پاکستان میں اختیارات کی تقسیم کا مسئلہ ہمیشہ اسلام آباد اور صوبوں کے تعلق تک محدود نہیں رہا۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ صوبائی دارالحکومت اور عام شہری کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم نے وفاق سے صوبوں کی طرف اختیارات کی منتقلی کا ایک بڑا مرحلہ مکمل کیا، جبکہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ نے صوبوں کا قابل تقسیم محاصل میں حصہ مالی سال 2011-12 سے بڑھا کر 57.5 فیصد کردیا۔ یہ پاکستانی وفاقیت میں ایک بنیادی تبدیلی تھی، لیکن اختیارات کی منتقلی کا سفر صوبائی دارالحکومتوں پر آ کر بڑی حد تک رک گیا۔
آئین کا آرٹیکل 140A صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کا نظام قائم کریں اور منتخب نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار منتقل کریں۔ آئینی زبان بہت واضح ہے، مگر عملی سوال یہ ہے کہ میئر، چیئرمین، ضلع اور تحصیل کی سطح پر منتخب اداروں کے پاس کتنی مالی اور انتظامی خودمختاری موجود ہے۔ جب صفائی، پانی، شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ یا ترقیاتی منصوبوں کے اہم فیصلے بھی صوبائی محکموں اور اتھارٹیز کے ذریعے ہوں تو شہری کے لیے حکومت قریب ہونے کے باوجود دور رہتی ہے۔
اسی پس منظر میں پاکستان میں مزید صوبوں کی بحث کو صرف لسانی یا سیاسی نعرے کے طور پر دیکھنا شاید تصویر کا ایک حصہ ہے۔ آبادی کا حجم خود انتظامی سوالات پیدا کر رہا ہے۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ تھی۔ بہاولپور ڈویژن میں تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ، ڈیرہ غازی خان میں تقریباً 1 کروڑ 29 لاکھ اور ملتان میں تقریباً 1 کروڑ 41 لاکھ افراد آباد تھے۔ ان تینوں ڈویژنوں کو جمع کیا جائے تو جنوبی پنجاب کی اس پٹی کی آبادی چار کروڑ سے زیادہ بنتی ہے۔
یہ محض آبادی کا مسئلہ بھی نہیں۔ اسی مردم شماری کی صوبائی رپورٹ کے مطابق لاہور ڈویژن میں شرح خواندگی 73.63 فیصد تھی، جبکہ بہاولپور میں 52.13 فیصد اور ڈیرہ غازی خان میں صرف 48 فیصد رہی۔ ملتان میں شرح خواندگی 59.43 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد یہ ثابت نہیں کرتے کہ نئی صوبائی حد بندی خود بخود تعلیم بہتر کردے گی، لیکن وہ یہ ضرور دکھاتے ہیں کہ ایک ہی صوبے کے اندر ترقیاتی نتائج میں نمایاں فرق موجود ہے اور صوبائی اوسط اکثر ان اندرونی تفاوت کو چھپا دیتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب جیسے خطوں میں انتظامی خودمختاری کی بحث وقفے وقفے سے دوبارہ سامنے آتی ہے۔ ہزارہ میں بھی الگ صوبے کا مطالبہ موجود ہے۔ یکم دسمبر 2025 کو خیبر پختونخوا اسمبلی نے وفاقی حکومت سے صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے آئینی عمل شروع کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔ یہ مطالبات اپنے پس منظر اور سیاسی محرکات میں ایک جیسے نہیں، مگر دونوں یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ کیا موجودہ صوبائی نقشہ آج کی آبادی، معیشت اور انتظامی ضروریات سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔
تاہم نقشے پر نئی لکیر کھینچ دینا بذات خود اچھی حکمرانی کی ضمانت نہیں۔ اگر ایک نیا صوبہ تشکیل پاتا ہے اور پھر تمام اختیارات نئے صوبائی دارالحکومت میں جمع ہوجاتے ہیں تو مسئلہ صرف جغرافیائی طور پر منتقل ہوگا۔ لاہور کی جگہ ملتان، پشاور کی جگہ ایبٹ آباد یا کسی دوسرے شہر میں طاقت کا ارتکاز شہری کے لیے بنیادی تبدیلی نہیں ہوگا اگر ضلع، تحصیل اور یونین کونسل مالی وسائل اور انتظامی اختیار سے محروم رہیں۔
اسی لیے نئے صوبوں کی بحث کو مقامی حکومتوں کے سوال سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی انتظامی اصلاح پر غور ہو تو اس کے ساتھ یہ دیکھنا ہوگا کہ صوبائی مالیاتی کمیشن کیسے کام کرے گا، مقامی حکومتوں کو کتنے وسائل ملیں گے، ان کے انتخابات کتنی باقاعدگی سے ہوں گے، افسران اور شہری اداروں پر ان کا اختیار کیا ہوگا، اور مقامی سطح پر جمع ہونے والے ٹیکس کا کتنا حصہ وہ خود استعمال کرسکیں گے۔ محض منتخب کونسل بنا دینا کافی نہیں اگر بجٹ، ملازمین اور فیصلے کسی دوسرے درجے کی حکومت کے پاس رہیں۔
قومی مالیاتی کمیشن بھی اس بحث کا اہم حصہ ہے۔ ساتویں NFC ایوارڈ میں صوبوں کے درمیان تقسیم کے لیے آبادی کو 82 فیصد وزن دیا گیا، غربت اور پسماندگی کو 10.3 فیصد، محصولات کی پیداوار کو 5 فیصد اور inverse population density کو 2.7 فیصد وزن ملا۔ اسی فارمولے کے تحت پنجاب کا حصہ 51.74 فیصد، سندھ کا 24.55 فیصد، خیبر پختونخوا کا 14.62 فیصد اور بلوچستان کا 9.09 فیصد مقرر ہوا۔
یہ فارمولہ اپنے وقت میں اہم پیش رفت تھا کیونکہ پہلی مرتبہ آبادی کے علاوہ دوسرے اشاریوں کو بھی قابل ذکر وزن دیا گیا۔ لیکن ایک بڑا صوبہ مالیاتی کمیشن میں ایک ہی اکائی کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اس کے اندر کسی پسماندہ خطے کی غربت، کم شرح خواندگی یا کمزور انفراسٹرکچر صوبائی اوسط میں مدغم ہوسکتا ہے۔ اگر کبھی نئے صوبے تشکیل پاتے ہیں تو لازماً NFC، سینیٹ، مشترکہ مفادات کونسل، اثاثوں، سرکاری ملازمین، پانی اور قرضوں کی تقسیم جیسے پیچیدہ معاملات بھی دوبارہ طے کرنا ہوں گے۔
یہاں احتیاط کی ضرورت بھی ہے۔ نئے صوبے بنانے سے نئی اسمبلیاں، سیکرٹریٹ، بیوروکریسی اور انتظامی اخراجات پیدا ہوں گے۔ سیاسی سرحدیں لسانی یا نسلی مسابقت کو بھی بڑھا سکتی ہیں اگر ان کے لیے واضح اور یکساں معیار نہ بنایا جائے۔ دوسری طرف، انتظامی فاصلے، علاقائی پسماندگی اور سیاسی نمائندگی کے حقیقی مسائل کو محض اس خوف سے نظر انداز کرنا بھی مسئلے کو ختم نہیں کرتا۔
اس لیے پاکستان میں وفاقی تنظیمِ نو کی بحث کا زیادہ مفید راستہ جذباتی نعروں کے بجائے واضح اصولوں سے نکلتا ہے۔ آبادی کتنی ہو، معاشی وسائل کیا ہوں، جغرافیائی تسلسل موجود ہو یا نہیں، انتظامی مرکز کہاں ہو، مقامی آبادی کی حمایت کتنی ہو، مالی خود کفالت کی سطح کیا ہو اور نئی اکائی وفاقی اداروں میں کس طرح نمائندگی حاصل کرے، یہ سب سوال پہلے طے ہونے چاہئیں۔
پاکستان کی آبادی اور شہری ضروریات اس سطح تک پہنچ چکی ہیں جہاں حکومت کی قربت خود ایک گورننس مسئلہ بن گئی ہے۔ بحث صرف یہ نہیں کہ صوبے چار رہیں یا زیادہ ہوں۔ زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ اختیار کہاں بیٹھا ہے، پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے اور شہری اپنے روزمرہ مسائل کے لیے کس دروازے پر دستک دیتا ہے۔
کسی بھی نئی آئینی ترتیب کی کامیابی کا معیار نقشے پر صوبوں کی تعداد نہیں ہوگا۔ اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ کیا شہری کے قریب موجود ادارے کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار، خرچ کرنے کے وسائل اور عوام کے سامنے جواب دہی بھی موجود ہے۔ پاکستان کے وفاقی مستقبل کے بارے میں فیصلہ پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلیوں نے کرنا ہے، لیکن اس بحث کی بنیاد ایک اصول پر رکھی جا سکتی ہے: حکومت جتنی شہری کے قریب ہوگی، اس کی کارکردگی اور جواب دہی کو جانچنا اتنا ہی آسان ہوگا۔
Author
-
View all posts
Zubair Gul is a lecturer and researcher with a particular interest in the China-Pakistan Economic Corridor, regional connectivity, development cooperation, and Pakistan-China relations. His academic work focuses on CPEC’s economic and strategic dimensions, infrastructure development, regional integration, and its broader implications for Pakistan’s growth and regional engagement.