Nigah

تحریکِ انصاف سے تحریکِ انتشار تک؟

[post-views]

پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے اختلاف کرتی ہیں۔ اختلاف جمہوریت کی روح ہے۔ اصل مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب اصول اقتدار اور اپوزیشن کے ساتھ بدلنے لگیں۔ جو قانون حکومت میں رہتے ہوئے مخالف کے لیے درست سمجھا جائے، وہی قانون اپوزیشن میں آکر ظلم قرار پائے تو عوام کے ذہن میں ایک بنیادی سوال ضرور جنم لیتا ہے کہ ہماری سیاست میں اصول مستقل ہیں یا صرف سیاسی ضرورت کے تابع؟

پاکستان تحریک انصاف کو کبھی روایتی سیاست کے مقابلے میں تبدیلی، انصاف اور احتساب کی تحریک کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ آج اس کے ناقدین اسی جماعت پر الزام لگاتے ہیں کہ اس کی سیاست بتدریج محاذ آرائی اور انتشار کے گرد گھوم رہی ہے۔ ’’تحریکِ انصاف‘‘ کو ’’تحریکِ انتشار‘‘ کہنا یقیناً سیاسی مخالفین کا سخت اور متنازع بیانیہ ہے، مگر اس تنقید کے پیچھے موجود سوال کو محض سیاسی نعرہ کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا جماعت کی موجودہ سیاست اداروں، عدالتوں اور ریاست سے ایک ایسے مستقل تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے جس کا نقصان خود اس کے کارکنوں اور مجموعی سیاسی نظام کو پہنچ سکتا ہے؟

اس بحث کا سب سے حساس پہلو انصاف کی مساوات ہے۔ آئین اور قانون کی روح یہی ہے کہ سیاسی حیثیت، مقبولیت یا جماعتی منصب سے قطع نظر ہر شہری کے بنیادی حقوق یکساں ہوں۔ اگر کسی سیاسی رہنما کو قانونی، عدالتی یا طبی سہولت ملتی ہے تو اصولاً وہ سہولت قانون کے تحت دیگر قیدیوں اور کارکنوں کے لیے بھی دستیاب ہونی چاہیے۔ دوسری طرف کسی عدالتی ریلیف کو بذاتِ خود امتیازی سلوک قرار دینا بھی درست نہیں، کیونکہ عدالت کو ہر درخواست اس کے قانونی میرٹ پر دیکھنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2 ستمبر 2026 کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں نہ رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے قیدیوں کے وقار اور انسانی سلوک کے حق پر زور دیا۔ اسی طرح 15 ستمبر کو وفاقی آئینی عدالت نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق زیر التوا مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا۔

یہ سوال ہمیں 2019 کی طرف لے جاتا ہے۔ اس وقت نواز شریف قید میں تھے اور ان کی صحت اور علاج پر شدید سیاسی کشمکش جاری تھی۔ تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں نے مسلم لیگ ن پر نواز شریف کی بیماری کو سیاسی رنگ دینے کا الزام لگایا تھا۔ مارچ 2019 میں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما کی طرف سے کہا گیا تھا کہ شریف خاندان بیماری کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے اور بیرون ملک علاج کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے۔  اس دور میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نواز شریف کے علاج، ہسپتال منتقلی اور بیرون ملک جانے کے معاملے پر مسلسل تنازع رہا۔

لیکن تاریخ ہمیشہ ایک ہی زاویے سے نہیں دیکھی جاسکتی۔ ریکارڈ یہ بھی بتاتا ہے کہ مارچ 2019 میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے پنجاب حکومت کو ہدایت دی تھی کہ نواز شریف کو ان کی پسند کے ڈاکٹر اور ہسپتال تک رسائی دی جائے۔  مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ فروری 2026 میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں نے خود موجودہ حکومت کو یاد دلایا کہ ان کی حکومت نے 2019 میں نواز شریف کو علاج کی سہولتیں فراہم کی تھیں اور ان کے ذاتی معالج کو میڈیکل بورڈ کے معاملات میں شامل کیا گیا تھا۔

یہ حقائق سیاسی بحث کو زیادہ سنجیدہ بناتے ہیں۔ تاریخ کو صرف اپنی سہولت کے حصے تک محدود کرنا کسی بھی جماعت کے لیے خطرناک ہے۔ اگر ایک دور میں مخالف رہنما کی بیماری پر طنز، شکوک یا سیاسی الزامات نامناسب تھے تو آج کسی دوسرے رہنما کی بیماری یا طبی ضرورت کو بھی سیاسی مذاق نہیں بنایا جانا چاہیے۔ بیماری نہ سیاسی جماعت دیکھتی ہے، نہ حکومت اور اپوزیشن۔

اسی طرح جمہوری اقدار کا معیار بھی صرف اپوزیشن کے زمانے میں متعین نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کی تقریباً ہر بڑی جماعت اقتدار میں رہتے ہوئے ریاستی اداروں کے کردار، احتساب، گرفتاریوں اور مخالفین کے خلاف مقدمات پر مختلف مؤقف اختیار کرتی رہی ہے اور اپوزیشن میں آنے کے بعد اسی نظام پر اعتراض کرتی رہی ہے۔ تحریک انصاف بھی اس تضاد سے مکمل طور پر مبرا نہیں۔ اس کے دور حکومت میں اپوزیشن جماعتیں احتسابی عمل کو سیاسی انتقام قرار دیتی تھیں، جبکہ حکومت اسے بلاامتیاز احتساب کہتی تھی۔ آج تحریک انصاف خود اپنے خلاف مقدمات اور گرفتاریوں کو سیاسی بنیادوں پر ہونے والی کارروائیاں قرار دیتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں کسی ایک شخصیت سے زیادہ سیاسی اصول اہم ہوجاتا ہے۔ ایک جمہوری جماعت کی طاقت صرف مقبول لیڈر نہیں بلکہ وہ اصول ہوتے ہیں جنہیں وہ اپنے لیے بھی قبول کرے اور اپنے مخالف کے لیے بھی۔ اگر آزادی اظہار اچھی چیز ہے تو مخالف کی آزادی اظہار بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر طبی بنیاد پر انسانی سلوک ایک حق ہے تو یہ حق صرف پارٹی سربراہ کا نہیں بلکہ کارکن، مخالف اور عام قیدی کا بھی ہے۔ اگر عدالتی ریلیف قانون کا جائز حصہ ہے تو پھر مخالف جماعت کے رہنما کو ملنے والے قانونی ریلیف کو محض این آر او کہہ دینا بھی سیاسی دیانت کے معیار پر سوال اٹھاتا ہے۔

پاکستانی عوام پہلے کی نسبت کہیں زیادہ سیاسی طور پر باخبر ہیں۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل ریکارڈ اور پرانے بیانات نے سیاست دانوں کے لیے اپنے ماضی سے لاتعلق ہونا مشکل بنا دیا ہے۔ آج کی تقریر چند سال بعد دوبارہ سامنے آجاتی ہے، اور کل جس عمل کا مذاق اڑایا گیا ہو، وقت کا پہیہ گھومنے پر وہی ضرورت اپنے دروازے پر کھڑی ہوسکتی ہے۔

پاکستان کو اس وقت مزید سیاسی تلخی سے زیادہ اصولی سیاست کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف ہو، مسلم لیگ ن ہو، پیپلز پارٹی ہو یا کوئی دوسری جماعت، ایک ہی پیمانہ سب پر لاگو ہونا چاہیے۔ سیاسی قیادت کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اقتدار عارضی ہے، اپوزیشن عارضی ہے، مگر بنائے گئے سیاسی اور قانونی معیار دیر تک زندہ رہتے ہیں۔ اصل امتحان یہ نہیں کہ آپ اپنے رہنما کے لیے انصاف مانگتے ہیں یا نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا آپ وہی انصاف اپنے سیاسی مخالف کے لیے بھی قبول کرنے کو تیار ہیں۔

Author

  • Dr. Muhammad Sudais

    Muhammad Sudais is pursuing a PhD in International Relations, with a research focus on United States interests and strategic engagement in Asia. His academic work examines American foreign policy, regional power competition, security dynamics, and the evolving geopolitical importance of Asia within the broader international system.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔