پاکستان میں مدارس نے طویل عرصے سے لاکھوں ایسے بچوں کو تعلیم، رہائش اور خوراک فراہم کی ہے جن کے خاندان محدود وسائل رکھتے ہیں۔ اس سماجی کردار سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن اسی اہمیت کی وجہ سے مدارس کے نام پر جمع ہونے والے چندے، زکوٰۃ، عطیات اور اندرون و بیرون ملک سے ملنے والی مالی معاونت کے استعمال پر سوال اٹھانا بھی ضروری ہے۔ خاص طور پر جب کوئی مذہبی سیاسی قیادت مدارس کو اپنی سیاسی قوت کا اہم حصہ سمجھتی ہو تو پھر اس قیادت پر مالی شفافیت اور طلبہ کی فلاح کے حوالے سے ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور جمعیت علمائے اسلام ف کے زیر اثر یا ان سے سیاسی طور پر وابستہ مدارس کے بارے میں عرصے سے یہی سوال سامنے آتا رہا ہے کہ ان اداروں کے مالی معاملات کا ایسا جامع، آزاد اور عوامی آڈٹ کہاں ہے جس سے معلوم ہو سکے کہ کتنی رقم جمع ہوئی اور کتنی طلبہ کی تعلیم اور رہائش پر خرچ ہوئی۔ اکتوبر 2026 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے بھی مدارس کے عطیات، زکوٰۃ اور بیرونی فنڈنگ کے باقاعدہ قابل تصدیق ریکارڈ کی عدم دستیابی کا سوال اٹھایا ہے۔
یہ سوال اس لیے زیادہ اہم ہوجاتا ہے کیونکہ پاکستان کے بہت سے روایتی مدارس میں آج بھی طلبہ محدود جگہوں میں رہتے ہیں۔ کئی اداروں میں رہائشی سہولتیں جدید معیار سے بہت دور ہیں۔ بچے فرش پر بیٹھ کر پڑھتے اور کھانا کھاتے ہیں، سونے کے لیے محدود جگہ میسر ہوتی ہے اور صحت، صفائی، کھیل، ٹیکنالوجی اور جدید تدریسی سہولتیں اکثر ناکافی دکھائی دیتی ہیں۔ ظاہر ہے تمام مدارس کو ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جاسکتا۔ بہت سے مدارس اپنی محدود آمدن کے باوجود اچھا کام بھی کر رہے ہیں۔ اصل سوال ان مذہبی سیاسی شخصیات سے ہے جنہیں کئی دہائیوں سے مدارس کی نمائندگی کا دعویٰ حاصل ہے۔ اگر سیاسی قوت بھی مدارس سے حاصل ہو، جلسوں میں افرادی قوت بھی اسی سماجی نیٹ ورک سے آئے اور مذہبی اداروں کے تحفظ کے نام پر قانون سازی میں بھی سیاسی وزن استعمال کیا جائے تو پھر طلبہ کی زندگی میں واضح بہتری کیوں نظر نہیں آنی چاہیے؟
مولانا فضل الرحمان نے حالیہ برسوں میں مدارس کی رجسٹریشن اور انتظامی خودمختاری کے معاملے پر بھرپور سیاسی مؤقف اختیار کیا۔ 2024 کی مدارس رجسٹریشن قانون سازی کے دوران بھی جے یو آئی ف کا کردار نمایاں رہا اور اس مسئلے کو قومی سیاست کا بڑا موضوع بنایا گیا۔ لیکن مدارس کا تحفظ صرف یہ نہیں کہ ریاست انہیں کس ادارے کے تحت رجسٹر کرے۔ اصل تحفظ یہ بھی ہے کہ مدرسے میں پڑھنے والا بچہ محفوظ عمارت میں رہے، مناسب خوراک کھائے، صحت کی سہولت حاصل کرے، صاف بستر پر سوئے، کمپیوٹر استعمال کرسکے اور دینی تعلیم کے ساتھ ایسی مہارتیں بھی حاصل کرے جن سے وہ جدید معیشت میں عزت کے ساتھ روزگار حاصل کرسکے۔
یہاں ایک دوسرا حساس سوال بھی سامنے آتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان اور ان کے خاندان کی جائیدادوں کے بارے میں مختلف ادوار میں سیاسی مخالفین اور ذرائع ابلاغ میں متعدد دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام آباد، ڈیرہ اسماعیل خان اور دبئی میں مبینہ املاک کے حوالے سے بھی رپورٹس شائع ہوچکی ہیں، تاہم ان دعووں میں سے ہر ایک کو کسی حتمی عدالتی فیصلے سے ثابت شدہ حقیقت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اسی لیے بہتر راستہ الزام تراشی نہیں بلکہ مکمل مالی شفافیت ہے۔ اگر تمام اثاثے قانونی آمدن سے حاصل کیے گئے ہیں تو ان کے ذرائع بیان کرنا، ٹیکس ریکارڈ سامنے رکھنا اور مدارس سے متعلق مالی نظام کا آزاد آڈٹ کرانا قیادت کے اپنے مفاد میں ہونا چاہیے۔
اسی طرح یہ سوال بھی جائز ہے کہ کسی سیاسی جماعت میں ایک ہی خاندان کے متعدد افراد مسلسل اہم سیاسی عہدوں پر کیوں نظر آتے ہیں۔ حالیہ بحث میں مولانا فضل الرحمان، ان کے بیٹے اور خاندان کے دیگر افراد کے سیاسی کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ خاندانی سیاست صرف جے یو آئی ف تک محدود نہیں اور پاکستان کی تقریباً تمام بڑی جماعتیں اس مسئلے کا شکار ہیں، لیکن مذہبی سیاست اخلاقی معیار کا دعویٰ کرتی ہے، اس لیے اس سے عوام کی توقع بھی زیادہ ہوتی ہے۔ جب منبر سے سادگی، امانت، مساوات اور غریب کی خدمت کا درس دیا جائے تو عملی سیاست میں بھی انہی اصولوں کی جھلک نظر آنی چاہیے۔
سب سے زیادہ تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کم عمر یا غریب مدرسہ طلبہ سیاسی جلسوں، دھرنوں اور احتجاجی سرگرمیوں میں بڑی تعداد میں دکھائی دیتے ہیں۔ سیاسی شعور ہر شہری کا حق ہے، لیکن مدرسے میں داخل ہونے والے بچے کے والدین اسے بنیادی طور پر تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیجتے ہیں، کسی سیاسی جماعت کی مستقل افرادی قوت بننے کے لیے نہیں۔ مدرسہ طالب علم کی پہلی شناخت ووٹر، کارکن یا مظاہرین کے ہجوم کا حصہ نہیں بلکہ طالب علم ہونی چاہیے۔ اس کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے اور مستقبل میں روزگار، تحقیق، تدریس اور معاشرتی ترقی کے راستے کھلے ہونے چاہئیں۔
مولانا فضل الرحمان اگر واقعی مدارس کے سب سے مؤثر سیاسی مدافع ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اب انہیں مدارس کی آزادی کی بحث سے آگے بڑھ کر مدرسہ طالب علم کی زندگی پر توجہ دینا ہوگی۔ ایک قومی مدرسہ ویلفیئر فنڈ قائم کیا جاسکتا ہے۔ تمام بڑے مدارس کے سالانہ اکاؤنٹس آزاد آڈیٹر سے چیک کرائے جاسکتے ہیں۔ ہر طالب علم کے لیے رہائش، خوراک، صحت، صفائی اور تعلیمی سہولت کا کم از کم معیار مقرر کیا جاسکتا ہے۔ چندوں اور زکوٰۃ کی آمدن اور خرچ کی سالانہ رپورٹ عوام کے سامنے رکھی جاسکتی ہے۔
آخرکار مسئلہ مولانا فضل الرحمان کے حق یا مخالفت کا نہیں۔ مسئلہ ان غریب بچوں کا ہے جن کے نام پر مذہبی اور سیاسی طاقت تشکیل پاتی ہے۔ اگر مدارس قومی خدمت کے ادارے ہیں تو ان میں رہنے والا بچہ بھی قومی ترجیح ہونا چاہیے۔ پاکستان کو اب یہ سوال زیادہ سنجیدگی سے پوچھنا ہوگا کہ مدارس کی سیاست سے فائدہ اٹھانے والے رہنما ان بچوں کے لیے کیا چھوڑ رہے ہیں جن کے کندھوں پر ان کی سیاسی طاقت کھڑی ہے۔ حقیقی دینی قیادت کا معیار جلسے کا حجم یا پارلیمان میں نشستوں کی تعداد نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے زیر سایہ رہنے والے کمزور ترین بچے کی زندگی کتنی بہتر ہوئی۔
Author
-
View all posts
Muhammad Sudais is pursuing a PhD in International Relations, with a research focus on United States interests and strategic engagement in Asia. His academic work examines American foreign policy, regional power competition, security dynamics, and the evolving geopolitical importance of Asia within the broader international system.