Nigah

یہ سیاسی بلیک میلنگ اب نہیں چلے گی

 

شہداء کا تقدس اور قومی بیانیہ: ایک تجزیاتی جائزہ

پاکستان کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں مولانا فضل الرحمٰن کے حالیہ بیانات پر ہونے والی شدید تنقید، دراصل اس گہرے جذباتی اور نظریاتی خلا کی عکاس ہے جو عوام اور ان کے نمائندوں کے درمیان پیدا ہو چکا ہے۔ 11 جولائی 2026 کو دیئے گئے ایک بیان میں، جس میں انہوں نے سیکیورٹی فورسز کے شہداء کی قربانیوں اور ان کی تنخواہوں کو جوڑنے کی کوشش کی، نے ملک بھر میں ایک عوامی ردعمل کو جنم دیا ہے۔

شہداء کی قربانی بمقابلہ مادی معاوضہ

جدید سیاسی اور اخلاقی فلسفے میں، کسی بھی ریاست کے محافظوں کی قربانی کو ملازمت کی شرائط یا تنخواہ کے ترازو میں تولنا ایک سنگین غلطی تصور کیا جاتا ہے۔ دنیا کی کسی بھی فوج میں، سپاہی کا حلف اپنی جان کی قیمت لینے کے لیے نہیں، بلکہ ریاست، آئین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی سپاہی اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے، تو وہ کسی مالی مفاد کے لیے نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ تر مقصد قومی غیرت اور تحفظ کے لیے ہوتا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا بیان اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جسے اسلامی تعلیمات میں انتہائی بلند مقام حاصل ہے، کسی بھی دنیوی معاوضے سے ماورا ہے۔ یہ تنقید درست معلوم ہوتی ہے کہ اگر شہادت کو محض ایک نوکری سمجھ لیا جائے، تو پھر اس ملک میں دفاع وطن کے جذبے اور قومی یکجہتی کی بنیاد ہی کمزور پڑ جاتی ہے۔

سیاسی منافقت اور عوامی ردعمل

مولانا فضل الرحمٰن کا شمار پاکستان کی ان چند شخصیات میں ہوتا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ایوان اقتدار کا حصہ رہی ہیں۔ ان کے ناقدین، جیسا کہ آپ نے اپنے خط میں نشاندہی کی، یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ سیاست کے نام پر مراعات، قومی خزانے سے بلوں کی ادائیگی اور خاندانی سیاست کو فروغ دینے والے رہنماؤں کا یہ اخلاقی حق نہیں بنتا کہ وہ ان لوگوں پر تنقید کریں جو اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں۔

عوام کا غصہ اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ:

  • سیاسی دوہرا معیار: ایک طرف دین کی بالادستی کا نعرہ ہے اور دوسری طرف عملی سیاست میں اقتدار کی بقا کے لیے ہر قسم کے اتحاد کا سہارا لینا، عوام کو مایوس کرتا ہے۔
  • احتساب کا مطالبہ: جب مذہبی رہنماؤں کا اپنا طرزِ زندگی اور ان کے خاندان کے مالی اثاثے عوام کی نگاہ میں مشکوک ہو جائیں، تو ان کی جانب سے دی گئی اسلامی تشریحات پر سوال اٹھنا ایک فطری عمل ہے۔

نتیجہ اور راستہ

یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اپنے بیانات اور طرزِ عمل میں محتاط رہے۔

شہداء اور غازیوں کی قربانیاں کسی بھی جماعت کے سیاسی مفادات سے بہت اوپر ہیں۔ پاکستان کے عوام، جو دہشت گردی اور معاشی بحرانوں سے نبردآزما ہیں، اب پہلے سے زیادہ باشعور ہو چکے ہیں۔

وہ جانتے ہیں کہ ملک کا دفاع خون سے ہوتا ہے، نہ کہ سیاسی نعروں سے۔

آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ مذہبی تقدس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرنے کا رجحان معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتا ہے۔ کسی بھی رہنما کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے سیاسی اختلاف کی قیمت شہداء کی توہین کر کے ادا کرے۔ قوم کا مطالبہ ہے کہ قومی سلامتی کے اداروں اور شہداء کے تقدس کو ہر قسم کی سیاسی کشمکش سے بالا تر رکھا جائے۔

 

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • انیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل:
    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔