Nigah

طالبان کے روایتی گڑھوں میں مزاحمت کی دستک

[post-views]

افغانستان میں حالیہ دنوں کے دوران مسلح مزاحمتی گروہوں کی سرگرمیوں کا جغرافیائی پھیلاؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب طالبان ملک پر اپنی سکیورٹی گرفت کو مضبوط اور مستحکم ظاہر کرتے رہے ہیں۔ قندھار، ہلمند، غور اور پنجشیر جیسے ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر واقع صوبوں میں طالبان اہلکاروں اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر رہے ہیں کہ افغانستان میں مسلح مخالفت کی حقیقی نوعیت کیا ہے۔ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایسی کارروائیاں طالبان کے مجموعی کنٹرول کے لیے فوری خطرہ بن گئی ہیں، لیکن ان کا تسلسل اور پھیلاؤ اس بات کی طرف ضرور اشارہ کرتا ہے کہ مسلح مخالفت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

اس سلسلے میں سب سے زیادہ توجہ 16 ستمبر کو قندھار میں ہونے والی کارروائی کے دعوے نے حاصل کی۔ افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے کہا کہ اس کے جنگجوؤں نے قندھار شہر کے باغِ پل بازار کے علاقے میں طالبان پولیس کے ایک اہلکار کو نشانہ بنایا۔ آزاد ذرائع سے اس دعوے کی مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم واقعہ اہم اس لیے ہے کہ قندھار طالبان کی سیاسی، مذہبی اور تنظیمی طاقت کا بنیادی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ کسی مخالف مسلح گروہ کی جانب سے قندھار شہر کے اندر کارروائی کا دعویٰ اپنی عملی اہمیت سے زیادہ علامتی وزن رکھتا ہے۔

اس سے ایک روز قبل افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے ہلمند کے ضلع نوزاد میں طالبان کی ایک چوکی کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا تھا۔ گروپ کے مطابق اس حملے میں دو طالبان اہلکار مارے گئے اور دو کلاشنکوف رائفلیں بھی قبضے میں لی گئیں۔ دستیاب رپورٹنگ واضح کرتی ہے کہ ہلاکتوں کی یہ تعداد خود یونائیٹڈ فرنٹ کا دعویٰ ہے، اس لیے اسے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ جانی نقصان نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کے باوجود ہلمند میں ایسی کارروائی کا دعویٰ قابل توجہ ہے، کیونکہ جنوبی افغانستان کو عمومی طور پر طالبان کے نسبتاً مضبوط اثر و رسوخ کا علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

مغربی افغانستان کے صوبہ غور میں بھی 12 ستمبر کو ایک اہم واقعہ رپورٹ ہوا۔ افغانستان فریڈم فرنٹ نے دعویٰ کیا کہ فیروز کوہ میں صوبائی پولیس کمانڈ سے منسلک مقام پر طالبان کے سکیورٹی اور امر بالمعروف اہلکاروں کے ایک اجلاس کو نشانہ بنایا گیا، جس میں تین طالبان اہلکار مارے گئے اور تین زخمی ہوئے۔ اس حملے کے بارے میں مقامی ذرائع نے فیروز کوہ میں دھماکے کی اطلاع تو دی، لیکن ہلاکتوں کی تفصیل بنیادی طور پر فریڈم فرنٹ کے دعوے سے سامنے آئی ہے۔ یہی فرق افغانستان میں جاری غیر روایتی جنگ کو سمجھنے کے لیے اہم ہے، جہاں عسکری دعوے، اطلاعاتی جنگ اور زمینی حقیقت اکثر ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔

پنجشیر کی صورتحال اس مجموعی تصویر کا ایک اور اہم حصہ ہے۔ افغانستان گرین ٹرینڈ گزشتہ کئی ماہ سے طالبان فورسز اور گاڑیوں کے خلاف کارروائیوں کے دعوے کرتا رہا ہے۔ جون میں بھی طالبان نے پنجشیر میں اپنی سکیورٹی موجودگی بڑھائی، اضافی چوکیوں کا قیام عمل میں لایا اور بعض علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندیاں سخت کیں۔ یہ اقدامات مخالف گروہوں کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی سکیورٹی تشویش کی نشاندہی کرتے ہیں، اگرچہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ طالبان کا صوبے پر انتظامی کنٹرول ختم ہو رہا ہے۔

اصل سوال کسی ایک حملے یا کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ جغرافیائی وسعت کا ہے۔ جب جنوبی افغانستان میں قندھار اور ہلمند، وسطی و مغربی حصوں میں غور اور شمال مشرق میں پنجشیر جیسے علاقوں سے مسلح کارروائیوں کے دعوے مسلسل سامنے آئیں تو طالبان کے سکیورٹی اداروں کو بیک وقت مختلف نوعیت کے خطرات پر توجہ دینا پڑتی ہے۔ چھوٹے حملے بھی ایسی حکومت کے لیے وسائل، افرادی قوت اور انٹیلی جنس صلاحیتوں پر اضافی بوجھ پیدا کر سکتے ہیں جسے وسیع جغرافیے میں سکیورٹی قائم رکھنا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مزاحمت کی قوت کو صرف ہلاکتوں کی تعداد سے ناپنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔

اس کے باوجود زمینی حقیقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔ اقوام متحدہ کی جون 2026 کی رپورٹ کے مطابق فروری سے اپریل کے دوران افغانستان فریڈم فرنٹ، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغانستان گرین ٹرینڈ اور دیگر مسلح مخالف گروہوں نے مختلف صوبوں میں متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی، جن میں سے کئی کی تصدیق بھی ہوئی، لیکن اقوام متحدہ نے اس مدت میں واضح کیا تھا کہ ان گروہوں نے طالبان حکام کے قومی سطح کے علاقائی کنٹرول کے لیے کوئی نمایاں خطرہ پیدا نہیں کیا تھا۔ یہ نکتہ آج کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے بھی اہم ہے۔ مسلح کارروائیوں میں اضافہ اور علاقائی کنٹرول کا خاتمہ دو مختلف چیزیں ہیں۔

طالبان کے لیے مسئلہ شاید فوری طور پر علاقے کھونے سے زیادہ سکیورٹی کے اس تصور کو برقرار رکھنے کا ہے جسے انہوں نے 2021 کے بعد اپنی حکمرانی کی اہم کامیابی کے طور پر پیش کیا۔ اگر قندھار جیسے مرکزی شہر سے لے کر پنجشیر کی وادیوں اور ہلمند کے اضلاع تک مخالف گروہ کارروائیوں کی صلاحیت دکھاتے رہیں، تو کم از کم یہ تاثر ضرور متاثر ہوتا ہے کہ مسلح مخالفت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ دوسری طرف مزاحمتی گروہوں کے لیے بھی محض حملے کرنا کافی نہیں۔ انہیں سیاسی تنظیم، عوامی حمایت، مستقل مقامی موجودگی اور ایسا قابل عمل سیاسی متبادل درکار ہوگا جو محدود عسکری کارروائیوں کو وسیع تر سیاسی قوت میں تبدیل کر سکے۔

افغانستان کا حالیہ منظرنامہ اسی تضاد کی عکاسی کرتا ہے۔ طالبان بدستور ملک کے بیشتر انتظامی ڈھانچے، شہروں اور سرکاری اداروں پر قابض ہیں، لیکن ان کے خلاف مسلح سرگرمیاں مختلف علاقوں میں برقرار ہیں۔ قندھار سے پنجشیر اور ہلمند سے غور تک سامنے آنے والے واقعات طالبان کی فوری شکست کی علامت نہیں، لیکن یہ اس دعوے کو ضرور پیچیدہ بناتے ہیں کہ افغانستان میں منظم مسلح مخالفت ختم ہو چکی ہے۔ اگر یہ کارروائیاں وقتی واقعات کے بجائے مسلسل جغرافیائی پھیلاؤ اختیار کرتی ہیں تو طالبان کو صرف عسکری ردعمل نہیں بلکہ سیاسی قبولیت، مقامی شکایات، حکمرانی کے طریقہ کار اور داخلی استحکام کے وسیع تر سوالات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ افغانستان کی آئندہ سمت کا تعین اسی بات سے ہوگا کہ یہ بڑھتا ہوا سکیورٹی دباؤ محدود شور ثابت ہوتا ہے یا کسی زیادہ منظم سیاسی اور عسکری چیلنج کی بنیاد بنتا ہے۔

Author

  • Professor Dr. Hamid Gul is an academic and international affairs expert with extensive knowledge of security, climate change, politics, and economic issues. He is currently serving as a professor at Central Asian University, where he contributes to teaching, research, and policy-oriented discussion on regional and international issues.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔