہے، دین کو بھی اور سیاست کو بھی۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی واضح کیا ہے کہ فضل الرحمٰن نے حد سے تجاوز کیا ہے۔
پاکستانی عوام نے ہر دور میں ایک ہی تجربہ کیا ہے: طاقتور لوگوں کے لیے قانون کا ترازو ہمیشہ جھکا رہتا ہے۔ اگر یہ ملک واقعی قانون کی بالادستی چاہتا ہے تو پھر اس اصول میں کوئی استثنا نہیں ہونا چاہیے، نہ ٹائی اور کوٹ والوں کے لیے، نہ پگڑی اور چادر والوں کے لیے۔
قانون سب کے لیے یکساں ہے، یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں۔
Author
-
View all posts
Abbas Ahmed is a scholar of International Relations and Strategic Studies with expertise in global politics, security affairs, regional dynamics, and contemporary strategic challenges. His academic interests include foreign policy, geopolitical competition, conflict and cooperation, and emerging security trends, with a focus on understanding their implications for regional and international stability.