Nigah

آسام میں بلڈوزر کی سیاست

[post-views]

بھارت کی ریاست آسام کے ضلع گولپارہ میں کرشنائی کے علاقے سے سامنے آنے والے مناظر ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر رہے ہیں کہ ریاستی اختیار کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور شہری کے بنیادی حقوق کہاں سے شروع ہوتے ہیں۔ انتظامیہ نے حالیہ کارروائی میں 73 گھروں کو مسمار کر دیا۔ متاثرہ خاندان مسلمان تھے اور کارروائی ان بستیوں میں ہوئی جہاں لوگ برسوں سے رہائش پذیر تھے۔ سرکاری مؤقف یہ ہے کہ زمین زرعی نوعیت کی تھی اور اسے رہائشی استعمال میں تبدیل کرنے کے لیے مطلوبہ اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔ لیکن اصل تنازع صرف زمین کے استعمال کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا کسی انتظامی خلاف ورزی کا جواب پورا گھر گرا دینا ہونا چاہیے؟

گولپارہ انتظامیہ نے خود تسلیم کیا کہ متاثرہ لوگوں نے زمین خریدی تھی۔ اعتراض یہ تھا کہ انہوں نے زرعی زمین کو قانونی طور پر رہائشی درجہ دلوانے کی کارروائی مکمل نہیں کی۔ دوسری طرف متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس زمین کے قانونی کاغذات موجود تھے اور انہیں صرف 24 گھنٹے کا نوٹس دیا گیا۔ ایک ایسے گھر کو، جس میں ایک خاندان برسوں سے رہ رہا ہو، ایک دن کے اندر خالی کرنے کا حکم کسی معمولی انتظامی کارروائی کے مترادف نہیں۔ اس گھر میں فرنیچر ہی نہیں ہوتا، بچوں کی کتابیں، بزرگوں کی یادیں، زندگی بھر کی جمع پونجی اور پورے خاندان کا احساس تحفظ بھی موجود ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ گوہاٹی ہائی کورٹ کی مداخلت غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ عدالت نے 24 گھنٹے کے نوٹس کے بعد گھروں کی مسماری پر سوال اٹھاتے ہوئے حکام سے پوچھا کہ آخر ایسا کون سا فوری خطرہ موجود تھا جس کے باعث اتنی سخت کارروائی ضروری سمجھی گئی۔ عدالت نے ابتدائی طور پر انتظامیہ کے طرز عمل کو غیر قانونی اور فطری انصاف کے اصولوں سے متصادم قرار دینے کے قابل سمجھا اور یہ بھی نوٹ کیا کہ متاثرہ افراد کو مؤثر طور پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہ آبزرویشن صرف 73 گھروں کا معاملہ نہیں، بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے اس بنیادی اصول کا امتحان ہے جس کے مطابق انتظامیہ خود الزام لگانے والی، فیصلہ کرنے والی اور سزا نافذ کرنے والی قوت نہیں بن سکتی۔ (The Indian Express)

مزید اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے آسام کے متعلقہ لینڈ قانون کی اس شق کی طرف بھی توجہ دلائی جس کے تحت مخصوص حالات میں ایک بیگھہ تک زرعی زمین پر اپنی رہائش تعمیر کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کی اجازت لازمی نہیں ہوتی۔ عدالت نے ابھی یہ حتمی فیصلہ نہیں دیا کہ ہر متاثرہ مکان اس استثنا کے دائرے میں آتا تھا، لیکن یہی قانونی پیچیدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں تھا کہ صبح بلڈوزر پہنچا دیے جاتے اور شام تک بستیاں ملبے کا ڈھیر بن جاتیں۔

بھارت میں گزشتہ چند برسوں سے بلڈوزر صرف تعمیرات ہٹانے والی مشین نہیں رہا۔ یہ ایک سیاسی اور انتظامی علامت بنتا جا رہا ہے۔ مختلف ریاستوں میں گھروں اور املاک کی مسماری کے واقعات نے یہ بحث پیدا کی ہے کہ کہیں قانونی ضابطوں کو اجتماعی سزا یا طاقت کے اظہار کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا۔ خاص طور پر مسلم شہریوں سے متعلق متعدد واقعات نے انسانی حقوق کی تنظیموں، قانونی ماہرین اور عدالتوں میں تشویش پیدا کی ہے۔ ہر مسماری کو فرقہ وارانہ کارروائی قرار دینا درست نہیں ہوگا، لیکن جب ایک ہی کمیونٹی بار بار ایسی کارروائیوں کے مرکز میں دکھائی دے تو ریاست پر یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ شفافیت، یکساں قانون اور مکمل قانونی عمل کے ذریعے اپنے فیصلے کا جواز ثابت کرے۔

یہاں ایک بنیادی اصول نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی شہری نے لینڈ یوز کا ضابطہ توڑا ہے تو ریاست کے پاس جرمانے، ریگولرائزیشن، قانونی نوٹس، سماعت، اپیل اور عدالتی کارروائی جیسے متعدد راستے موجود ہوتے ہیں۔ انہدام آخری قدم ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔ یہی proportionality کا اصول ہے۔ معمولی یا قابل اصلاح انتظامی خلاف ورزی کا ایسا جواب جس سے پورا خاندان بے گھر ہو جائے، صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی سوال بھی پیدا کرتا ہے۔

یہ معاملہ اس لیے مزید حساس ہے کہ اطلاعات کے مطابق کارروائی ایک لینڈ پروٹیکشن کمیٹی کی شکایت کے بعد سامنے آئی، جس نے دوسرے اضلاع سے آنے والے افراد کی زمین خریدنے اور وہاں آباد ہونے پر اعتراض کیا تھا۔ انتظامیہ نے فرقہ وارانہ مقصد کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی زرعی زمین، آبی ذخائر اور قدرتی نکاسی کے تحفظ کے لیے کی گئی۔ اس موقف کو بھی سنا جانا چاہیے۔ ماحول، زرعی زمین اور پانی کے راستوں کا تحفظ ریاست کی جائز ذمہ داری ہے۔ مگر جائز مقصد بھی غیر متناسب یا غیر منصفانہ طریقۂ کار کو خودبخود جائز نہیں بناتا۔

اسی نکتے پر بھارت کی اپنی سپریم کورٹ کی سابقہ ہدایات اہم ہو جاتی ہیں۔ نومبر 2024 میں عدالت عظمیٰ نے انہدامی کارروائیوں کے لیے قانونی عمل، پیشگی نوٹس اور متاثرہ شخص کو اعتراض کا موقع دینے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ عدالت نے عمومی طور پر کم از کم 15 دن کے نوٹس کی اہمیت بیان کی اور واضح کیا کہ قانون کی حکمرانی میں ریاستی طاقت کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ اگر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ایک طرف شہریوں کے گھروں کے تحفظ کے لیے واضح اصول دے رہی ہے اور دوسری طرف کسی خاندان کو صرف 24 گھنٹے میں گھر خالی کرنے کو کہا جا رہا ہے تو اس تضاد کی وضاحت ضروری ہے۔

آسام کا واقعہ دراصل 73 خاندانوں سے بڑا معاملہ ہے۔ یہ ہندوستانی ریاست سے ایک بنیادی سوال پوچھتا ہے۔ اگر زمین شہری کی ملکیت ہے، خلاف ورزی قابل سماعت ہے اور عدالت جانے کا حق موجود ہے تو بلڈوزر اتنی جلدی کیوں پہنچتا ہے؟ قانون کا مقصد شہری کو خوف زدہ کرنا نہیں، اس کے اور ریاست کے درمیان انصاف کا فاصلہ کم کرنا ہے۔

کسی جمہوریت کی اصل پہچان اس وقت نہیں ہوتی جب اکثریت مطمئن ہو۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ریاست کسی کمزور، غیر مقبول یا اقلیتی گروہ کے حقوق سے نمٹ رہی ہو۔ گولپارہ کے ملبے سے اٹھنے والا سوال اسی لیے بھارت کی سرحدوں سے بڑا ہے۔ گھر گرانا چند گھنٹوں کا کام ہے، مگر قانون پر اعتماد ٹوٹ جائے تو اسے دوبارہ تعمیر کرنے میں نسلیں لگ سکتی ہیں۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔