بھارت میں براہموس میزائل کو محض ایک دفاعی ہتھیار نہیں بلکہ قومی طاقت، تکنیکی برتری اور علاقائی بالادستی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بھارتی عسکری و سیاسی حلقے اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ براہموس کی رفتار، درستگی اور تباہ کن صلاحیت اسے جنوبی ایشیا میں فیصلہ کن برتری فراہم کرتی ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارتی فوج کے ایک سابق اعلیٰ افسر، ریٹائرڈ جنرل جے جے سنگھ، نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ براہموس میزائل پاکستان کے وزیراعظم کے دفتر کی کھڑکی تک کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس نوعیت کے بیانات بظاہر عسکری اعتماد کا اظہار ہیں، لیکن حقیقت میں یہ غیر ذمہ دارانہ جنگی بیان بازی، تکنیکی مبالغہ آرائی اور خطے کے حساس تزویراتی ماحول سے خطرناک حد تک لاعلمی کی عکاسی کرتے ہیں۔
کسی بھی جدید میزائل نظام کی حقیقی صلاحیت کا اندازہ محض اس کی تشہیری ویڈیوز، پریڈوں یا سابق جرنیلوں کے بلند بانگ دعوؤں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ اس کے لیے مسلسل کامیاب تجربات، محفوظ کمانڈ اینڈ کنٹرول، قابل اعتماد ہدف شناسی، درست نیویگیشن، مؤثر دیکھ بھال اور جنگی حالات میں ثابت شدہ کارکردگی ضروری ہوتی ہے۔ براہموس کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کامیاب تجربات کے ساتھ ساتھ کئی تکنیکی، عملی اور انتظامی کمزوریاں بھی سامنے آتی ہیں۔ یہ کمزوریاں اس تاثر کو چیلنج کرتی ہیں کہ براہموس ایک ایسا بے خطا ہتھیار ہے جو کسی بھی ہدف کو بلاخطر اور مکمل درستگی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔
سنہ ۲۰۰۹ میں پوکھران کے مقام پر براہموس بلاک دوم کے ایک تجربے میں اس کے ہدف شناخت کرنے والے نظام سے متعلق خرابی سامنے آئی۔ میزائل کے متلاشی نظام کو ہدف اور اردگرد موجود اشیا میں امتیاز کرنے میں دشواری ہوئی، جس سے یہ واضح ہوا کہ جدید ہدف شناسی کے دعوے عملی ماحول میں ہمیشہ قابل اعتماد نہیں ہوتے۔ بعدازاں سنہ ۲۰۱۵ کے دوران بھی بعض ذیلی نظاموں اور تجرباتی مراحل میں تکنیکی مسائل کی اطلاعات سامنے آئیں۔ جولائی ۲۰۲۱ میں براہموس کے ایک توسیع شدہ فاصلے کے تجربے کی ناکامی نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا کہ آیا بھارت اس نظام کے ہر حصے، خصوصاً اس کی رہنمائی، رفتار اور پروازی استحکام، پر مکمل مہارت حاصل کر چکا ہے۔
براہموس کے حوالے سے سب سے سنگین واقعہ مارچ ۲۰۲۲ میں پیش آیا، جب ایک بھارتی میزائل غلطی سے پاکستان کے علاقے میاں چنوں میں آ گرا۔ خوش قسمتی سے اس واقعے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اس نے بھارت کے کمانڈ اینڈ کنٹرول، حفاظتی طریقۂ کار اور میزائل نگرانی کے نظام پر بنیادی سوالات اٹھا دیے۔ جو ریاست اپنے ایک جدید ترین میزائل کے حادثاتی فائر کو روکنے میں ناکام رہے، اس کے سابق جرنیل جب کسی دوسرے ملک کی سیاسی قیادت کو انتہائی درست حملے کی دھمکی دیتے ہیں تو یہ اعتماد سے زیادہ خطرناک خود فریبی محسوس ہوتی ہے۔ میزائل کا حادثاتی طور پر سرحد عبور کرنا معمولی تکنیکی خرابی نہیں بلکہ ممکنہ جنگ کا محرک بن سکتا تھا۔
جنوبی ایشیا کا تزویراتی ماحول روایتی خطوں سے مختلف ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری صلاحیت رکھتے ہیں، دونوں کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہے اور کسی بھی غیر واضح میزائل پرواز کو دشمن حملہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں چند منٹوں کے اندر جوابی کارروائی کا فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ مارچ ۲۰۲۲ جیسے واقعے کی تکرار، خاص طور پر کسی بحران یا فوجی کشیدگی کے دوران، غلط فہمی، فوری ردعمل اور وسیع جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی لیے سابق فوجی افسران کی جانب سے وزیراعظم کے دفتر یا کسی سیاسی مرکز کو نشانہ بنانے کے دعوے محض غیر سنجیدہ گفتگو نہیں بلکہ علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔
براہموس کی ایک اور بنیادی حقیقت یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر مقامی بھارتی ٹیکنالوجی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ روس اور بھارت کا مشترکہ منصوبہ ہے، جس میں اہم پروازی، انجن، رہنمائی اور میزائل ڈیزائن کی صلاحیتیں روسی تکنیکی تعاون سے وابستہ رہی ہیں۔ دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی عموماً مکمل نہیں ہوتی۔ فراہم کنندہ ریاست حساس ماخذ کوڈ، بنیادی ڈیزائن، اہم پیٹنٹس اور بعض کلیدی پیداواری تکنیک اپنے پاس رکھتی ہے۔ بھارت کو اکثر مکمل ٹیکنالوجی کے بجائے لائسنس یافتہ پیداوار، جزوی انضمام، دیکھ بھال اور مخصوص اپ گریڈ تک رسائی ملتی ہے۔ یہی صورت حال روسی ساختہ جنگی طیاروں، فضائی دفاعی نظاموں اور دیگر پلیٹ فارمز میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
بھارت کا دفاعی ڈھانچہ بیک وقت روسی، مغربی، اسرائیلی اور مقامی نظاموں پر مشتمل ہے۔ یہ تنوع بظاہر طاقت معلوم ہوتا ہے، لیکن عملی طور پر اس سے باہمی مطابقت، مرمت، فاضل پرزوں، سافٹ ویئر، راڈار رابطے اور کمانڈ نیٹ ورک کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایس فور ہنڈرڈ فضائی دفاعی نظام، سخوئی تیس ایم کے آئی طیارے، براہموس میزائل، فرانسیسی رافیل اور اسرائیلی نظام ایک دوسرے کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ کرنا انتہائی پیچیدہ کام ہے۔ روسی ٹیکنالوجی پر انحصار، یوکرین جنگ کے بعد روسی دفاعی صنعت پر دباؤ اور عالمی پابندیاں بھارت کی طویل مدتی دفاعی تیاری پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
اصل مسئلہ براہموس کی رفتار یا تباہی کی صلاحیت نہیں بلکہ اسے سیاسی تفاخر اور نفسیاتی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ کوئی بھی تیز رفتار میزائل ناقابل شکست نہیں ہوتا۔ جدید فضائی دفاع، الیکٹرانک جنگ، دھوکا دہی، منتشر تنصیبات، زیرزمین مراکز اور جوابی حملے کی صلاحیت اس کی افادیت کو محدود کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک میزائل کسی ملک کی مکمل جنگی صلاحیت کا متبادل نہیں بن سکتا۔ جنگ میں انٹیلی جنس، ہدف کی درست معلومات، مواصلاتی تحفظ، پائلٹوں کی تربیت، رسد، بحالی کی صلاحیت اور سیاسی برداشت بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔
بھارت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عسکری طاقت کا ذمہ دارانہ استعمال خاموش پیشہ ورانہ تیاری کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ ٹیلی ویژن پر اشتعال انگیز دعوؤں کا۔ براہموس ایک خطرناک اور اہم ہتھیار ضرور ہے، لیکن اسے بے خطا، ناقابل روک اور فیصلہ کن سمجھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔ اس کے تجرباتی نقائص، حادثاتی فائرنگ، غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار اور پیچیدہ کمانڈ نظام اس کی حدود کو نمایاں کرتے ہیں۔ سابق جرنیلوں کی جنگجویانہ زبان بھارت کی طاقت نہیں بڑھاتی، بلکہ اس کے تزویراتی فیصلوں کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتی ہے۔ جنوبی ایشیا میں حقیقی تحفظ دھمکیوں، مبالغہ آرائی اور میزائل پرستی سے نہیں، بلکہ مضبوط حفاظتی نظام، قابل اعتماد رابطے، بحران کے انتظام اور ذمہ دار عسکری رویے سے حاصل ہو سکتا ہے۔
Author
-
View all posts
مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔