Nigah

متقی کا بیان اور افغانستان کی منشیات کی معیشت کا تلخ سچ

[post-views]

افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے حالیہ بیان میں منشیات کو ایک علاقائی مسئلہ قرار دیتے ہوئے پڑوسی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ مشترکہ اقدامات کی پیشکش کی ہے۔ بظاہر یہ ایک مثبت سفارتی تجویز معلوم ہوتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ افغانستان میں منشیات کی پیداوار، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ کابل اپنی سرزمین سے پیدا ہونے والے خطرات کا اعتراف کرنے کے بجائے پڑوسی ممالک کی طرف انگلی اٹھا رہا ہے۔ یہ طرزعمل مسئلے کے حل سے زیادہ ذمہ داری دوسروں پر ڈالنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔

افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا میں غیر قانونی افیون کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ طالبان کی پابندی سے پہلے عالمی پیداوار کا تقریباً ۸۰ فیصد حصہ افغانستان سے آتا تھا۔ یہ کوئی معمولی حقیقت نہیں۔ اس کاروبار کے پیچھے کاشت کاروں، بڑے تاجروں، منشیات تیار کرنے والوں، مسلح گروہوں اور بین الاقوامی اسمگلروں کا پیچیدہ نظام موجود رہا ہے۔ طالبان نے اگست ۲۰۲۱ میں اقتدار سنبھالا تو یہ پورا ڈھانچہ پہلے سے موجود تھا۔ چار سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس کے مکمل خاتمے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

یہ درست ہے کہ اپریل ۲۰۲۲ میں پوست کی کاشت پر پابندی کے نتیجے میں ۲۰۲۳ کے دوران پیداوار میں تقریباً ۹۵ فیصد کمی ہوئی۔ اس پیش رفت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اکتوبر ۲۰۲۶ میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم نے جو اعدادوشمار جاری کیے، انہوں نے صورتحال کا دوسرا رخ دکھایا۔ افغانستان میں پوست کی کاشت ۲۰۲۵ کے تقریباً ۱۰ ہزار ۲۰۰ ہیکٹر سے بڑھ کر ۲۰۲۶ میں ۴۳ ہزار ۳۰۰ ہیکٹر تک پہنچ گئی، جبکہ افیون کی پیداوار ۲۹۶ ٹن سے بڑھ کر ایک ہزار ۴۶۶ ٹن ہوگئی۔ طالبان ان اعدادوشمار سے اختلاف کرتے ہیں، لیکن صرف تردید سے زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔

منشیات کے کاروبار میں ایک اہم پہلو وہ ذخائر ہیں جو پابندی سے پہلے جمع کیے گئے تھے۔ اقوام متحدہ کی جنوری ۲۰۲۵ کی تحقیق کے مطابق ۲۰۲۲ کے اختتام پر افغانستان میں تقریباً ۱۳ ہزار ۲۰۰ ٹن افیون موجود ہونے کا تخمینہ تھا۔ مختلف حالات میں یہ ذخائر ۲۰۲۷ تک فراہمی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ تاہم یہ اس وقت کے ذخائر کا تخمینہ تھا، موجودہ مقدار کا نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کاشت میں کمی کے باوجود ذخیرہ شدہ افیون کی تجارت سے منافع کمانے کے مواقع باقی رہے۔

اسی تحقیق کے مطابق ان ذخائر کی تخمینی مالیت ۴ ارب ۶۰ کروڑ سے ۵ ارب ۹۰ کروڑ ڈالر کے درمیان تھی، جو افغانستان کی ۲۰۲۳ کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً ۲۳ سے ۲۹ فیصد کے برابر بنتی تھی۔ پابندی سے پہلے افیون کی طویل مدتی اوسط قیمت تقریباً ۷۵ ڈالر فی کلوگرام تھی، جو ۲۰۲۴ میں تقریباً ۷۵۰ ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس غیر معمولی اضافے سے بڑے ذخیرہ اندوزوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان تھا، جبکہ بیشتر غریب کاشت کار اپنے معمول کے روزگار سے محروم ہوگئے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ اتنے بڑے ذخائر کس کی ملکیت تھے اور ان سے حاصل ہونے والی آمدن کہاں گئی؟ طالبان کی منشیات سے ٹیکس وصول کرنے کی تاریخ تحقیق میں دستاویزی شکل میں موجود ہے۔ کاشت کاروں، تاجروں اور اسمگلروں سے مختلف شرحوں پر وصولیوں اور تحفظ کے بدلے ادائیگیوں کا ذکر ملتا ہے۔ موجودہ دور میں ان سرگرمیوں کی درست مقدار معلوم کرنا مشکل ہے، لیکن یہی وجہ ہے کہ طالبان حکام، مقامی کمانڈروں اور منشیات کے بڑے تاجروں کے مالی تعلقات کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔

ستمبر ۲۰۲۶ میں افغان اخبار ہشت صبح کی تحقیق نے ہلمند کے سنگین ضلع میں واقع شرافت بازار کے متعلق سنگین انکشافات کیے۔ ایک مقامی تاجر کے مطابق وہاں فروخت ہونے والی تقریباً ۷۰ فیصد افیون طالبان کمانڈروں اور اعلیٰ عہدیداروں سے منسلک تھی۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ابھی ضروری ہے، تاہم ایسی مقامی اطلاعات کابل کے سرکاری بیانات پر سوال ضرور اٹھاتی ہیں۔ اگر منشیات کی تجارت واقعی ممنوع ہے تو ایسے بازار کس طرح سرگرم ہیں اور متعلقہ حکام کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟

دوسری طرف مصنوعی منشیات، خصوصاً کرسٹل میتھ، ایک نیا اور خطرناک چیلنج بن چکی ہیں۔ بین الاقوامی ادارہ برائے انسداد منشیات کے مطابق افغانستان سے منسلک میتھ ایمفیٹامین کی اسمگلنگ میں پابندی کے باوجود تشویشناک رجحانات برقرار رہے۔ یہ منشیات روایتی افیون کے مقابلے میں مختلف طریقوں سے تیار اور نسبتاً آسانی سے چھپائی جاسکتی ہیں۔ اس کاروبار میں ملوث تجربہ گاہوں، کیمیائی مادوں کے ذرائع اور ان کی سرپرستی کرنے والے عناصر کی نشاندہی ناگزیر ہے۔

ستمبر ۲۰۲۶ میں سامنے آنے والی ایک بین الاقوامی کارروائی اس خطرے کی واضح مثال ہے۔ پاکستانی انسداد منشیات فورس، امریکی ادارے اور سری لنکا کے حکام کے تعاون سے تقریباً ۴۶۳ کلوگرام کرسٹل میتھ ضبط کی گئی، جس کی مالیت تقریباً دو کروڑ دس لاکھ ڈالر بتائی گئی۔ امریکی سفارت خانے کے مطابق اس کھیپ کے افغانستان سے آنے کا شبہ تھا اور متعدد مشتبہ افراد گرفتار ہوئے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ منشیات کے بین الاقوامی نیٹ ورک کئی ممالک میں سرگرم ہیں، جن کے خلاف مشترکہ کارروائی ناگزیر ہے۔

افغانستان سے نکلنے والے اسمگلنگ کے راستے ایران، وسطی ایشیا اور پاکستان سے ہوتے ہوئے سمندری راستوں اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں تک پھیلتے ہیں۔ پاکستان اور دوسرے پڑوسی ممالک کو سرحدی نگرانی، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اضافی دباؤ اور منشیات کے سماجی اثرات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ تاہم اسمگلنگ میں مختلف ملکوں کے جرائم پیشہ افراد کی شمولیت بھی حقیقت ہے۔ اس لیے اصل ضرورت الزام تراشی کے بجائے سرحد پار مالی نیٹ ورکس کو توڑنے کی ہے۔

طالبان کے اندرونی اختلافات سے متعلق خبریں بھی تشویش بڑھاتی ہیں۔ پندرہ اکتوبر ۲۰۲۶ کو افغانستان انٹرنیشنل اور ہشت صبح نے ہلمند کے علاقے بہرامچہ میں ضبط شدہ افیون کی کھیپ پر طالبان کے دو مسلح دستوں کے درمیان تصادم کی اطلاع دی۔ ان رپورٹس کے مطابق کم از کم گیارہ افراد ہلاک ہوئے اور مولوی عبدالاحاد طالب سے منسلک دستے کا نام سامنے آیا۔ واقعے کی سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہوئی، لیکن یہ الزامات منشیات کے کاروبار میں طاقتور عناصر کے ممکنہ مفادات کی تحقیقات کا تقاضا کرتے ہیں۔

اس صورتحال کا ایک انسانی پہلو بھی ہے جسے نظرانداز کرنا ناانصافی ہوگی۔ افغانستان کے لاکھوں کسان غربت، بے روزگاری اور متبادل فصلوں کی محدود آمدن کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ منشیات کا خاتمہ صرف کھیت تباہ کرنے سے ممکن نہیں۔ زرعی اصلاحات، آبپاشی، منڈیوں تک رسائی اور روزگار کے حقیقی مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ غریب کسانوں کو سزا اور بڑے اسمگلروں کو تحفظ دینے والا نظام کبھی پائیدار نتائج نہیں دے سکتا۔

امیر خان متقی کی مشترکہ تعاون کی پیشکش اس وقت معتبر سمجھی جائے گی جب طالبان آزاد بین الاقوامی نگرانی، منشیات کے ذخائر کی جانچ، مالی معاملات کی شفافیت اور مشتبہ عہدیداروں کے خلاف غیر جانب دار تحقیقات کی اجازت دیں گے۔ پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی ضروری ہے۔ محض سفارتی بیانات اس مسئلے کا حل نہیں۔

افغانستان میں منشیات کی معیشت صرف ایک داخلی مسئلہ نہیں رہی۔ اس کے اثرات سرحدوں سے آگے جاتے ہیں، جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو مضبوط کرتے ہیں اور علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ کابل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اعتماد بیانات سے نہیں بلکہ قابل تصدیق اقدامات سے پیدا ہوتا ہے۔ جب تک منشیات کے بڑے تاجروں، ان کے مالی سہولت کاروں اور ممکنہ سرکاری سرپرستوں کا احتساب نہیں ہوتا، طالبان کی انسداد منشیات مہم پر سوالات اٹھتے رہیں گے۔

Author

اوپر تک سکرول کریں۔