Nigah

اسرائیلی علاقائی بالادستی کا منصوبہ کیوں ناکام ہوا؟

[post-views]

مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ بتاتی ہے کہ جغرافیائی توسیع ہمیشہ کسی اعلانیہ سرکاری نقشے یا تحریری منصوبے کے ذریعے نہیں ہوتی۔ کبھی فوجی قبضے، کبھی آبادکاری، کبھی حفاظتی علاقوں اور کبھی مقامی آبادی کی نقل مکانی کے ذریعے نئی زمینی حقیقت قائم کی جاتی ہے۔ اسی لیے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے تصور کو محض ایک سیاسی نعرہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ اسرائیلی ریاست نے اسے باضابطہ قومی منصوبے کے طور پر تسلیم نہیں کیا، لیکن انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں، آبادکار گروہوں اور مذہبی قوم پرست حلقوں کے بیانات نے اسے سیاسی قوت فراہم کی۔ غزہ میں دوبارہ یہودی بستیاں قائم کرنے کی حمایت، فلسطینیوں کو دوسرے ممالک منتقل کرنے کی تجاویز اور مغربی کنارے میں آبادکاری کی توسیع نے یہ خدشہ مضبوط کیا کہ جنگ کو مستقل جغرافیائی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

سات اکتوبر 2023 کے حملوں نے اسرائیل کو حماس کے خلاف فوجی کارروائی کا جواز فراہم کیا، مگر غزہ میں شروع ہونے والی جنگ جلد ہی محدود جوابی کارروائی سے بہت آگے نکل گئی۔ اسرائیلی وزرا کی آبادکاری کانفرنسوں میں شرکت، فلسطینی آبادی کی نام نہاد رضاکارانہ نقل مکانی کی وکالت اور غزہ کے بعض حصوں پر مستقل قبضے کی تجاویز نے اسرائیلی عزائم کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کیے۔ اسی دوران مغربی کنارے میں نئی بستیوں، غیرقانونی چوکیوں اور آبادکار تشدد میں اضافے نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جغرافیائی بنیاد کو مزید کمزور کیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی آبادکاری، جبری بے دخلی اور عملی الحاق کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

یہ توسیع پسندانہ طرزِ عمل فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں رہا۔ شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے جنوبی شام میں اپنی فوجی موجودگی بڑھائی اور مزید علاقوں میں پیش قدمی کی، جسے دمشق نے اپنی قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ لبنان میں بھی اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے باوجود بعض اہم مقامات پر اپنی موجودگی برقرار رکھی۔ اسرائیل نے ان اقدامات کو سرحدی سلامتی اور دشمن قوتوں سے تحفظ کے نام پر پیش کیا، لیکن جب عارضی حفاظتی اقدامات مستقل فوجی ٹھکانوں، بفر علاقوں اور سیاسی دباؤ میں تبدیل ہونے لگیں تو ان کی نوعیت دفاع سے بڑھ کر جغرافیائی توسیع اختیار کر لیتی ہے۔

اسرائیلی سخت گیر حلقوں کے لیے سب سے موزوں صورتِ حال ایک ایسا منتشر مشرقِ وسطیٰ تھی جہاں ایران، سعودی عرب، خلیجی ریاستیں، ترکی، لبنان اور شام باہمی تنازعات میں الجھ جائیں۔ ایسی صورت میں مسلم ریاستوں کی عسکری، اقتصادی اور سفارتی قوت اندرونی تصادم میں ضائع ہوتی، آبنائے ہرمز بند رہتی، عالمی توانائی منڈی بحران کا شکار ہوتی اور اسرائیل خود کو خطے کی واحد منظم عسکری قوت کے طور پر پیش کر سکتا تھا۔ ایران اور امریکا کے درمیان 2026 کی جنگ اور آبنائے ہرمز کا بحران اس خطرے کو حقیقی شکل دے چکے تھے، کیونکہ اس اہم بحری راستے کی بندش نے عالمی تیل کی فراہمی اور خلیجی معیشتوں پر شدید دباؤ ڈالا۔

اس موقع پر پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی اور مصر کی سفارت کاری نے اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنے دیرینہ روابط، سعودی عرب کے ساتھ گہرے دفاعی تعلقات اور امریکا کے ساتھ رابطوں کو استعمال کرتے ہوئے بحران کو ایک وسیع علاقائی جنگ بننے سے روکنے کی کوشش کی۔ ایرانی حملوں کے بعد سعودی عرب میں شدید ردِعمل پیدا ہوا، مگر اسلام آباد کی سفارتی مداخلت نے مذاکراتی عمل کو مکمل طور پر ختم ہونے سے بچانے میں مدد دی۔ پاکستان کی میزبانی اور پسِ پردہ رابطوں نے عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ کھولا، جبکہ قطر نے بعد کے مراحل میں سہولت کاری کی۔ اگرچہ یہ انتظام مستقل امن میں تبدیل نہ ہو سکا، لیکن اس نے ایک انتہائی نازک مرحلے پر خطے کو بے قابو اور تباہ کن جنگ سے بچایا۔

غزہ کے معاملے میں بھی پاکستان اور دیگر مسلم ممالک نے چند بنیادی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی ناقابلِ قبول، غزہ پر مستقل قبضہ ناقابلِ برداشت، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی ناگزیر اور مسئلے کا حتمی حل ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام قرار دیا گیا۔ پاکستان نے جنوری 2025 کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، غزہ امن منصوبے کی حمایت کو انسانی جانیں بچانے، اسرائیلی انخلا اور امدادی رسائی کے مقاصد سے منسلک رکھا اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ دہرایا، جس کا دارالحکومت القدس ہو۔ اس اصولی مؤقف نے امن کے نام پر الحاق، قبضے یا فلسطینیوں کی مستقل بے دخلی کو سیاسی قبولیت دینے سے انکار کیا۔

ان سفارتی کوششوں کی کامیابی کا مطلب اسرائیل کی عسکری طاقت کا خاتمہ نہیں، بلکہ اسرائیل کے لیے علاقائی انتشار سے یک طرفہ فائدہ اٹھانا مشکل بنانا تھا۔ سعودی عرب کو ایران کے خلاف براہِ راست جنگ سے دور رکھنا، خلیجی ممالک کو اجتماعی ضبط پر قائم رکھنا، ترکی اور قطر کو سفارتی عمل میں شامل کرنا اور پاکستان کا دونوں جانب اعتماد برقرار رکھنا اس حکمتِ عملی کے اہم عناصر تھے۔ اگر مسلم دنیا کے بڑے ممالک باہمی جنگ میں داخل ہو جاتے تو شام جیسی سیاسی اور عسکری کمزوری پورے خطے میں پھیل سکتی تھی۔ یہی انتشار اسرائیلی توسیع پسند عناصر کو نئی پیش قدمی، مزید فوجی ٹھکانوں اور اضافی جغرافیائی تسلط کا موقع فراہم کرتا۔

تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ گریٹر اسرائیل کا تصور مکمل طور پر دفن ہو چکا ہے۔ مغربی کنارے میں آبادکاری جاری ہے، آبادکار تشدد میں اضافہ ہوا ہے، غزہ میں اسرائیلی فوجی موجودگی برقرار ہے اور جنوبی شام و لبنان کی خودمختاری سے متعلق تنازعات ابھی حل نہیں ہوئے۔ جولائی 2026 میں ایران کے ساتھ عبوری سمجھوتے کے خاتمے نے بھی واضح کر دیا کہ علاقائی امن انتہائی کمزور بنیادوں پر قائم ہے۔ اس لیے توسیع پسندانہ عزائم کو وقتی طور پر روکا ضرور گیا ہے، لیکن ان کی مستقل ناکامی کے لیے فلسطینی ریاست کا حقیقی قیام، مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی انخلا، آبادکاری کا خاتمہ، شام اور لبنان کی مکمل خودمختاری اور مسلم ممالک کے درمیان ایک مستقل علاقائی سلامتی کا نظام ضروری ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اسرائیلی توسیع پسندی کو کسی ایک جنگ یا ایک ریاست نے نہیں روکا، بلکہ علاقائی اتحاد، سفارتی توازن اور مسلم ممالک کے باہمی تصادم سے گریز نے اس کے راستے میں مؤثر رکاوٹ پیدا کی۔ پاکستان نے اس عمل میں ایک اہم سفارتی پل کا کردار ادا کرتے ہوئے ثابت کیا کہ مؤثر سفارت کاری بھی قومی اور علاقائی سلامتی کا طاقتور ہتھیار ہے۔ اب اصل ضرورت وقتی جنگ بندیوں کو منصفانہ سیاسی حل میں تبدیل کرنے کی ہے، کیونکہ فلسطینیوں کو حقِ خودارادیت اور ہمسایہ ممالک کو مکمل خودمختاری دیے بغیر توسیع پسندی کا خطرہ نئے ناموں اور حفاظتی جوازوں کے ساتھ دوبارہ سامنے آ سکتا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر اکرام احمد

    اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔