Nigah

زیارت میں بے گناہوں پر حملہ

[post-views]

زیارت کے علاقے میں بے گناہ شہریوں اور مقامی افراد پر دہشت گردوں کے حملے نے ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ خوارج اور دیگر مسلح شدت پسند گروہوں کا کوئی تعلق نہ دین سے ہے، نہ انسانیت سے اور نہ ہی کسی جائز سیاسی جدوجہد سے۔ معصوم لوگوں کا اغوا، ان کا قتل اور معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کرنا دراصل دہشت گردی کی وہ سفاک شکل ہے جس کا مقصد ریاست کو کمزور کرنا، عوام کو عدم تحفظ کا شکار بنانا اور روزمرہ زندگی کو مفلوج کرنا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد افراد کو اغوا کیا گیا جبکہ نو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ واقعہ محض چند خاندانوں کا سانحہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کے امن، سماجی استحکام اور قومی سلامتی پر حملہ ہے۔

اسلام انسانی جان کی حرمت کو بنیادی اصول قرار دیتا ہے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ جس نے کسی بے گناہ انسان کو قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اور جس نے ایک جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔ اس آفاقی حکم کے بعد کسی فرد یا گروہ کے پاس یہ جواز باقی نہیں رہتا کہ وہ مذہب، قومیت، سیاسی محرومی یا کسی اور نعرے کی آڑ میں بے گناہوں کا خون بہائے۔ جو لوگ مسافروں، مقامی باشندوں، مزدوروں، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، وہ دراصل اسلامی تعلیمات سے کھلی بغاوت کرتے ہیں۔ ایسے عناصر کی فکر، حکمت عملی اور طرز عمل اسلام کے تصورِ عدل، رحم، امن اور انسانی وقار کی مکمل نفی ہے۔

زیارت کا واقعہ اس حقیقت کو بھی سامنے لاتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اب خوف کو ایک منظم ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ ریاست دور دراز علاقوں میں اپنی عمل داری برقرار نہیں رکھ سکتی۔ اغوا، ناکہ بندی، سکیورٹی چوکیوں پر حملے اور شہری نقل و حرکت میں رکاوٹیں اسی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں۔ دہشت گرد چاہتے ہیں کہ مقامی آبادی خوف زدہ ہو، کاروبار بند ہوں، سیاحت متاثر ہو، ترقیاتی سرگرمیاں رک جائیں اور ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور پڑے۔ اس لیے اس حملے کو محض ایک سکیورٹی واقعہ سمجھنا کافی نہیں، بلکہ اسے ایک وسیع تر نفسیاتی، سیاسی اور سماجی جنگ کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

ریاستی مؤقف کے مطابق فتنہ الخوارج اور کالعدم بلوچ دہشت گرد تنظیمیں، بالخصوص بی ایل اے، اپنے اختلافات کے باوجود پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مشترکہ مقصد پر یکجا ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان تنظیموں کے نظریاتی نعروں میں بظاہر فرق ہوسکتا ہے، مگر ان کے طریقۂ کار میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ دونوں عام شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں، قومی تنصیبات اور اہم شاہراہوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ دونوں نوجوانوں کو گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے ورغلاتے ہیں اور دونوں تشدد کو سیاسی اثرورسوخ حاصل کرنے کے ذریعہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ان کے حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ گروہ عوامی نمائندگی یا سیاسی اصلاح نہیں چاہتے بلکہ بندوق کے زور پر خوف، طاقت اور جبر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستانی حکام طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ بعض دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں، نقل و حرکت کی آزادی اور تنظیمی سہولتیں حاصل ہیں۔ اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو یہ نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کے خلاف ہے بلکہ خود افغانستان کے طویل مدتی مفاد کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ کوئی بھی ریاست دہشت گرد گروہوں کو مستقل طور پر قابو میں نہیں رکھ سکتی۔ جو گروہ آج کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہوتے ہیں، وہ کل اپنے میزبانوں کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ افغان طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے کام کرنے والے تمام دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے، ان کے تربیتی مراکز ختم کرے اور سرحد پار دراندازی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے۔

زیارت میں شہریوں کو نشانہ بنانا اس دعوے کو بھی بے نقاب کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ کسی قوم، علاقے یا محروم طبقے کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ اگر ان کا مقصد واقعی عوامی فلاح ہوتا تو وہ انہی عوام کو قتل، اغوا اور خوف زدہ نہ کرتے جن کے نام پر وہ تشدد کرتے ہیں۔ اسکول بند کرنا، سڑکیں غیر محفوظ بنانا، تجارت میں رکاوٹ ڈالنا اور مقامی خاندانوں کو سوگ میں مبتلا کرنا کسی آزادی یا حقوق کی تحریک کی علامت نہیں بلکہ منظم دہشت گردی ہے۔ عوام کی زندگی مشکل بنا کر کوئی بھی گروہ اخلاقی یا سیاسی جواز حاصل نہیں کرسکتا۔

پاکستان کے لیے اس خطرے کا جواب صرف فوجی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کو انٹیلی جنس تعاون، مقامی پولیس کی استعداد، سرحدی نگرانی، ڈیجیٹل پروپیگنڈے کے مقابلے اور عوامی شراکت داری کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ دور دراز علاقوں میں پولیس چوکیوں کو جدید مواصلاتی نظام، نگرانی کے آلات، محفوظ نقل و حرکت اور فوری کمک کی سہولت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح مقامی نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور مثبت سیاسی شرکت کے مواقع فراہم کرنا بھی دہشت گرد تنظیموں کی بھرتی اور گمراہ کن بیانیے کے خلاف مضبوط دفاع ثابت ہوسکتا ہے۔

پاکستان کی ریاست اور معاشرہ دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور تکلیف دہ جدوجہد سے گزر چکے ہیں۔ ہزاروں شہریوں، فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کو کمزور نہ ہونے دیا جائے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر معصوم شہریوں کے قتل، ریاستی اداروں پر حملوں اور سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر پوری قوم کو متحد رہنا ہوگا۔

زیارت کا سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دہشت گردی کا اصل ہدف صرف جانیں نہیں بلکہ قومی حوصلہ، سماجی اعتماد اور امن کا اجتماعی تصور ہوتا ہے۔ تاہم خوارج اور ان کے اتحادی یہ حقیقت بھول چکے ہیں کہ پاکستان نے اس سے کہیں زیادہ سنگین آزمائشوں کا مقابلہ کیا ہے۔ دہشت گرد وقتی خوف ضرور پیدا کرسکتے ہیں، مگر وہ ایک متحد قوم کے عزم کو شکست نہیں دے سکتے۔ پاکستان قانون، ریاستی طاقت، عوامی یکجہتی اور شہداء کی قربانیوں کے ذریعے اس فتنے کا مقابلہ جاری رکھے گا۔ دہشت گردی کی شکست ناگزیر ہے کیونکہ خوف، قتل اور نفرت پر قائم کوئی منصوبہ کبھی دیرپا کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔

Author

  • ڈاکٹر مزمل خان

    مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔