Nigah

افغانستان عالمی دہشت گردی کا نیا مرکز

[post-views]

شام میں غیر ملکی دہشت گرد گروہوں کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک نئے خطرے کو جنم دیا ہے۔ شام کی نئی انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی جنگجوؤں کی سرگرمیوں پر پابندیاں، عسکری تنظیموں کی تحلیل، گرفتاریوں کا خدشہ اور شدت پسند عناصر کو ریاستی نظم و ضبط میں لانے کی کوششیں بظاہر ایک مثبت پیش رفت ہیں، لیکن اس کے نتیجے میں ہزاروں تربیت یافتہ دہشت گرد نسبتاً محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں شام سے نکل سکتے ہیں۔ اس تناظر میں افغانستان سب سے زیادہ موزوں منزل کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جہاں پہلے ہی متعدد علاقائی اور عالمی دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں اور جہاں طالبان حکومت کے زیرِ اقتدار نگرانی، احتساب اور قانون نافذ کرنے کا مؤثر نظام دکھائی نہیں دیتا۔

افغانستان کا موجودہ سکیورٹی ماحول غیر ملکی دہشت گردوں کے لیے غیر معمولی طور پر سازگار ہے۔ یہاں برسوں سے قائم دہشت گرد نیٹ ورک، تربیتی ڈھانچے، محفوظ پناہ گاہیں، غیر قانونی مالیاتی ذرائع، اسلحے تک رسائی اور سرحد پار آمدورفت کے راستے موجود ہیں۔ یہی عوامل شام سے آنے والے جنگجوؤں کو فوری طور پر مختلف تنظیموں میں ضم ہونے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ ایسے عناصر کو نئی تنظیمی شناخت اختیار کرنے، مقامی سہولت کاروں سے رابطہ قائم کرنے یا پہلے سے موجود القاعدہ، داعش خراسان، ترکستان اسلامی پارٹی، اسلامی تحریک ازبکستان اور دیگر گروہوں کے ساتھ تعاون کرنے میں زیادہ دشواری پیش نہیں آئے گی۔

روسی وزارت خارجہ کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں بیس ہزار سے تئیس ہزار تک دہشت گرد موجود ہو سکتے ہیں۔ ان میں داعش خراسان کے تقریباً تین ہزار، تحریک طالبان پاکستان کے پانچ ہزار سے سات ہزار، القاعدہ کے پندرہ سو سے زائد، ترکستان اسلامی پارٹی کے بارہ سو تک، اسلامی تحریک ازبکستان کے پانچ سو اور جماعت انصاراللہ کے تقریباً دو سو پچاس عناصر شامل بتائے جاتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق مشکل ضرور ہے، لیکن مختلف بین الاقوامی جائزوں میں افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی سے مسلسل خبردار کیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد غیر ملکی بتائی جاتی ہے، جو افغانستان کے ایک مقامی سکیورٹی مسئلے سے بڑھ کر عالمی دہشت گردی کے مرکز میں تبدیل ہونے کی علامت ہے۔

مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ شام سے افغانستان کی جانب دہشت گردوں کی منتقلی کا عمل ممکنہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔ بعض جائزوں کے مطابق ازبک، تاجک، ترکمان، اویغور اور شمالی قفقاز سے تعلق رکھنے والے ہزاروں جنگجو پہلے ہی افغانستان منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ منتقلی اچانک یا غیر منظم نہیں، بلکہ پرانے دہشت گرد روابط، القاعدہ سے منسلک سہولت کاروں، غیر رسمی مالیاتی نظام، جعلی دستاویزات اور سرحد پار اسمگلنگ کے راستوں کے ذریعے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ شام میں جنگی تجربہ حاصل کرنے والے افراد صرف عام جنگجو نہیں، بلکہ ان میں عسکری کمانڈر، دھماکا خیز مواد کے ماہر، تربیت کار، میڈیا ماہرین اور بھرتی کے ذمہ دار عناصر بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کا افغانستان پہنچنا وہاں موجود گروہوں کی استعداد میں کئی گنا اضافہ کر سکتا ہے۔

شام میں بعض غیر ملکی جنگجوؤں کو ریاستی عسکری ڈھانچے میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جن میں بڑی تعداد میں اویغور اور وسطی ایشیائی جنگجو شامل ہیں۔ تاہم ہر گروہ یا فرد اس انضمام کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جو عناصر ریاستی نگرانی، قومی سرحدوں اور مرکزی نظم و ضبط کو مسترد کرتے ہیں، وہ ایسے خطے کی طرف جانا چاہیں گے جہاں وہ اپنی بین الاقوامی جہادی سوچ کے مطابق کام جاری رکھ سکیں۔ افغانستان میں موجود داعش خراسان اور القاعدہ ایسے عناصر کو نظریاتی جواز، تنظیمی تحفظ اور عملی میدان فراہم کر سکتے ہیں۔

داعش خراسان شام کی بدلتی ہوئی صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ اس کا پروپیگنڈا غیر مطمئن غیر ملکی جنگجوؤں کو شام چھوڑ کر افغانستان منتقل ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہ تنظیم خود کو سرحدوں سے آزاد خلافت کی واحد حقیقی نمائندہ قرار دیتی ہے اور قومی حکومتوں یا مقامی سیاسی سمجھوتوں کو نظریاتی انحراف کے طور پر پیش کرتی ہے۔ شام میں گرفتاری، محدود سرگرمیوں، تنخواہوں کی بندش یا تنظیمی تحلیل سے پریشان جنگجو داعش خراسان کے اس بیانیے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے جنگجوؤں کی شمولیت سے داعش خراسان کی بھرتی، تربیت، خودکش حملوں، آن لائن پروپیگنڈے اور بیرون ملک کارروائیوں کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

طالبان حکومت کے انسداد دہشت گردی کے دعوے بھی زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے یقین دہانی کرائی تھی کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس کے باوجود القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کا کابل میں طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں موجود ہونا اور وہاں مارا جانا اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ طالبان اور القاعدہ کے روابط ختم نہیں ہوئے۔ اسی طرح دوحہ عمل کے دوران رہا کیے گئے ہزاروں طالبان قیدیوں میں سے متعدد افراد دوبارہ جنگ میں شامل ہوئے، جس سے طالبان کی تحریری ضمانتوں کی ساکھ متاثر ہوئی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگرانی کرنے والی ٹیموں نے بھی بارہا نشاندہی کی ہے کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہوں کو نقل و حرکت، تنظیم سازی اور تربیت کے لیے نسبتاً سازگار ماحول حاصل ہے۔ اگر طالبان حکومت واقعی عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے محض بیانات سے آگے بڑھ کر دہشت گرد پناہ گاہوں کا خاتمہ، غیر ملکی جنگجوؤں کی گرفتاری، تربیتی مراکز کی بندش اور آزاد نگرانی کی اجازت دینا ہوگی۔ اس کے بغیر طالبان کی یقین دہانیاں قابلِ اعتبار نہیں بن سکتیں۔

شام سے آنے والے تجربہ کار دہشت گردوں کا سب سے فوری خطرہ پاکستان کو لاحق ہوگا، کیونکہ تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروہ پہلے ہی افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ تاہم یہ خطرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہے گا۔ وسطی ایشیائی ریاستیں، روس، چین، ایران اور مغربی ممالک بھی ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔ مختلف قومیتوں اور تنظیموں سے تعلق رکھنے والے جنگجو افغانستان میں اکٹھے ہو کر بین الاقوامی حملوں، مالی معاونت، آن لائن بھرتی اور سرحد پار دہشت گردی کا وسیع نیٹ ورک تشکیل دے سکتے ہیں۔

عالمی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک خطے میں دہشت گرد گروہوں پر دباؤ ڈالنا اس وقت تک مکمل کامیابی نہیں جب تک ان کی دوسرے خطوں میں منتقلی روکی نہ جائے۔ شام سے دہشت گردوں کا انخلا اگر افغانستان میں ان کی دوبارہ تنظیم سازی پر منتج ہوتا ہے تو یہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ خطرے کی جغرافیائی منتقلی ہوگی۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے علاقائی انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نگرانی، مالیاتی راستوں کی بندش، مشتبہ افراد کی شناخت اور طالبان حکومت پر مسلسل سفارتی دباؤ ضروری ہے۔

افغانستان کا عالمی دہشت گردی کے مرکز میں تبدیل ہونا اب محض ایک خدشہ نہیں رہا، بلکہ ایک تیزی سے ابھرتی ہوئی حقیقت ہے۔ شام سے تربیت یافتہ جنگجوؤں کی آمد اس خطرے کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ اگر عالمی اور علاقائی طاقتوں نے بروقت مشترکہ اقدامات نہ کیے تو افغانستان میں قائم دہشت گرد ڈھانچہ مستقبل میں ایسے حملوں کی منصوبہ بندی کا مرکز بن سکتا ہے جن کے اثرات پورے خطے اور دنیا کو بھگتنا پڑیں گے۔

Author

  • ڈاکٹر مزمل خان

    مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔