کسی بھی حکومت کی تعلیمی ترجیحات کا اندازہ اس کے بیانات سے نہیں بلکہ اس کے سرکاری اسکولوں کی حالت سے لگایا جاتا ہے۔ جہاں بچے روزانہ پڑھنے کے لیے آتے ہوں لیکن کلاس روم محفوظ نہ ہوں، بجلی موجود نہ ہو، بنیادی سہولتیں غائب ہوں اور عمارت خود مرمت کی محتاج ہو، وہاں تعلیم کے لیے مختص بڑے اعداد اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ سندھ کے سرکاری تعلیمی نظام کے بارے میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر حکومت ہر سال تعلیم پر سینکڑوں ارب روپے خرچ کر رہی ہے تو پھر اس خرچ کا اثر عام بچے کے اسکول تک پوری طرح کیوں نہیں پہنچ رہا؟
سندھ کا تعلیمی بجٹ اب معمولی رقم نہیں رہا۔ مالی سال 2025۔26 کے لیے صوبائی حکومت نے تعلیمی شعبے کے لیے 613 ارب روپے سے زیادہ مختص کیے۔ یہ رقم کسی ایسے صوبے کے لیے یقیناً اہم ہے جہاں آبادی بڑی ہے، شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان تعلیمی فرق موجود ہے اور لاکھوں بچے سرکاری اداروں پر انحصار کرتے ہیں۔ مسئلہ بجٹ کی موجودگی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ بجٹ اور نتیجے کے درمیان فاصلہ بدستور بہت زیادہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سندھ میں چالیس ہزار سے زیادہ سرکاری اسکول موجود ہیں۔ ان میں بڑی تعداد ایسی ہے جہاں بجلی کی سہولت دستیاب نہیں۔ پانی، بیت الخلا، چار دیواری اور فرنیچر کے مسائل بھی کئی علاقوں میں برقرار ہیں۔ یہ صورت حال اس لیے زیادہ تشویش ناک ہے کیونکہ ہم کسی ہنگامی مرحلے کی بات نہیں کر رہے۔ سندھ میں موجودہ سیاسی انتظام کو طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ حکومتوں کو مسائل ورثے میں مل سکتے ہیں، لیکن طویل حکمرانی کے بعد وہی مسائل محض ورثہ نہیں رہتے، بلکہ حکمرانی کی کارکردگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔
18ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صوبوں کی ذمہ داری بنی۔ اس تبدیلی نے سندھ کو پالیسی سازی، انتظامی اختیار اور وسائل کے استعمال میں زیادہ آزادی دی۔ نظریاتی طور پر یہ ایک بڑا موقع تھا کیونکہ صوبہ اپنی ضروریات کے مطابق ترجیحات طے کرسکتا تھا۔ مگر اختیارات کی منتقلی کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ وفاق سے اختیار صوبائی دارالحکومت منتقل ہو جائے۔ اصل مقصد یہ تھا کہ فیصلے عوام کے قریب پہنچیں۔
اگر ضلع اپنے اسکول کی فوری مرمت کا فیصلہ نہیں کرسکتا، اگر مقامی ادارے بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے مؤثر وسائل نہیں رکھتے، اور اگر ایک معمولی ترقیاتی کام بھی اوپر کی سطح سے منظوری کا محتاج ہو، تو اختیارات کی منتقلی ادھوری رہتی ہے۔ سندھ کے تعلیمی مسئلے میں یہی پہلو بار بار سامنے آتا ہے۔ بجٹ صوبے کے پاس ہے، محکمے موجود ہیں، ترقیاتی منصوبے بھی بنتے ہیں، مگر مقامی سطح پر جواب دہی کا مؤثر نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔
تعلیم صرف اسکول کھول دینے کا نام نہیں۔ اسکول وہ جگہ ہے جہاں ریاست پہلی مرتبہ براہ راست ایک بچے کے مستقبل سے ملتی ہے۔ اگر وہاں بنیادی سہولت ہی موجود نہ ہو تو بچہ شروع سے یہ پیغام لیتا ہے کہ سرکاری نظام میں اس کی اہمیت محدود ہے۔ وہ بچہ جس کے والدین مہنگے نجی اسکول کی فیس ادا نہیں کرسکتے، اس کا جرم کیا ہے؟ کیا کم آمدن والے خاندان میں پیدا ہونا اس بات کی وجہ بن سکتا ہے کہ اسے کمزور عمارت، بجلی کے بغیر کلاس روم اور ناکافی سہولتوں والا تعلیمی ماحول ملے؟
سندھ حکومت یہ مؤقف اختیار کرسکتی ہے کہ تعلیمی بجٹ کا بڑا حصہ تنخواہوں، انتظامی اخراجات، کالجوں، جامعات اور دیگر اداروں پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پورے 613 ارب روپے اسکولوں کی تعمیر یا مرمت کے لیے نہیں ہوتے۔ لیکن یہی وضاحت ایک اور سوال پیدا کرتی ہے۔ اگر اتنی بڑی رقم مختلف مدات میں خرچ ہو رہی ہے تو عوام کو واضح طور پر کیوں نہ بتایا جائے کہ ہر ضلع اور ہر اسکول پر کتنا خرچ ہوا اور اس کے نتیجے میں کیا تبدیلی آئی؟
شفافیت کا مطلب صرف سالانہ بجٹ کتاب شائع کرنا نہیں۔ ہر سرکاری اسکول کی بنیادی معلومات عوام کے سامنے آنی چاہییں۔ کتنے بچے داخل ہیں، کتنے اساتذہ تعینات ہیں، عمارت کس حالت میں ہے، پانی اور بجلی دستیاب ہیں یا نہیں، کتنی رقم مرمت کے لیے دی گئی، کون سا منصوبہ کب شروع ہوا اور کب مکمل ہونا تھا۔ ایسا نظام نہ صرف بدعنوانی یا غفلت کے امکانات کم کرسکتا ہے بلکہ حکومت کو اپنی کامیابیاں ثابت کرنے کا موقع بھی دے سکتا ہے۔
اس کے ساتھ مقامی حکومتوں کا کردار بھی مضبوط کرنا ہوگا۔ کراچی میں بیٹھا محکمہ کسی دور دراز گاؤں کے اسکول کی ضرورت اتنی جلدی نہیں سمجھ سکتا جتنی مقامی سطح کی انتظامیہ یا کمیونٹی سمجھ سکتی ہے۔ چھوٹی مرمت، فرنیچر، پانی، صفائی اور بنیادی سہولتوں کے لیے الگ مقامی فنڈ اور واضح اختیار ضروری ہے۔ اس اختیار کے ساتھ سالانہ آڈٹ اور عوامی نگرانی بھی ہونی چاہیے۔
سندھ میں تعلیمی بحران کا حل صرف مزید رقم مختص کرنا نہیں۔ اگر انتظامی ڈھانچہ وہی رہا، اگر فیصلہ سازی وہی رہی اور اگر جواب دہی کمزور رہی تو اگلا بجٹ 700 ارب روپے تک بھی پہنچ جائے، تصویر لازماً نہیں بدلے گی۔
عوام کو اب یہ نہیں بتایا جانا چاہیے کہ تعلیم کے لیے کتنے ارب مختص کیے گئے۔ انہیں یہ بتایا جانا چاہیے کہ اس سال کتنے اسکول محفوظ ہوئے، کتنے اسکولوں میں بجلی پہنچی، کتنے بچوں کو فرنیچر ملا، کتنے بیت الخلا تعمیر ہوئے اور کتنی خستہ حال عمارتیں بحال کی گئیں۔
اصل کامیابی بجٹ کا حجم نہیں، بچے کا تجربہ ہے۔ سندھ کا تعلیمی نظام اس دن بہتر سمجھا جائے گا جب ایک غریب خاندان اپنے بچے کو سرکاری اسکول بھیجتے ہوئے یہ محسوس کرے کہ وہ کسی کم درجے کے ادارے میں نہیں بلکہ ایسے اسکول میں جا رہا ہے جہاں ریاست اس کی تعلیم، حفاظت اور عزت تینوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔
Author
-
View all posts
Dr. Shahzaib Khan is a scholar of Political Science whose academic interests span political institutions, governance, public policy, comparative politics, and contemporary political developments. His work examines how states, institutions, and societies respond to evolving domestic and international challenges, with particular attention to political change, decision making, and democratic governance.