خیبر پختونخوا کی پولیس پاکستان کی سب سے بہادر اور سب سے زیادہ نظرانداز کی جانے والی سیکیورٹی فورس ہے۔ یہ کوئی جذباتی دعویٰ نہیں، بلکہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کو خود بیان کرتے ہیں۔ سن 2000 سے 2026 کے درمیان دو ہزار چار سو سے زیادہ پولیس اہلکار شہادت سے ہمکنار ہوئے، اور 2025 ریکارڈ تاریخ کا خونین ترین سال ثابت ہوا جس میں 235 جوان شہید ہوئے۔ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں 122 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 93.7 فیصد زیادہ ہے۔ یہ محض اعداد نہیں، یہ ان گھروں کی کہانی ہے جہاں روزانہ کسی کا انتظار ختم ہوتا ہے۔
اب ذرا دوسرا پہلو بھی دیکھیں۔ خیبر پختونخوا پولیس کی تنخواہ اور فلاح و بہبود کا پیکج پورے پاکستان میں سب سے کم ہے، باوجود اس کے کہ وہ سب سے مشکل سیکیورٹی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے اور ملک بھر میں سب سے زیادہ قربانیاں دے رہی ہے۔ آئی جی پی کے الفاظ ہیں: "بلوچستان کو سب سے زیادہ تنخواہ اور بہبود کا پیکج ملتا ہے، حالانکہ وہاں کی سیکیورٹی صورتحال کے پی کے مقابلے میں کہیں کم سنگین ہے۔ یہ صریحاً ناانصافی ہے۔”
یہ وہ پس منظر ہے جس میں خیبر پختونخوا کے نئے سیٹ اَپ نے سیکیورٹی چیلنج الاؤنس میں 30 سے 50 فیصد تک اضافے کی منظوری دی اور اس کے لیے 1 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے، اس کے ساتھ ساتھ جدید آلات اور آپریشنل صلاحیتوں کے لیے الگ سے 9 ارب روپے بھی منظور ہوئے۔ یہ فیصلہ محض ایک مالی اقدام نہیں بلکہ ایک طویل عرصے کی خاموشی کے بعد اعتراف کی آواز ہے۔
زمین پر کیا ہو رہا ہے؟
تصویر واضح کرنے کے لیے صرف اعداد و شمار کافی ہیں۔ 2025 میں پولیس پر 536 حملے کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 48 فیصد زیادہ تھے، اور 324 حملے ناکام بنائے گئے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 83 فیصد زیادہ تھے۔ 2026 کے پہلے چھ ماہ میں 636 دہشت گردانہ حملوں میں 275 افراد شہید ہوئے جن میں 142 پولیس اہلکار شامل تھے۔ صرف پہلے چھ ماہ میں 2004 انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن بھی کیے گئے۔
فتنہ الخوارج اور دہشت گرد تنظیمیں اس صوبے کو مسلسل میدانِ جنگ بنانے پر مصر ہیں۔ خیبر پختونخوا پولیس نے 2026 کے پہلے تین ماہ میں فتنہ الخوارج کے خلاف 1087 انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیے۔ مگر یہ جنگ لڑنے والے وہی لوگ تھے جنہیں بنیادی مالی تحفظ تک حاصل نہ تھا۔ دسمبر 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق کے پی سی ٹی ڈی میں 3844 منظور شدہ عہدوں کے مقابلے میں 3113 اہلکار کام کر رہے تھے، یعنی 19 فیصد آسامیاں خالی تھیں، اور 200 ایم 4 رائفلوں کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 9 دستیاب تھیں۔
یہ وہ خلا ہے جسے نئے اقدامات پر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سابقہ غفلت کا بوجھ
یہ اقدامات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ماضی میں ایسا نہیں ہوا۔ پولیس نے صوبے کو "ہارڈ ایریا” قرار دینے اور خصوصی الاؤنس منظور کرنے کا مطالبہ کیا، مگر مہینوں بعد تک وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔ 2023 سے اب تک 580 سے زیادہ پولیس اہلکار شہید ہوئے۔ ان میں سے بیشتر کے خاندان انتہائی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ جب فورس کو پتہ ہو کہ اگر وہ شہید ہو گئے تو ان کے بچے انتظار میں رہیں گے، تو جنگ لڑنے کا حوصلہ کیسے برقرار رہے؟
تنخواہوں میں یہ تفاوت سینئر افسران میں خیبر پختونخوا میں تعیناتی قبول کرنے سے ہچکچاہٹ کا باعث بنا، جس سے صوبے میں تجربہ کار قیادت کی کمی مزید گہری ہوئی۔ یہ ایک سادہ سی بات ہے: اگر آپ کے بہترین افسر صوبے میں آنا نہیں چاہتے، تو آپریشن کیسے کامیاب ہوں گے؟
9 ارب کیوں ضروری ہیں؟
جدید دور کی دہشت گردی نے اپنے طریقے بدل لیے ہیں۔ اکیلے بنوں ضلع میں 2025 میں 20 ڈرون حملے کیے گئے جن میں 19 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ڈرون حملہ روکنے کے لیے آپ کو جدید اینٹی ڈرون سسٹم چاہیے، آئی ای ڈی سے بچنے کے لیے بکتر بند گاڑیاں چاہیے، اور رات کو آپریشن کے لیے جدید نائٹ ویژن آلات چاہیے۔ کے پی سی ایم کی جانب سے نئی بکتر بند گاڑیوں، جدید ہتھیاروں اور سیکیورٹی آلات کی فراہمی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔
9 ارب روپے بظاہر بہت بڑی رقم لگتی ہے، مگر اگر اسے اس تناظر میں رکھیں کہ ایک بکتر بند گاڑی کتنے جوانوں کو بچا سکتی ہے، تو یہ سرمایہ کاری نہیں بلکہ قرضِ زندگی ہے جو ریاست پر واجب الادا تھا۔
یہ راستہ کہاں جاتا ہے؟
مالی اقدامات ضروری ہیں مگر کافی نہیں۔ حوصلہ اور تنخواہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں، لیکن طویل مدتی کامیابی کے لیے تین چیزیں اور بھی چاہیے: خالی آسامیوں کی فوری بھرتی، نچلے رینکس کے لیے رہائش و طبی سہولیات، اور شہدا کے خاندانوں کے لیے مستقل فلاحی نظام۔
سن 2000 سے 2026 تک دو ہزار چار سو سے زیادہ اہلکار شہید ہوئے، اور 2025 ریکارڈ خونین سال رہا جبکہ جولائی 2026 تک مزید 150 شہادتیں ہو چکی تھیں۔ ان کے خاندانوں کو صرف آنسو اور اعلانات نہیں، باقاعدہ اور مستقل امداد چاہیے۔
خیبر پختونخوا پولیس نے ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ وہ لڑ سکتی ہے۔ آئی جی پی کے الفاظ میں: "یا ہم بزدلوں کی طرح بھاگ جائیں یا کھڑے ہو کر لڑیں۔ ہم کھڑے ہوں گے، ڈٹے رہیں گے اور لڑیں گے۔”
یہ جذبہ ریاست کو سستا نہیں ملتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اس جذبے کی قیمت ادا کرے، نہ صرف الاؤنس کی صورت میں بلکہ ادارہ جاتی وقار، سیاسی عزم اور پائیدار وسائل کی شکل میں بھی۔ یہ 10 ارب 70 کروڑ کے اقدامات ایک آغاز ہیں، ایک اعتراف ہیں، ایک وعدہ ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ وعدہ ان شہدا کی قربانیوں کے مقابل کتنا پورا اترتا ہے جنہوں نے اس صوبے کو سینے سے لگا کر رکھا۔
Author
-
View all posts
Professor Dr. Waqas Khan is a scholar of climate change, security, diplomacy, and international affairs. He earned his PhD from Beijing University, China. His research focuses on the links between environmental challenges and global security, emphasizing international cooperation, strategic policy, and the role of diplomacy in addressing emerging global issues.