Nigah

افغانستان میں طالبان کی گرفت کو نئے چیلنجز

[post-views]

افغانستان میں طالبان حکومت مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ ملک میں اس کی گرفت مضبوط، منظم اور تقریباً غیر متنازع ہے۔ اگست 2021 کے بعد طالبان کی سیاسی حکمت عملی کا ایک بنیادی ستون یہی رہا کہ افغانستان میں مسلح مزاحمت ختم ہو چکی ہے اور ملک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ تاہم اکتوبر کے ابتدائی دنوں میں مختلف صوبوں سے سامنے آنے والے حملوں نے اس دعوے کو ایک بار پھر سوالیہ نشان کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

3 سے 6 اکتوبر کے درمیان قندھار، ہلمند، بدخشاں، ننگرہار اور بامیان میں طالبان اہلکاروں اور ان سے منسلک تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے۔ مختلف مزاحمتی گروہوں نے کم از کم دس طالبان اہلکاروں کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا۔ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق مشکل ہے، لیکن اصل اہمیت صرف ہلاکتوں کی تعداد میں نہیں بلکہ ان حملوں کے جغرافیائی پھیلاؤ اور اہداف کی نوعیت میں ہے۔

قندھار کی اہمیت افغانستان کے دوسرے صوبوں سے مختلف ہے۔ یہ طالبان تحریک کا نظریاتی، سیاسی اور روحانی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ طالبان کی اعلیٰ قیادت اور ان کے اہم فیصلہ ساز حلقوں کا قندھار سے گہرا تعلق ہے۔ اس لیے اگر مزاحمتی گروہ قندھار کے اندر کارروائی کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس کے اثرات محض سکیورٹی تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ طالبان کے اس بیانیے کو بھی متاثر کرتے ہیں کہ ان کا سب سے مضبوط علاقہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔

6 اکتوبر کو افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے ارغنداب میں طالبان کے ایک کمانڈر عزت اللہ اور ایک مبینہ انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اس سے ایک روز قبل اسی گروہ نے عبد الرحمان نامی ایک ایسے اہلکار کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے شعبے سے منسلک بتایا گیا۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو مزاحمت اب صرف فوجی چوکیوں یا گشت کرنے والے طالبان اہلکاروں کو نہیں بلکہ حکومت کے نظریاتی اور انتظامی ڈھانچے سے وابستہ افراد کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔

ہلمند میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ 5 اکتوبر کو ایک طالبان جیل کو دستی بموں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ اس سے پہلے لشکر گاہ میں بھی طالبان اہلکاروں پر حملے کی اطلاعات موجود تھیں۔ جیلوں کو نشانہ بنانا محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ اس کے سیاسی معنی بھی ہیں۔ طالبان حکومت کے ناقدین طویل عرصے سے گرفتاریوں، سخت سزاؤں اور سیاسی مخالفین کے خلاف طاقت کے استعمال پر سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ ایسے میں جیل یا جیل حکام کو نشانہ بنانا مزاحمتی گروہوں کی جانب سے طالبان کے ریاستی جبر کے ڈھانچے کو چیلنج کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

بدخشاں کی صورتحال زیادہ اہم دکھائی دیتی ہے کیونکہ یہاں طالبان کے انٹیلی جنس نظام کو براہ راست نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے فیض آباد میں طالبان کے ایک سینئر انٹیلی جنس عہدیدار صفی اللہ متوکل اور ان کے محافظوں کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی۔ طالبان کا انٹیلی جنس نیٹ ورک ان کی داخلی سلامتی کا سب سے اہم ستون ہے۔ اگر مزاحمتی گروہ اس نظام کے اندر موجود افراد، ان کی نقل و حرکت اور سرگرمیوں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں تو یہ محض ایک حملہ نہیں بلکہ طالبان کی اندرونی سکیورٹی کے لیے ایک زیادہ گہرا مسئلہ بن سکتا ہے۔

ننگرہار میں نیشنل موومنٹ فرنٹ نے ننگرہار سینٹرل جیل کے ڈپٹی انویسٹی گیشن ڈائریکٹر وحید وصال کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ننگرہار جغرافیائی اور سکیورٹی دونوں اعتبار سے حساس صوبہ ہے۔ یہ پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے اور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مختلف عسکری اور شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہا ہے۔ اگر یہاں طالبان کو بیک وقت متعدد سکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہتا ہے تو کابل حکومت کو مزید افرادی قوت اور وسائل مشرقی افغانستان میں منتقل کرنا پڑ سکتے ہیں۔

بامیان میں سامنے آنے والی کارروائیاں ایک مختلف نوعیت کا مسئلہ اجاگر کرتی ہیں۔ افغان ریپبلک فرنٹ نے معدنی وسائل سے متعلق قافلوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے قدرتی وسائل کو موجودہ حکومت کے مفادات کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس پہلو کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ افغانستان کے معدنی وسائل کو طالبان حکومت مستقبل کی اقتصادی خودکفالت کا ایک اہم ذریعہ قرار دیتی رہی ہے۔ اگر مزاحمتی گروہ کان کنی، معدنی قافلوں اور متعلقہ تجارتی راستوں کو نشانہ بنانا شروع کرتے ہیں تو اس سے سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

یہ تمام واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مزاحمت کی نئی حکمت عملی ممکنہ طور پر براہ راست علاقائی قبضے کے بجائے دباؤ بڑھانے پر مرکوز ہے۔ مزاحمتی گروہوں کو لازمی طور پر کسی بڑے شہر پر قبضہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اگر مختلف علاقوں میں طالبان اہلکاروں، انٹیلی جنس افسران، انتظامی اہلکاروں اور اقتصادی سرگرمیوں کو مسلسل نشانہ بناتے رہیں تو حکومت کو دفاع، نگرانی اور سکیورٹی پر زیادہ وسائل خرچ کرنا پڑیں گے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان ابھی بھی افغانستان کی غالب طاقت ہیں۔ ان کے پاس ریاستی ڈھانچہ، سکیورٹی فورسز، اسلحہ، وسائل اور انتظامی کنٹرول موجود ہے۔ مزاحمتی گروہ بکھرے ہوئے ہیں، ان کی افرادی قوت محدود ہے اور ان میں کوئی مکمل سیاسی یا عسکری اتحاد بھی موجود نہیں۔ اس لیے چند حملوں کو فوری طور پر طالبان حکومت کے خاتمے یا بڑے پیمانے پر بغاوت کی علامت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

لیکن حکومت کی طاقت اور حکومت کی مکمل گرفت دو مختلف چیزیں ہیں۔ ایک حکومت ملک کے بیشتر حصوں پر انتظامی کنٹرول رکھ سکتی ہے، لیکن اگر اس کے اعلیٰ اہلکار اپنے ہی صوبوں میں نشانہ بن رہے ہوں، انٹیلی جنس افسران غیر محفوظ ہوں، جیلوں پر حملے ہوں اور اقتصادی قافلے محفوظ نہ رہیں تو پھر ناقابل شکست ہونے کا تاثر کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

طالبان کے لیے اصل خطرہ شاید کسی ایک بڑے حملے سے نہیں بلکہ مسلسل چھوٹے حملوں کے مجموعی اثر سے پیدا ہوگا۔ ہر کامیاب کارروائی ان کے مخالفین کا حوصلہ بڑھا سکتی ہے۔ ہر نیا صوبہ جہاں حملہ ہوتا ہے، سکیورٹی نظام پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ ہر ہدف بننے والا افسر طالبان کے اندر خوف اور عدم اعتماد پیدا کر سکتا ہے۔

قندھار سے بامیان اور بدخشاں سے ننگرہار تک پھیلتی ہوئی یہ سرگرمیاں ایک بنیادی سوال کھڑا کرتی ہیں۔ اگر طالبان واقعی پورے افغانستان پر مکمل اور غیر متنازع کنٹرول رکھتے ہیں تو پھر مختلف مزاحمتی گروہ ملک کے الگ الگ حصوں میں مسلسل کارروائی کرنے کی صلاحیت کیسے برقرار رکھے ہوئے ہیں؟

شاید افغانستان میں جنگ کی نوعیت بدل چکی ہے، مگر سیاسی اور مسلح مزاحمت ختم نہیں ہوئی۔ موجودہ حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طالبان نے کابل پر قبضہ ضرور کر لیا تھا، لیکن افغانستان کے سیاسی مستقبل پر مکمل اجارہ داری اب بھی ان کے لیے ایک حل طلب چیلنج ہے۔

Author

  • Professor Dr. Waqas Khan

    Professor Dr. Waqas Khan is a scholar of climate change, security, diplomacy, and international affairs. He earned his PhD from Beijing University, China. His research focuses on the links between environmental challenges and global security, emphasizing international cooperation, strategic policy, and the role of diplomacy in addressing emerging global issues.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔