Nigah

امارتِ اسلامیہ یا سامری کا بچھڑا؟

[post-views]

کسی حکومت کے نام کے ساتھ ’’اسلامی‘‘ کا لاحقہ لگا دینا اسے اسلامی نہیں بناتا۔ اسلامی حکومت کا اصل امتحان نعروں، لباس اور مذہبی اصطلاحات سے نہیں بلکہ عدل، امانت، وفائے عہد، حرمتِ خون اور ہمسایوں کے حقوق سے ہوتا ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت خود کو ’’امارتِ اسلامیہ‘‘ کہتی ہے، مگر پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کے بارے میں اس کا طرزِ عمل یہ سوال اٹھاتا ہے کہ آیا یہ واقعی اسلامی اصولوں کی پابند ریاست ہے یا مذہبی تقدس کا پردہ اوڑھے ایسا سیاسی ڈھانچہ جس کی حقیقت اس کے دعووں سے مختلف ہے۔

پاکستان کا اعتراض افغان عوام یا افغانستان کی خودمختاری سے نہیں بلکہ افغان سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مسلح گروہوں کی موجودگی سے ہے۔ اقوام متحدہ کے تازہ جائزوں میں طالبان حکام کے اس دعوے کو ناقابلِ اعتبار قرار دیا گیا کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہ موجود نہیں یا وہاں سے بیرونی حملوں کی تیاری نہیں ہوتی۔ دسمبر 2025 میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے ٹی ٹی پی کے تقریباً چھ ہزار جنگجوؤں کو افغان سرزمین پر موجود سب سے بڑا اقوام متحدہ نامزد دہشت گرد گروہ قرار دیا۔ یہ محض سفارتی الزام نہیں بلکہ علاقائی سلامتی کا سنگین مسئلہ ہے۔

اگر ٹی ٹی پی کی قیادت، جنگجو اور سہولت کار افغانستان میں موجود ہیں تو کابل نے ان کے خلاف قابلِ پیمائش کارروائی کیوں نہیں کی؟ پاکستان بارہا مطالبہ کر چکا ہے کہ افغان سرزمین سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔ اس کے باوجود حملوں، دراندازی اور پاکستانی شہریوں و اہلکاروں کے قتل کا سلسلہ جاری ہے۔ کسی اسلامی ہمسایہ ریاست کے باغیوں کو پناہ دینا، انہیں نقل و حرکت کی آزادی دینا یا ان کے خلاف دانستہ خاموشی اختیار کرنا نہ اخوت ہے، نہ غیر جانب داری اور نہ ہی شریعت کی رو سے قابلِ دفاع طرزِ حکومت۔

قرآن مجید عہد پورا کرنے، عدل قائم رکھنے اور ناحق جان لینے سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ اگر کوئی حکومت ایک طرف اسلامی قانون کی نمائندگی کا دعویٰ کرے اور دوسری طرف ایسے عناصر کو برداشت کرے جو ایک پڑوسی مسلمان ملک میں خودکش حملے کرتے اور مساجد، بازاروں، اسکولوں، پولیس اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں، تو اس کے قول و فعل کا تضاد نمایاں ہو جاتا ہے۔ طالبان قیادت کو دوٹوک کہنا چاہیے تھا کہ پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت جہاد نہیں، فساد ہے؛ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی؛ اور ٹی ٹی پی کو غیر مسلح ہونا ہوگا۔ مبہم بیانات، مسلسل انکار اور پاکستان ہی کو موردِ الزام ٹھہرانا شکوک کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

طالبان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے غیر مصدقہ دعووں سے گریز بھی ضروری ہے۔ افغانستان پہنچنے والی چالیس ملین ڈالر کی نقد رقوم کو براہِ راست طالبان حکومت کی ’’ہفتہ وار تنخواہ‘‘ کہنا درست نہیں۔ یہ رقوم اقوام متحدہ کے زیرِ انتظام انسانی امدادی نظام کے لیے پہنچتی رہی ہیں، اگرچہ نگران اداروں نے خدشات ظاہر کیے کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول مالیاتی نظام، ٹیکسوں، فیسوں اور مقامی دباؤ کے ذریعے اس امداد سے بالواسطہ فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ بھارت نے بھی 2026–27 کے بجٹ میں افغانستان کے لیے 150 کروڑ بھارتی روپے مختص کیے، مگر اسے دہشت گرد کارروائیوں کی براہِ راست قیمت قرار دینے کے لیے فیصلہ کن ثبوت درکار ہیں۔ پاکستان کا مقدمہ اتنا مضبوط ہے کہ اسے مبالغے یا غیر ثابت شدہ سازشی دعووں کی ضرورت نہیں۔

طالبان جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکا کے ساتھ پاکستانی تعاون کو اپنے موجودہ رویے کا جواز بناتے ہیں، مگر کسی سابق حکومت کی غلطی نئی حکومت کو موجودہ نسلوں کو دہشت گردی کی سزا دینے کا حق نہیں دیتی۔ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی، سرحدی عدم استحکام، معاشی نقصان اور ہزاروں جانوں کی قربانی کی صورت میں بھاری قیمت ادا کی۔ تاریخی شکایت کا جواب مستقل دشمنی نہیں بلکہ باہمی احتساب، واضح معاہدات اور مستقبل پر مبنی تعلقات ہونا چاہیے۔ لاکھوں افغان شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ممالک سے سفارتی تعلقات قائم کرنا مگر پاکستان کے خلاف مسلح گروہوں کو برداشت کرنا طالبان پالیسی کے واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔

مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ طالبان حلقوں میں پاکستان کے آئینی نظام کو ’’کفریہ‘‘ قرار دینے اور پاکستانی علما پر حق بات چھپانے کے الزامات لگانے جیسی زبان سنائی دیتی ہے۔ یہ خطرناک تکفیری راستہ ہے۔ ایک ریاست کو دوسرے مسلم معاشرے کے آئین اور سیاسی نظام سے اختلاف ہوسکتا ہے، مگر اس اختلاف کی بنیاد پر خونریزی، دراندازی یا مسلح بغاوت کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ جو حکومت اپنے مخالفین کے لیے شریعت کی سخت ترین تعبیر استعمال کرے مگر اپنے مفادات کے لیے غیر مسلم طاقتوں سے سفارتی، مالی اور تجارتی تعلقات کو جائز سمجھے، اسے اپنے دوہرے معیار کا جواب دینا ہوگا۔

افغان عوام اور طالبان حکومت میں فرق کرنا ضروری ہے۔ افغان عوام دہائیوں کی جنگ، غربت، نقل مکانی اور ناکام سیاسی تجربات کے سب سے بڑے متاثرین ہیں۔ پاکستان کی تنقید کا ہدف عام افغان شہری نہیں بلکہ وہ اقتدار ہے جو مذہبی نام کو سیاسی حصار کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ طالبان حقیقی اسلامی مشروعیت چاہتے ہیں تو انہیں ٹی ٹی پی کے مراکز ختم کرنا، اس کی مطلوب قیادت کے خلاف کارروائی کرنا، سرحد پار حملے روکنا، اپنے معاہدات کی پابندی کرنا اور ریاستی فیصلوں میں جواب دہی پیدا کرنا ہوگی۔

سامری کے بچھڑے کی تمثیل اسی لیے معنی خیز ہے کہ وہاں ایک مصنوعی شے کو تقدس کی آواز دے کر حقیقت بنا کر پیش کیا گیا تھا۔ طالبان حکومت کے سامنے بھی یہی امتحان ہے: کیا وہ ’’امارتِ اسلامیہ‘‘ کے نام کو عدل، امن اور وفائے عہد سے سچ ثابت کرے گی، یا یہ نام محض ایک سیاسی آواز ثابت ہوگا جس کے پیچھے طاقت، مصلحت اور پراکسی جنگوں کا ڈھانچہ چھپا ہوا ہے؟ اسلام کا نام کوئی سیاسی ڈھال نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ جب تک افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی جاری رہتی ہے اور کابل عملی کارروائی سے گریز کرتا ہے، اس حکومت کا اسلامی دعویٰ سوالات کے گھیرے میں رہے گا۔

Author

  • انیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل:
    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔