Nigah

مذہب کا سیاسی استحصال

[post-views]

پاکستان میں مدارس، مساجد اور دینی ادارے صرف مذہبی تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ معاشرتی تربیت، اخلاقی رہنمائی اور فلاحی خدمت کی ایک مضبوط روایت بھی رکھتے ہیں۔ لاکھوں طلبہ ان اداروں میں قرآن، حدیث، فقہ اور اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، جبکہ بے شمار مدارس محدود وسائل کے باوجود رہائش، خوراک اور تعلیم کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان اداروں کا تقدس اور غیر جماعتی کردار قومی اہمیت کا حامل ہے۔ مسئلہ مدرسے یا مذہبی سیاست کا وجود نہیں، بلکہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مذہبی ادارے کسی سیاسی جماعت، فرقہ وارانہ گروہ یا پرتشدد تنظیم کی طاقت بڑھانے، سیاسی مخالفین کے خلاف اشتعال پیدا کرنے یا نوجوانوں کو تصادم کی طرف دھکیلنے کے لیے استعمال ہونے لگیں۔ مذہب کو اقتدار کی کشمکش کا ہتھیار بنانا نہ صرف ریاستی نظم کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ خود اسلام کی اخلاقی روح کو بھی مجروح کرتا ہے۔

قرآن مجید مذہبی مقام کو تخریبی مقصد کے لیے استعمال کرنے کی ایک نہایت واضح مثال مسجد ضرار کے واقعے میں پیش کرتا ہے۔ سورۃ التوبہ کی آیات 107 سے 110 میں ایسے مقام کا ذکر ہے جسے بظاہر مسجد بنایا گیا مگر اس کے پس پردہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانا، ان میں تفرقہ پیدا کرنا اور مخالف قوتوں کے لیے سہولت پیدا کرنا مقصود تھا۔ نبی کریم ﷺ کو وہاں قیام سے منع کیا گیا۔ اس واقعے کا بنیادی سبق آج بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی عمارت کا مذہبی نام، کسی ادارے کی دینی شناخت یا کسی تحریک کا اسلامی نعرہ اس کے عمل کو خود بخود مقدس نہیں بنا دیتا۔ اصل معیار نیت، کردار اور اس کے سماجی نتائج ہیں۔ اگر مسجد، مدرسہ یا مذہبی پلیٹ فارم اتحاد کے بجائے تقسیم اور اصلاح کے بجائے فساد پیدا کرنے لگے تو اس طرز عمل کو دینی تقدس کی آڑ فراہم نہیں کی جا سکتی۔

اسلام نے دینی علم کو دنیاوی مفاد اور ذاتی شہرت کا ذریعہ بنانے کے خلاف بھی سخت تنبیہ کی ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث 1905 میں ایسے شخص کا ذکر آتا ہے جس نے علم اس لیے حاصل کیا کہ اسے عالم کہا جائے اور لوگوں میں اس کا مقام بنے۔ اس وعید کا دائرہ صرف ذاتی شہرت تک محدود سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ جب مذہبی علم کو سیاسی اثرورسوخ، انتخابی فائدے، جماعتی مفاد یا طاقت کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے تو اخلاص کا بنیادی اصول متاثر ہوتا ہے۔ عالم دین کا اصل سرمایہ اس کی علمی دیانت اور اخلاقی آزادی ہے۔ اگر مذہبی رہنما اپنی تشریح، فتویٰ یا منبر کو سیاسی سرپرستوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے لگے تو نقصان صرف ایک فرد یا جماعت کا نہیں رہتا، بلکہ عوام کا دینی اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔

قرآن مجید سورۃ التوبہ کی آیت 9 میں ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو اللہ کی آیات کے بدلے معمولی دنیاوی فائدہ حاصل کرتے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ ہمارے عہد میں اس اصول کی معنویت بہت وسیع ہے۔ مذہبی جذبات کو ووٹ، سیاسی دباؤ، سڑکوں کی طاقت، فرقہ وارانہ صف بندی یا عسکری بھرتی کے لیے استعمال کرنا دین کی خدمت نہیں بلکہ دین کو دنیاوی مقاصد کے تابع کرنا ہے۔ پاکستان جیسے متنوع معاشرے میں، جہاں مختلف مکاتب فکر اور مذہبی روایات موجود ہیں، اشتعال انگیز مذہبی سیاست سماجی فاصلوں کو تیزی سے دشمنی میں تبدیل کر سکتی ہے۔ ایک ذمہ دار دینی قیادت کا کام اختلاف کو منظم کرنا، برداشت پیدا کرنا اور لوگوں کو اخلاقی ضبط سکھانا ہے، نہ کہ ہر سیاسی اختلاف کو ایمان اور کفر کی جنگ میں تبدیل کر دینا۔

سورۃ البینہ کی آیت 5 دین میں اخلاص کو بنیادی شرط قرار دیتی ہے۔ یہی اصول مدارس کے ادارہ جاتی کردار پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ مدرسہ اگر قرآن و سنت کی تعلیم، اخلاقی تربیت، تحقیق اور معاشرتی اصلاح کا مرکز رہے تو وہ ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے قیمتی اثاثہ ہے۔ لیکن اگر کسی مدرسے کی شناخت کسی جماعت کی افرادی قوت، کسی فرقہ وارانہ تنازع کی تنظیم یا کسی مسلح سوچ کی فکری نرسری بن جائے تو تعلیمی مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ مدارس کی خودمختاری کا احترام ضروری ہے، لیکن خودمختاری کا مطلب جواب دہی سے آزادی نہیں ہونا چاہیے۔ مالی شفافیت، طلبہ کا ریکارڈ، نصاب کی بہتری، اساتذہ کی تربیت اور قانون کی پابندی ایسے اقدامات ہیں جو مدارس کو کمزور نہیں بلکہ ان کی ساکھ مضبوط کرتے ہیں۔

نبی کریم ﷺ سے منقول روایت کے مطابق علماء انبیاء کے وارث ہیں، جس کا حوالہ سنن ابی داؤد، حدیث 3641 میں ملتا ہے۔ یہ نسبت علماء کے مقام کو بلند کرتی ہے، مگر اسی کے ساتھ ان کی ذمہ داری بھی کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ نبوی وراثت کا مطلب کسی سیاسی گروہ کی غیر مشروط حمایت نہیں بلکہ حق گوئی، عدل، علم، حکمت اور اخلاقی استقلال ہے۔ ایک عالم کو ریاست کی غلطی پر تنقید کا حق بھی ہونا چاہیے اور کسی سیاسی جماعت یا مذہبی گروہ کی زیادتی کے خلاف بولنے کا حوصلہ بھی۔ جب دینی قیادت جماعتی وابستگی کے باعث ایک فریق کی ہر بات کو درست اور دوسرے کی ہر بات کو باطل قرار دینے لگتی ہے تو علمی غیر جانب داری ختم ہو جاتی ہے اور منبر کی اخلاقی قوت کمزور پڑ جاتی ہے۔

پاکستان کے قومی لائحۂ عمل میں مدارس کی رجسٹریشن اور انہیں منظم قومی نظام کے ساتھ مربوط کرنے پر زور اسی وسیع تر ضرورت کا حصہ ہے کہ مذہبی تعلیم کے اداروں کو غیر قانونی سرگرمیوں یا عسکریت پسند اثرورسوخ سے محفوظ رکھا جائے۔ اس عمل کو مذہب اور ریاست کے درمیان تصادم کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔ سورۃ المائدہ کی آیت 2 نیکی اور تقویٰ میں تعاون اور گناہ و زیادتی میں تعاون سے اجتناب کا اصول دیتی ہے۔ اسی روشنی میں ریاست، مدارس کی قیادت اور دینی علما کو باہمی اعتماد کے ساتھ ایسا نظام بنانا چاہیے جس میں مذہبی آزادی بھی محفوظ ہو اور قانون کی بالادستی بھی۔ نگرانی کا مقصد نصاب پر سیاسی قبضہ نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہونا چاہیے کہ کوئی ادارہ تشدد، نفرت یا غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

مسجد قبا کا قرآنی ذکر بھی ایک مختلف نمونہ پیش کرتا ہے۔ سورۃ التوبہ کی آیت 108 تقویٰ کی بنیاد پر قائم مسجد کی فضیلت بیان کرتی ہے۔ یہی روح پاکستان کی مساجد اور مدارس کی اصل شناخت ہونی چاہیے۔ مسجد عبادت، اصلاح، علم اور سماجی ہم آہنگی کی جگہ ہے۔ اسے انتخابی دفتر، سیاسی مخالفین کے خلاف مہم کے مرکز یا فرقہ وارانہ صف بندی کے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا مسجد کے وسیع تر روحانی کردار کو محدود کر دیتا ہے۔ اسی طرح مدرسے کا طالب علم سب سے پہلے علم کا طالب ہے، کسی جماعت کا کارکن نہیں۔ اسے فقہی بصیرت کے ساتھ تاریخ، شہری ذمہ داری، آئین، معاشرتی اخلاقیات اور جدید دنیا کے تقاضوں سے بھی روشناس ہونا چاہیے تاکہ وہ معاشرے میں مثبت اور باوقار کردار ادا کر سکے۔

سورۃ الاعراف کی آیت 56 زمین میں اصلاح کے بعد فساد پھیلانے سے منع کرتی ہے۔ آج پاکستان کو دہشت گردی، فرقہ واریت، سیاسی عدم برداشت اور سماجی تقسیم جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے ماحول میں مذہبی اداروں کو مزید تقسیم کا ذریعہ بنانے کے بجائے قومی مفاہمت کی قوت بننا چاہیے۔ دینی قیادت اگر تشدد کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرے، تکفیر اور نفرت انگیزی کی حوصلہ شکنی کرے اور سیاسی اختلاف کو آئینی و جمہوری حدود میں رکھنے کی تعلیم دے تو مدارس قومی استحکام میں غیر معمولی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

بالآخر مدارس کے تقدس کا تحفظ کسی ایک حکومت، ادارے یا مسلک کی ذمہ داری نہیں۔ یہ علما، ریاست، والدین، طلبہ اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان کو ایسے مدارس درکار ہیں جو علم میں مضبوط، کردار میں آزاد، مالی معاملات میں شفاف اور تشدد و جماعتی تسلط سے محفوظ ہوں۔ سورۃ النحل کی آیت 128 کا پیغام تقویٰ اور احسان سے وابستہ لوگوں کے لیے اللہ کی معیت کی نوید دیتا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر مذہبی اداروں کی اصل طاقت قائم رہ سکتی ہے۔ دین کو سیاسی طاقت کی سیڑھی بنانے کے بجائے سیاست اور معاشرت کو دینی اخلاقیات کے تابع کرنا زیادہ درست راستہ ہے۔ مدارس اگر اخلاص، علم، امن اور کردار کے مراکز رہیں تو ان کا تحفظ صرف اسلام کے تقدس کا تحفظ نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کے فکری، سماجی اور قومی استحکام کی بھی ضمانت بنے گا۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔