Nigah

فتنۂ خوارج کا بہیمانہ اندازِ قتل و قتال، جہاد یا حیوانیت..؟

[post-views]

اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے انسانی جان، عزت اور حرمت کو غیر معمولی مقام عطا کیا ہے. اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمان کے خون، مال اور عزت کو کعبۃ اللہ کی حرمت سے تشبیہ دی. اس کے باوجود ہر دور میں ایسے گمراہ لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں جو اسلام ہی کے مقدس نام کو استعمال کرکے ظلم، دہشت گردی اور قتل و غارت کو فروغ دیتے ہیں. تاریخ میں ایسے گروہوں کی نمایاں مثال خوارج ہیں، جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے امت کو پہلے ہی خبردار فرما دیا تھا.

مملکت خداداد پاکستان میں آج کل افغان طالبان کے سائے میں پلنے والی تحریک طالبان اور جماعۃ الاحرار کے خوارج پاکستان میں سکیورٹی اہلکاروں اور دیگر افراد پر حملے کرتے ہیں، انہیں قتل کرتے ہیں، ان کی لاشوں کا مثلہ کرتے ہیں، سروں کو جسموں سے جدا کرتے ہیں اور پھر اپنے ان کالے کرتوتوں کو "جہاد” کا نام دیتے ہیں. سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن و سنت کے واضح احکام کو پامال کرے تو کیا محض اپنے عمل کا نام "جہاد” رکھ دینے سے وہ جہاد بن جاتا ہے؟ کیا خود کو "مجاہد” کہہ دینے سے کوئی واقعی مجاہد بن جاتا ہے؟

دنیا کا کوئی بھی مذہب کسی ناحق شخص کو قتل کرنے کے مذموم عمل کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا. جب اسلام کسی عام انسان کے قتل کی مذمت کرتا ہے تو پاکستان کی سرزمین میں غیر قانونی طور پر گھس کر، خود ساختہ جہاد کا پرچم لے کر، افواج پاکستان اور نہتے شہریوں کا خون بہانا کیوں کر جائز ہو سکتا ہے؟

سورہ نساء کی آیت نمبر 93 میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ.” جس کا ترجمہ ہے کہ جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے، اللہ اس پر غضب ناک ہوگا، اس پر لعنت فرمائے گا اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے.

سورہ مائدہ کی آیت نمبر 32 میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان عالیشان ہے کہ "مَنۡ قَتَلَ نَفۡسًۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ اَوۡ فَسَادٍ فِى الۡاَرۡضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيۡعًا ؕ وَمَنۡ اَحۡيَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحۡيَا النَّاسَ جَمِيۡعًا.” یعنی جس نے کسی ایک شخص کو بھی قتل کیا اس نے گویا ساری انسانیت کو قتل کر دیا. یہ وہ قرآنی معیار ہے جس کے بعد کسی بازار، مسجد، اسکول، جنازے یا فوجی چوکی پر حملے کو "جہاد” کہنا دراصل قرآن کے مفہوم کو الٹ دینے کے مترادف ہے. ذرا سوچیے کہ جب اللہ تعالیٰ جان بوجھ کر ایک مسلمان کے قتل پر جہنم، غضب اور لعنت کی وعید سنا رہے ہیں تو پھر وہ کون سا جہاد ہے جس میں مسلمان ہی قتل کیے جائیں؟ وہ کون سا جہاد ہے کہ جس میں خونِ مسلم کو پانی سے بھی ارزاں سمجھ لیا جائے؟

آقائے نامدار سرور کائنات جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمان وہی ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں. ایک اور روایت کا مفہوم ہے کہ "مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے.” اگر صرف ان دو احادیث کو ہی میزان بنا لیا جائے تو اس نام نہاد "جہاد” کا بدبودار بیانیہ خود بخود باطل ثابت ہوجاتا ہے.

قرآن کریم کے بعد سینکڑوں احادیث مبارکہ بھی اس پر وارد ہوئی ہیں جو مسلمانوں کے قتل عام کو ناجائز اور حرام قرار دیتی ہیں. ایک روایت کا مفہوم ہے کہ "تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر حرام ہے.” یہ صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے اسلامی معاشرے کا بنیادی اصول ہے۔ پھر آخر کون لوگ ہیں جو انہی احکام کو پسِ پشت ڈال کر مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں اور اپنے آپ کو مجاہد بھی کہتے ہیں؟ کیا رسول اللہ ﷺ کے اس واضح فرمان کے خلاف چلنے والا شخص مجاہد کہلا سکتا ہے؟

خوارج نہ صرف مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں بلکہ انتہائی بہیمانہ انداز سے لاشوں کا مثلہ کرتے ہیں اور مسلمانوں کی لاشوں کی حرمت کو بھی پامال کرتے ہیں. وہ کام جو کافروں کی لاشوں کے ساتھ بھی جائز نہیں وہ بھلا کسی مسلمان کی لاش کے ساتھ کیسے جائز ہو سکتا ہے. جب صرف قتال کے بارے میں یہ سخت وعید ہے تو پھر قتل، اور وہ بھی بے دردی کے ساتھ، کس قدر سنگین جرم ہوگا؟

اسلام نے صرف قتل ہی کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ مرنے کے بعد بھی انسان کی حرمت برقرار رکھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب لشکر روانہ فرماتے تو فرمایا کرتے تھے: «وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تُمَثِّلُوا» "خیانت نہ کرنا، عہد شکنی نہ کرنا اور مثلہ نہ کرنا.” (صحیح مسلم) یہاں "مثلہ” سے مراد لاش کے اعضا کاٹنا، چہرہ بگاڑنا، سر قلم کرنا یا لاش کی بے حرمتی کرنا ہے. غور کیجیے کہ جب اسلام دشمن کی لاش کا مثلہ کرنے سے بھی منع کر رہا ہے، تو پھر ایک مسلمان کی لاش کے ساتھ ایسا سلوک کرنے کی اجازت کہاں سے آگئی؟ اگر کوئی گروہ کسی مسلمان کا سر قلم کرے، لاش کی بے حرمتی کرے، ویڈیو بنا کر نشر کرے اور پھر اسے "جہاد” قرار دے، تو کیا وہ قرآن و سنت کی پیروی کر رہا ہے یا ان کی صریح مخالفت؟

نبی کریم ﷺ نے خوارج کی ایک نمایاں علامت یہ بیان فرمائی: "يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَان.” یعنی وہ اہلِ اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ (صحیح بخاری) آج خوارج بھی ہندوؤں کی گود میں بیٹھ کر ان سے تو پیار کی پینگیں چڑھا رہے ہیں اور اپنے پڑوس میں ایک اسلامی ملک کے باشندوں کو بے دردی سے قتل کر رہے ہیں. یہ حدیث مبارکہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مسلمانوں کا خون بہانا اور اسے دین کا نام دینا گمراہی کی علامت ہے، نہ کہ تقویٰ اور جہاد کی. اسلام میں جہاد ایک مقدس عبادت ہے، لیکن اس کی اپنی شرائط، حدود اور اخلاقیات ہیں۔ جہاد کبھی ظلم کا نام نہیں، کبھی انتقام کا نام نہیں، کبھی لاشوں کی بے حرمتی کا نام نہیں اور کبھی مسلمانوں کے قتل کا نام نہیں۔ جس عمل کی بنیاد ہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی پر ہو، اسے جہاد کیسے کہا جا سکتا ہے؟

سکیورٹی اہلکار بھی مسلمان معاشرے ہی کا حصہ ہوتے ہیں، ان میں سے بہت سے لوگ نماز پڑھنے والے، روزہ رکھنے والے، قرآن کی تلاوت کرنے والے اور اپنے وطن و عوام کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں. اگر کوئی شخص یا گروہ انہیں صرف اس بنا پر قتل کرے، ان کے سروں کو جسم سے جدا کرے اور لاشوں کی بے حرمتی کرے، تو وہ رسول اللہ ﷺ کی کس سنت پر عمل کر رہا ہے؟ قرآن کے کس حکم کی پیروی کر رہا ہے؟ اور اگر وہ ان تمام واضح نصوص کی مخالفت کر رہا ہے تو پھر اپنے آپ کو مجاہد کہنے کا جواز کہاں سے لاتا ہے؟

آج امتِ مسلمہ کو جذباتی نعروں کی نہیں بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں حق و باطل کو پہچاننے کی ضرورت ہے. ہر وہ آواز جو قتل، دہشت، بربریت اور مسلمانوں کے خون کو جائز قرار دے، اسے کتاب و سنت کی میزان پر پرکھنا چاہیے، نہ کہ نعروں کی بنیاد پر قبول کر لینا چاہیے. لہٰذا ملک پاکستان کا ہر شہری غور کرے اور اپنے ملک میں موجود اس مکروہ فتنے کی سرکوبی کے لیے دام، درم، سخن اپنا کردار ادا کرے اور ہر ایک کو یہ سمجھائے کہ یہ لوگ دین کے نام پر دھبہ ہیں اور جہاد کے نام پر دہشتگردی کا ایک کاروبار چلا رہے ہیں، اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے.

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

اوپر تک سکرول کریں۔