Nigah

طالبان کا نرم چہرہ یا سخت نظریاتی بیانیہ؟

[post-views]

افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو محض سرحدی جھڑپوں، دہشت گردی، فضائی کارروائیوں یا سفارتی بیانات کے تناظر میں سمجھنا کافی نہیں۔ اس کشمکش کا ایک اہم محاذ اطلاعات، بیانیے اور بین الاقوامی رائے عامہ کی تشکیل ہے۔ افغانستان میں طالبان انتظامیہ نے گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ ثابت کیا ہے کہ وہ صرف عسکری یا انتظامی سطح پر ہی نہیں بلکہ ابلاغی میدان میں بھی اپنی حکمتِ عملی کو منظم کر رہی ہے۔ المِرصاد اسی ابھرتے ہوئے تزویراتی ابلاغی نظام کا نمایاں حصہ ہے، جو بظاہر ایک ذرائع ابلاغ کا ادارہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کا مواد، موضوعات کا انتخاب، مخصوص اصطلاحات اور دانستہ خاموشیاں اسے طالبان حکومت کے وسیع تر سیاسی اور نظریاتی مقاصد سے جوڑتی ہیں۔

مئی 2026 میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی تحقیق میں المِرصاد کے جنوری 2025 سے مارچ 2026 تک کے 137 انگریزی مضامین کا جائزہ لیا گیا۔ اس تجزیے سے ظاہر ہوا کہ یہ ادارہ تین بنیادی اہداف کے لیے منظم انداز میں کام کر رہا ہے۔ پہلا مقصد داعش خراسان کو مذہبی، سیاسی اور عسکری اعتبار سے غیر معتبر ثابت کرنا ہے۔ دوسرا مقصد پاکستان کو افغانستان کا سب سے بڑا بیرونی مخالف بنا کر پیش کرنا ہے۔ تیسرا مقصد طالبان حکومت کو ایک خودمختار، سفارتی طور پر فعال اور اسلامی اصولوں پر قائم ریاست کے طور پر عالمی سطح پر قابلِ قبول بنانا ہے۔ یہ تینوں مقاصد ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک مربوط بیانیاتی منصوبے کے اجزا ہیں۔

المِرصاد کی سب سے نمایاں مہم داعش خراسان کے خلاف ہے۔ اس تنظیم کے لیے مسلسل ’’خوارج‘‘، ’’فتنہ‘‘ اور ’’داعش‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ ’’خوارج‘‘ کی اصطلاح محض تنقیدی نام نہیں بلکہ ایک مذہبی فیصلہ ہے، جس کا مقصد کسی گروہ کو اسلامی دائرۂ جواز سے خارج کرنا ہوتا ہے۔ اس زبان کے ذریعے داعش خراسان کو صرف ایک سکیورٹی خطرہ نہیں بلکہ مذہبی انحراف اور فساد کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں طالبان خود کو افغانستان میں حقیقی اسلامی نظم، مذہبی استحکام اور دہشت گردی کے خلاف واحد مؤثر قوت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

یہاں ایک دلچسپ مماثلت پاکستان کے سرکاری بیانیے سے بھی سامنے آتی ہے، جہاں تحریک طالبان پاکستان اور اس سے وابستہ عناصر کے لیے ’’فتنہ الخوارج‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اس مماثلت سے واضح ہوتا ہے کہ مذہبی اصطلاحات اب محض فقہی بحث تک محدود نہیں رہیں بلکہ ریاستی اور نیم ریاستی ابلاغ میں عملی سیاسی ہتھیار بن چکی ہیں۔ جس گروہ کو خوارج قرار دے دیا جائے، اس کے خلاف کارروائی کو مذہبی، اخلاقی اور سیاسی جواز فراہم کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی اصطلاح مختلف فریق اپنے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جس سے مذہبی زبان علاقائی طاقت کی کشمکش میں شامل ہو جاتی ہے۔

المِرصاد کی دوسری حکمتِ عملی داعش خراسان کو بیرونی طاقتوں کا منصوبہ قرار دینا ہے۔ اس بیانیے میں داعش خراسان کو مغربی یا دیگر بین الاقوامی خفیہ اداروں کی پیداوار بتایا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کے اداروں کو اس منصوبے کا علاقائی سہولت کار ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس الزام کا بنیادی مقصد طالبان حکومت کی داخلی سکیورٹی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور داعش خراسان کی موجودگی کو بیرونی سازش کے طور پر پیش کرنا ہے۔ ساتھ ہی یہ بیانیہ پاکستان کے ممکنہ انسدادِ دہشت گردی اقدامات کو بھی پیشگی طور پر مشکوک بناتا ہے۔

یہ بات خاص اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستان کی مبینہ کارروائیوں سے پہلے ہی المِرصاد کے پلیٹ فارم پر ایسے بیانیے موجود تھے جن میں اسلام آباد پر افغانستان کو غیر مستحکم کرنے، داعش خراسان کی سرپرستی کرنے اور دہشت گردی کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کے الزامات عائد کیے جا رہے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ابلاغ محض واقعات کے ردعمل میں تیار نہیں ہوا بلکہ ممکنہ بحران سے پہلے ہی فکری اور نفسیاتی ماحول بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہی منظم ابلاغی تیاری کسی بھی تزویراتی مہم کی بنیادی علامت ہوتی ہے۔

المِرصاد پاکستان کو بیک وقت تین مختلف کرداروں میں پیش کرتا ہے۔ ایک طرف اسے داعش خراسان کا سرپرست کہا جاتا ہے، دوسری طرف اسے اپنی داخلی ناکامیوں کا بوجھ افغانستان پر ڈالنے والی ریاست بتایا جاتا ہے، جبکہ تیسری طرف اسے ایک کمزور، معاشی مشکلات میں گھری اور سیاسی طور پر غیر مستحکم طاقت کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ یہ متضاد دکھائی دینے والے کردار دراصل مختلف سامعین کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ مذہبی حلقوں کے سامنے پاکستان کو مغربی مفادات کا آلہ قرار دیا جاتا ہے، علاقائی ریاستوں کے سامنے اسے غیر ذمہ دار ہمسایہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور بین الاقوامی حلقوں کے سامنے اسے داخلی بحرانوں میں گھری ہوئی ریاست دکھایا جاتا ہے۔

جب بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان عسکری کشیدگی بڑھتی ہے، المِرصاد فوری طور پر خودمختاری، شہری ہلاکتوں، خواتین، بچوں اور مہاجرین کے نقصان کو مرکزی موضوع بنا دیتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے ذریعے طالبان حکومت اپنے آپ کو جارحیت کا شکار اور پاکستان کو بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والی ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے۔ شہری نقصان یقیناً ایک سنجیدہ انسانی اور قانونی مسئلہ ہے، لیکن جب اسی ابلاغی نظام میں سرحد پار دہشت گردی، عسکری پناہ گاہوں اور تحریک طالبان پاکستان کی موجودگی کو تقریباً نظرانداز کر دیا جائے تو یہ انسانی ہمدردی نہیں بلکہ انتخابی بیانیہ بن جاتا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں المِرصاد کی خاموشی اس ابلاغی منصوبے کی سب سے معنی خیز خصوصیت ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں مرکزی حیثیت رکھنے کے باوجود یہ موضوع شاذونادر ہی سامنے آتا ہے۔ جب مکمل خاموشی ممکن نہ رہے تو اسے پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیا جاتا ہے، اس کے جنگجوؤں کو سیاسی یا عسکری مزاحمتی عناصر کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے، یا افغانستان میں مارے جانے والے افراد کو وزیرستان سے آئے ہوئے مہاجرین کہا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ خاموشی بھی ابلاغ کا ایک طاقتور ہتھیار ہے۔ جس حقیقت کو مسلسل بیان سے خارج کر دیا جائے، وہ عالمی مباحثے میں آہستہ آہستہ ثانوی حیثیت اختیار کر سکتی ہے۔

المِرصاد کا تیسرا بڑا مقصد طالبان حکومت کے لیے بین الاقوامی قبولیت پیدا کرنا ہے۔ روس، چین، بھارت اور دیگر ممالک کے ساتھ روابط کو اس طرح نمایاں کیا جاتا ہے جیسے عالمی برادری طالبان حکومت کو مکمل طور پر تسلیم کرنے کے قریب پہنچ چکی ہو۔ تاہم خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیاں، غیر شمولیتی طرزِ حکومت، بین الاقوامی عدالتی کارروائیاں، القاعدہ سے تعلقات کے خدشات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کم ہی زیرِ بحث آتی ہیں۔ یوں جزوی سفارتی روابط کو مکمل سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ رسمی قبولیت کی راہ میں موجود بنیادی رکاوٹوں کو دانستہ نظرانداز کیا جاتا ہے۔

طالبان کا بنیادی نظریاتی ڈھانچہ بدستور جمہوریت کی مخالفت، جہاد کی تقدیس، امارت کے تصور اور امت پر مبنی سیاسی سوچ سے وابستہ ہے۔ المِرصاد قرآنی حوالوں، ابتدائی اسلامی ادوار، ملا عمر کی مذہبی حیثیت اور مزاحمتی تاریخ کا استعمال کرکے اس نظریاتی تسلسل کو برقرار رکھتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب یہی نظریہ زیادہ محتاط، سفارتی اور بین الاقوامی زبان میں پیش کیا جاتا ہے۔ موجودہ طالبان اپنے نظریات تبدیل کیے بغیر ان کی پیشکش بدلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

پاکستان کے لیے اس صورتِ حال کا جواب محض رسمی مذمتی بیانات یا وقتی پریس کانفرنسیں نہیں ہو سکتیں۔ پاکستان کو عسکری، سفارتی، قانونی، ابلاغی اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان ایک مربوط تزویراتی ابلاغی نظام قائم کرنا ہوگا۔ سرحد پار دہشت گردی اور عسکری پناہ گاہوں سے متعلق ہر دعویٰ دستاویزی شواہد، بین الاقوامی قانون، قابلِ تصدیق معلومات اور معتبر ذرائع کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔ ردعمل ہمیشہ واقعے کے بعد نہیں بلکہ بحران سے پہلے تیار ہونا چاہیے۔

پاکستان کو کثیراللسانی ڈیجیٹل نگرانی، فوری تردیدی نظام، غیر ملکی ذرائع ابلاغ سے مستقل رابطے، سفارتی بریفنگز اور تحقیقی اداروں کے ذریعے طویل مدتی بیانیاتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ المِرصاد کو صرف ایک ویب سائٹ سمجھنا خطرناک ہوگا۔ یہ طالبان کے اس نئے طرزِ حکمرانی کی علامت ہے جس میں سفارت کاری، عسکری دباؤ، مذہبی جواز اور معلوماتی جنگ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ آنے والے علاقائی بحرانوں میں کامیابی صرف اس فریق کو نہیں ملے گی جو میدانِ جنگ میں طاقتور ہوگا بلکہ اسے بھی ملے گی جو عالمی سامعین کے سامنے پہلے اور زیادہ مؤثر انداز میں یہ طے کر دے گا کہ جارح کون ہے، مظلوم کون ہے، دہشت گردی کیا ہے اور قانونی خودمختاری کس کے ساتھ کھڑی ہے۔

Author

  • ڈاکٹر اکرام احمد

    اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔