کرم میں فتنہ الخوارج کے دو دھڑوں، کاظم گروپ اور امتی گروپ، کے درمیان ہونے والی حالیہ خونریز جھڑپ نے ایک بار پھر ان عناصر کی اصل حقیقت بے نقاب کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امتی گروپ کے ارکان کو کاظم گروپ کے نائب کمانڈر سیف اللہ کی جانب سے کھانے کی دعوت دی گئی، مگر یہی دعوت ایک منظم دھوکے اور سفاکانہ حملے میں تبدیل ہو گئی۔ اس واقعے میں امتی گروپ کے اٹھارہ افراد مارے گئے جبکہ تین لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف کاظم گروپ کا ایک رکن ہلاک اور ایک لاپتہ ہوا۔ یہ واقعہ محض دو مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپ نہیں بلکہ اس ذہنیت کا مظہر ہے جس میں اعتماد، اخلاق، مہمان نوازی اور انسانی اقدار کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔
خوارج کی باہمی لڑائیاں کوئی نئی بات نہیں۔ ان گروہوں کی تاریخ داخلی اختلافات، قیادت کی رسہ کشی، وسائل کی بندر بانٹ اور طاقت کے حصول کی جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ عناصر بظاہر کسی نظریاتی مقصد کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر عملی طور پر ان کی صفوں میں مسلسل انتشار، بداعتمادی اور خونریزی پائی جاتی ہے۔ جب تک مفادات مشترک رہیں، یہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں، لیکن جیسے ہی مال، اسلحہ، علاقے، کمانڈ یا اثر و رسوخ کا معاملہ سامنے آتا ہے، یہی نام نہاد ساتھی ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں۔
کرم کا واقعہ اس لحاظ سے زیادہ افسوسناک ہے کہ قتل و غارت کو ایک دعوتِ طعام کے پردے میں چھپایا گیا۔ کھانے کی دعوت کسی بھی معاشرے میں اعتماد اور مہمان نوازی کی علامت سمجھی جاتی ہے، مگر ان عناصر نے اسی روایت کو دھوکے اور قتل کے لیے استعمال کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان گروہوں کے نزدیک نہ کوئی اخلاقی حد ہے، نہ کوئی انسانی اصول، اور نہ ہی کسی رشتے یا عہد کی کوئی حرمت۔ ان کے لیے صرف طاقت، ذاتی مفاد اور گروہی بالادستی اہم ہے۔
ان گروہوں کے اندر لڑائی کی بڑی وجہ وسائل پر قبضہ ہوتی ہے۔ غیر قانونی مالی ذرائع، بھتہ خوری، اسمگلنگ کے راستے، اسلحے کی فراہمی، محفوظ ٹھکانے اور مقامی اثر و رسوخ ان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب ان مفادات کی تقسیم پر اختلاف پیدا ہوتا ہے تو ان کی نام نہاد وحدت فوراً ٹوٹ جاتی ہے۔ اسی طرح قیادت کا مسئلہ بھی مسلسل خونریزی کو جنم دیتا ہے۔ ہر کمانڈر خود کو زیادہ بااختیار دیکھنا چاہتا ہے، ہر دھڑا اپنی کمانڈ تسلیم کروانا چاہتا ہے، اور ہر گروہ اپنے مفاد کو باقی سب پر فوقیت دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی لڑائیاں کسی اصولی اختلاف کا نتیجہ نہیں ہوتیں بلکہ ذاتی لالچ، خودغرضی اور اقتدار کی بھوک کا شاخسانہ ہوتی ہیں۔ وہ مذہبی نعروں اور جذباتی دعوؤں کو صرف اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب انہیں کسی بیرونی ہدف کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ ایک زبان بولتے ہیں، اور جب اندرونی مفادات ٹکراتے ہیں تو ایک دوسرے کو ہی گمراہ، دشمن یا خوارج قرار دینے لگتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل ان کی فکری کمزوری اور اخلاقی دیوالیہ پن کو ظاہر کرتا ہے۔
ان دھڑوں کا تشدد اندھا بھی ہے اور مقصدی بھی۔ اندھا اس لیے کہ اس کے نتیجے میں عام شہری خوف، بدامنی، نقل مکانی اور عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں۔ مقصدی اس لیے کہ تشدد کو حریفوں کو دبانے، علاقے پر قبضہ برقرار رکھنے، مخالف آوازوں کو خاموش کرنے اور مقامی آبادی کو خوفزدہ رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جب ایسے گروہ آپس میں لڑتے ہیں تو نقصان صرف ان تک محدود نہیں رہتا۔ راستے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، بازار بند ہو جاتے ہیں، مقامی آبادی دباؤ میں آ جاتی ہے، اور پورا علاقہ خوف کی فضا میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
ان گروہوں کا ایک بڑا تضاد یہ بھی ہے کہ مختلف خوارج دھڑے ایک دوسرے کو اسلام مخالف یا خوارج قرار دے کر نشانہ بناتے ہیں۔ یہ باہمی فتوے بازی دراصل ان کے دعوؤں کی کھوکھلی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ مذہبی اصطلاحات کو اصلاح یا اخلاقی رہنمائی کے لیے نہیں بلکہ قتل، قبضے اور انتقام کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس پیغامِ پاکستان نے واضح اور مستقل طور پر ایسے تمام دھڑوں کو خوارج قرار دیا ہے، کیونکہ ان سب کی سوچ، طریقہ واردات اور طرزِ عمل ایک ہی تباہ کن راستے کی عکاسی کرتے ہیں۔
کرم کی حالیہ جھڑپ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عناصر کسی علاقے، قوم یا مذہب کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ ان کی موجودگی جہاں بھی ہو، وہاں بے یقینی، خوف، انتقام اور عدم استحکام جنم لیتا ہے۔ یہ کبھی ریاستی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں، کبھی عام شہریوں کو، اور کبھی اپنے ہی سابق ساتھیوں کو۔ ان کے نزدیک انسانی جان کی کوئی قدر نہیں، اور نہ ہی انہیں اس بات کی پروا ہے کہ ان کی لڑائیوں سے عام لوگوں کی زندگیوں پر کیا اثر پڑتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کرم میں ہونے والی یہ خونریزی خوارج کے اندرونی زوال کی واضح علامت ہے۔ ان کی صفوں میں اعتماد ختم ہو چکا ہے، ان کے دعوے بے معنی ہو چکے ہیں، اور ان کا اصل چہرہ لالچ، خودغرضی، دھوکے اور سفاکی کی صورت میں سامنے آ چکا ہے۔ کاظم اور امتی گروپ کے درمیان یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ ایسے عناصر کا انجام ہمیشہ انتشار، بداعتمادی اور تباہی ہوتا ہے۔ جو گروہ اپنے ہی ساتھیوں کو کھانے کی میز پر قتل کر سکتے ہیں، وہ کسی معاشرے کے لیے خیر یا امن کا ذریعہ کبھی نہیں بن سکتے۔
Author
-
View all posts
محمد سلیم برطانیہ میں مقیم مصنف اور محقق ہیں جن کی اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ایک مضبوط علمی بنیاد ہے۔ اس کا کام طاقت اور حکمت عملی کی پیچیدگیوں کو تلاش کرتا ہے۔ وہ جغرافیائی سیاست، علاقائی معاملات، اور آج کی دنیا کو تشکیل دینے والے نظریات کے لیے ایک باریک عینک لاتا ہے۔